مقالات

 

واقعہ ہرشا

شعور ولایت فاؤنڈیشن

غدیر خم کے واقعہ کو تین دن گزر چکے تھے، اب پیغمبر اکرم(ص) مدینہ کی جانب دھیرے دھیرے بڑھ رہے تھے ،ادھران منافقین نے جومدینہ میں پیغمبر اکرم (ص) کے وجود مبارک کواپنے لئے مضراور نقصان دہ سمجھ رہے تھے ،انہوںنے یہ ارادہ کیا کہ پیغمبر اکر(ص)م کو مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیں تاکہ امامت اور خلافت کے مسئلہ کو اپنی مرضی اور من مانی صورت میں تبدیل کردیں اور اس کے اصلی مقصد سے منحرف کر دیں ۔لہٰذا وہ لوگ اسی ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے رات کی تاریکی میں '' ہرشا'' نامی پہاڑی میں گھات لگا کر بیٹھ گئے کیونکہ جہاں سے پیغمبر اکرم (ص)کی سواری (اونٹ) کو گزرنا تھا وہاں پر ایک کھائی تھی، ان لوگوں نے نبی (ص)کو اسی کھائی میں گرا کر قتل کرنے کا ارادہ کرلیاتھا،ادھر پیغمبر اکرم (ص)کی خدمت میں جبرئیل امین نازل ہوئے اور عرض کی:یا نبی اللہ! چودہ ١٤/افراد ہر شا کی پہاڑی میں گھات لگائے بیٹھے ہیں تاکہ آپ کی سواری کو بھڑکا کر کھائی میں گرا دیں۔ جناب عمار و حذیفہ ان کے طرف تلوار بدست بڑھے لیکن منافقین بھاگ کھڑے ہوئے اسی وقت بجلی چمکی اور حذیفہ نے تمام منافقین کا چہرہ دیکھ لیا ۔اس واقعہ کے بعد سے جناب حذیفہ کو ''منافق شناس(منافق کو پہچاننے والا )''کہا جانے لگا لیکن پیغمبر اکرم (ص) نے جناب حذیفہ کو ان افراد کے نام فاش کرنے سے منع کردیا تھا۔(١) کتنا کریم ہے ہمارا نبی (ص)۔
یہ تھا واقعہ ہرشا کا اجمالی تعارف۔

واقعہ ہرشا سے شیعی عقائد کی حقانیت پر استدلال
١۔اگرچہ خود امیر المومنین حق وباطل کی پہچان کے لئے میزان و معیار ہیں مگر چونکہ جناب حذیفہ ''منافق شناس'' ہوگئے لہٰذا اب یہ دیکھنا ہے کہ سقیفہ کے بعد حذیفہ کس کے طرف دار رہتے ہیں ،مولا علی کے یا خلیفہ اول کے؟
٢۔خداوند متعال نے آیۂ غدیر میں فرمایا :''اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا''۔(٢)اور ہرشا کی پہاڑی میں اللہ نے اپنے پیغمبر (ص) کی حفاظت فرمائی ۔
٣۔بعض صحابہ نے پیغمبر اکر(ص)م کو قتل کرنے کی سازش رچی(پلاننگ کی)،لہٰذااب یہ کہنا کہ تمام صحابہ عادل تھے بالکل غلط ہے۔
٤۔وہ منافقین جو پیغمبر اکرم (ص) کے قتل پر آمادہ تھے ،ظاہر ہے وہ ذریت رسول کو بھی قتل کرنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کریں گے ۔
٥۔شیطان ،حضرت آدم کی فضیلت کا منکر ہوا تو اسے رجیم کی سند ملی اور بارگاہ خداوندی سے دور ہو گیا اور جہنم کی آگ کا مستحق قرار پایا ،چونکہ پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت امیرالمومنین جناب آدم سے بھی برتر ہیں لہٰذا اب جو نبی و علی کا منکر ہوگا وہ شیطان سے بھی پست اور بدتر ہوگا۔
٦۔امیر المومنین نے فرمایا: تعرف الاشیاء باضدادھا''چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ''۔لہٰذا اب پیغمبر اکرم (ص) اور امیرالمومنین جتنے بھی باکمال اور بافضیلت ہوں گے ان کے قتل کا ارادہ کرنے والا اتنا ہی پست ،ذلیل اور گمراہ قرار پائے گا۔
٧۔خداوند متعال کا فرمان ہے: ''جس نے بھی پیغمبر اکر(ص)م کو اذیت پہنچائی،اس پر دنیا و آخرت دونوں میں اللہ کی لعنت ہے (وہ اللہ کی رحمت سے دور ہے) اور جو پیغمبر اکرم (ص) کے قتل کا رادہ کرلیں وہ بھی لعنت کے مستحق ہیں''۔(3)
٨۔خداوند متعال فرماتا ہے:'' اور جو بھی کسی مومن کو قصداًقتل کردے گا اس کی جزا جہنم ہے ، اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور اس پر خدا کا غضب بھی ہے اور خدا لعنت بھی کرتاہے اور اس نے اس کے لئے عذاب عظیم بھی مہیا کررکھا ہے ''۔(4)
٩۔خلیفہ دوم نے اپنی حکومت کے دوران میں بارہا جناب حذیفہ سے پوچھا :کیا میں ان چودہ افراد میں تھا؟جناب حذیفہ نے جواب دیا :اگر تھے تو تم خود ہی بہتر جانتے ہو اور اگر نہیں تھے تب بھی تم بہتر جانتے ہو۔(چور کی داڑھی میں تنکا)۔
ماخوذ از انوار غدیر ؛ ترجمہ: شعور ولایت فاؤنڈیشن

حوالہ جات
١۔تفسیر قمی ج ١ص١٧٤
٢۔ مائدہ ٦٧
3۔ احزاب ٥٧
4۔ نساء ٩٣

مقالات کی طرف جائیے