مقالات

 

حدیث بساط

شعور ولایت فاؤنڈیشن

مرحوم کفعمی اور علامہ مجلسیؒ کی نقل کے مطابق حدیث بساط(امیرالمومنین کا اصحاب غار کی جانب قالین کے ذریعہ سفر کرنا)٢١یا٢٧ذی الحجہ میں صادر ہوئی ہے۔ (١)
یہ واقعہ مقدس اردبیلی نے کچھ اس انداز سے بیان کیا ہے: ''ابن جعدہ سے منقول ہے کہ میں بصرہ میں تھا، میں رسول اسلام(ص) کے خادم ''انس بن مالک'' کی بزم میں پہنچا، اسی وقت اس محفل میں ایک شخص کھڑا ہوا اوراس نے کہا: اے انس! اے وہ کہ جس نے رسول خدا(ص) کی صحبت اختیار کی ، یہ کوڑھ کی بیماری جو تمہارے جسم سے نمایاں ہے ، یہ کیسے ہوا ؟ حالانکہ رسول خدا(ص) سے منقول ہے کہ کوئی مومن برص و جذام میں مبتلا نہیں ہوتا!۔ انس نے سر جھکالیا اور آنکھوں سے سیل اشک جاری کرتے ہوئے کہا: ایک نیک انسان کی بد دعا کا اثرہے۔ لوگوں نے ماجرا دریافت کیا، لیکن انس نے خجالت کے پیش نظر بیان سے گریز کیا، جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو انس نے حدیث بساط کو نقل کیا جس کو کچھ اس انداز سے نقل کیا جاتا ہے: ایک روز رسول خدا(ص) کی خدمت میں ہدیہ کے عنوان سے ایک قالین لایا گیا، آنحضرت نے مجھے طلب کیا اور فرمایا: ان دس افراد (ابوبکر، عمر، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، و...) کو بلا لائو، جب وہ سب آگئے تو حضوراکرم(ص) نے امیرالمومنین علی سے فرمایا: ان دس افراد کو اس فرش پر سوار کرو اور اصحاب کہف کی زیارت کرا لائو، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اے انس! تم بھی ان سب کے ساتھ جائو اور جو کچھ بھی دیکھو واپسی پر مجھ سے بیان کرنا۔
جب سب لوگ اس قالین پر سوار ہوگئے تو امیر المومنین علی نے ہوا سے خطاب کیا: یاریح! حملینا و سیروا علیٰ برکة اللّٰہ''اے ہوا خدا کی برکت سے ہمیں حرکت دیکر روانہ کر!''۔ ہوا نے فرش کو زمین سے اٹھایااور فضا میں اڑنے لگی ، مختلف مقامات کی سیر کراتی رہی یہاں تک کہ امیرالمومنین علی کے فرمان پرقالین کو زمین پر رکھ دیا، زمین پر پہنچنے کے بعد امیر المومنین علی نے ہم سے سوال کیا: کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون سا مقام ہے؟ ہم نے کہا :خداورسول اور اس کے وصی ہی بہتر جانتے ہیں۔ علی نے فرمایا: یہ اصحاب کہف کی سرزمین ہے، اٹھو اور ان کے نزدیک پہنچ کر ان کی خدمت میں سلام عقیدت پیش کرو۔ جب ہم غار میں پہنچے تو پہلے ابوبکرپھر عمراورپھر باقی افراد نے اصحاب کہف کی خدمت میں سلام خلوص پیش کیا، سلام کے جملے یہ تھے:السلام علیکم یا اصحاب الکہف و الرقیم'' ۔پھر میں آگے بڑھا اور ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا :''السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ أنا انس خادم رسول اللہ(ص) یا اصحاب الکہف!'' ۔لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیاتو امیر المومنین علی آگے بڑھے اور اس انداز سے سلام کیا: ''السلام علیکم یا اصحاب الکہف و الرقیم الذین کانوا من آیاتنا عجبا! '' ۔اچانک تمام اصحاب کہف کی آواز آئی: ''وعلیک السلام یا وصی رسول اللہ و رحمة اللہ و بر کاتہ'' ۔
امیر المومنین علیؑ نے اصحاب کہف سے سوال کیا: اے اصحاب کہف! دوسرے لوگوں کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟ اصحاب کہف نے جواب دیا: اے وصی رسول! ہم وہ گروہ ہیں جو باایمان ہے اور خدا نے بھی ہمارے حق میں اپنی ہدایت کا اضافہ فرمایا ہے، ہمیں ہر کسی کے سلام کا جواب دینے کی اجازت نہیں ہے سوائے اس کے کہ سلام کرنے والا خود پیغمبر ہو یا وصی پیغمبر ہو، ہم نے آپ کے سلام کا جواب بھی اسی لئے دیا ہے کہ آپ پیغمبرخدا خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ(ص) کے وصی، جانشین اور سید الاوصیاء ہیں۔
علی نے ہماری طرف مخاطب ہوکر پوچھا: کیا تم سب لوگوں نے سنا؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں! امیرالمومنین! ہم نے سنا۔ پھر علی نے حکم دیا چلو اب سب قالین پر سوار ہوجائو تاکہ واپس چلیں؛ ہم نماز صبح کے وقت مدینہ پہنچ گئے اور رسول خدا(ص) کی اقتدا میں نماز صبح ادا کی ، ابھی ہم تعقیبات و نوافل میں ہی مشغول تھے کہ رسول خدا(ص) نے میری جانب رخ کرکے سوال کیا: اے انس! جو کچھ تم نے دورانِ سفرمشاہدہ کیا، وہ سب کچھ تم اپنی زبان سے بیان کروگے یا میں بیان کروں؟ میں نے کہا: اے خداکے رسول! آپ شیریں سخن ہیں، آپ ہی بیان کیجئے۔ حضوراکرم(ص) نے آغاز سے انجام تک پوری داستان شاہد عینی کے عنوان سے سنا ڈالی؛ داستان کے بعد مجھ سے خطاب کیا: اے انس! اگر میرے چچازاد بھائی (علی ) کے متعلق گواہی طلب کی جائے کہ ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تو کیا تم گواہی دوگے؟ میں نے کہا: جی ہاں! خدا کے رسول!۔
جابر بن عبد اللہ اور سلمان فارسی کا بیان ہے کہ جب رسول اسلام(ص) نے قالین پر سوار ہر انسان سے الگ الگ سوال کرلیاتو فرمایا: میں خدا کی جانب سے مامور ہوں کہ تم سب سے علی کی بیعت لوںاور یہ اقرار لوں کہ تم سب علی کی اطاعت کروگے اور اس مطلب کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے :(یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْا الْرَّسُوْلَ وَ اُوْلِیْ الْاَمْرِ مِنْکُمْ) ''اے صاحبان ایمان! خدا، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو''۔(2)
انس سے منقول ہے: رسول خدا(ص) کی رحلت اور غصب خلافت کے بعد، ایک روز کثیر مجمع کے درمیان علی نے مجھ سے فرمایا: اے انس! حدیث بساط کو بیان کرو! میں نے کہا: اے علی! میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری تمام یادداشت ختم ہوچکی ہے؛ امیر المومنین نے فرمایا: اگر تم رسول خدا(ص) کی گواہی چھپائو اور حدیث بساط کے بیان میں کوتاہی سے کام لو تو خدا تمہیں سفید داغ میں مبتلا کرے، تمہارے اندر آگ روشن کرے اور تمہاری آنکھوں کی بینائی چھین لے، اس طرح سے کہ اگر تم کسی سے چھپانا بھی چاہوتو چھپا نہ پائو، میں ابھی اس بزم سے اٹھا بھی نہیں تھاکہ تینوں بیماریوں میں مبتلا ہوگیا۔ انس اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ دنیا سے چل بسے ''۔(3)

حدیث بساط کی سند
حدیث بساط ایسی معتبر حدیث ہے جس کو اکثر علمائے اعلام نے کثیر اور متعدد طرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (4)
انس بن مالک کی روایت کو رسول خدا(ص) کے زمانے میں حدیث بساط(فرش۔قالین) اور امیر المومنین علی کے دور میں سلمان فارسیسے حدیث غمام(بادل) کے عنوان سے منقول ہے۔ متن کے اختلاف کے پیش نظر ممکن ہے کہ یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا ہواور دو کیفیتوںمیں واقع ہوا ہو!۔ فضائل و مناقب امیر المومنین علی سے مربوط کتب میں ٢١ یا ٢٧ ذی الحجہ کو یوم البساط کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔

حدیث بساط سے شیعی عقائد کی حقانیت کا اثبات
١۔ رسول خدا(ص) نے مختلف زمانوں میں، متعدد مقامات پر، مختلف الفاظ میںعلی کی وصایت و خلافت کو بیان کیا ہے، یہاں تک کہ منافقین کے مجمع میں بھی بیان فرماکر اتمام حجت کیا ہے، حدیث بساط بھی انہیں مقامات میں سے ایک ہے۔
٢۔ جابر بن عبد اللہ کی نقل کے مطابق آیۂ اطاعت بھی حدیث بساط کے ضمن میں نازل ہوئی ہے یا کم سے کم اس واقعہ پر تاکید ہے۔
٣۔ اصحاب کہف نے حضرت علی کے سلام کا باآواز بلند جواب دے کریہ ثابت کیاکہ حضرت علی ہی رسول خدا(ص) کے وصی، خلیفہ اور جانشین ہیں۔
٤۔ علی کے وصی رسول (ص)ہونے پران تمام دلائل کے موجود ہوتے ہوئے بھی بعض اصحاب نے حق کا کتمان کیااورنصف النہار کے سورج کی طرح واضح حقیقت کا انکارکیا۔
٥۔ جو لوگ حقانیت امیر المومنین کے منکر ہوگئے وہ دنیا میں بھی عجیب و غریب بلائوں سے دوچار ہوئے اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
٦۔ اصحاب کہف راہ حق پر گامزن اور اہل بہشت تھے ، امیر المومنین کی وصایت پر ان کا عقیدہ ان کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیعہ ہی برحق ہیں اور شیعہ ہی جنتی ہیں۔
٧۔ چونکہ اصحاب کہف نے علی کے علاوہ کسی اور صحابی کے سلام کا جواب نہیں دیا اور اس کا سبب بھی بیان کردیا لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ فقط علی ہی جانشین اور وصی رسول(ص) ہیں نہ کہ دیگر اصحاب۔
٨۔ آیۂ اولی الامر کا حدیث بساط کے ضمن میں نازل ہونادلالت کرتا ہے کہ اولی الامر صرف ذات علی ہے، علی کے علاوہ کوئی نہیں جو اس عہدے پر فائز ہوسکے، اس بناپر جو خود کو اولی الامر کہلائیں وہ قرآنی آیت کی مخالفت کررہے ہیں۔
٩۔ اولی الامر کی اطاعت، اطاعت خدا و رسول ہے؛ اور یہ امر عصمت مطلقہ کو ثابت کرتا ہے، اگر اولی الامر معصوم نہ ہو تو اطاعت مطلق کا مفہوم باقی نہیں رہے گاکیونکہ غیر معصوم کی اطاعت مطلق جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ غیر معصوم تو اکثر اوقات اپنی مجبوری کا اظہار کرتا نظر آتا ہے: ''لولا علی لھلک عمر''۔
١٠۔ حدیث بساط کے موقع پر،نیز غدیر خم اوردوسرے متعدد مقامات پررسول خدا(ص) نے لوگوں سے علی کی بیعت لی اور اسی راستہ پر گامزن رہنے کی تاکید فرمائی، اس بنا پر جن لوگوں نے اس پیمان سے روگردانی کی وہ قرآنی آیات کے پیش نظر عذاب الٰہی کے مستحق ہیں۔
ماخوذ از : انوار غدیر ؛ ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن

حوالہ جات
١۔مصباح کفعمی: ص٥١٥۔ بحار الانوار: ج٩٥، ص١٨٩
2۔الاصول الستة عشر، ص١٣٠؛ بحارالانوار: ج٣٩، ص١٤٠؛ و اذا نحن علیٰ باب المسجد فخرج الینا رسول اللہ(ص) فقال کیف رأیتم فقال القوم نشہد اہل الکہف و نومن کما آمنوا فقال(ص) ان تفعلوا تھتدوا و ما علی الرسول الاالبلاغ المبین فان لم تفعلوا تختلفوا فمن وفیٰ وفیٰ اللہ لہ و من نکص فعلیٰ عقبہ ینقلب افبعد المعرفة و الحجة والذی نفسی بیدہ لقد امرت ان امرکم ببیعتہ و طاعتہ فبایعوہ و اطیعوہ فقد نزل الوحی بذالک علی یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْا الْرَّسُوْلَ وَ اُوْلِیْ الْاَمْرِ مِنْکُم)
3۔حدیقة الشیعة: مقدس اردبیلی، ص٣٨٢
4۔حدیث بساط کے بعض منابع: ارشاد القلوب: ج٢، ص٢٦٩۔ بحار الانوار: ج٣٩، ص١٤٥۔ الخرائج و الجرائح: ج١، ص١٩٠،٢١١۔ مناقب ابن شہر آشوب : ج٢، ص١٦٢

مقالات کی طرف جائیے