مقالات

 

چچا عباس

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

میرے چچا بہت اچھے ہیں ، وہ ایک بہادر اور دلیر انسان ہیں ، میں ان سے بہت محبت کرتاہوں اور ان کی ہر بات مانتا ہوں، ایک دن میں نے ان سے کہا :چچاجان ! آپ دنیا کے سب سے اچھے چچا ہیں ۔
چچا جان سوچنے لگے ، تھوڑی دیر بعد میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:بیٹا ! میں دنیا کا سب سے اچھا چچا نہیں ہوں لیکن میں دنیا کے سب سے اچھے چچا کو جانتا ہوں ۔
میں نے حیرت سے ان کو دیکھتے ہوئے کہا: چچاجان ! پھر بتائیے وہ کون ہیں ، میں دنیا کے سب سے اچھے چچا کو جاننا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا: دنیا کے بہترین چچا حضرت عباس علیہ السلام ہیں ۔
میں نےکہا: وہ دنیا کے بہترین چچا کیوں ہیں ؟
انہوں نے کہا: اس کی کہانی بہت لمبی ہے ۔
میں نے کہا:کوئی بات نہیں ، میں سننا چاہتاہوں ۔
تھوڑی دیر بعد چچاجان نے بیان کرنا شروع کیا :
امام حسین ؑمدینہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے ، لیکن کوفہ پہونچنے سے پہلے ہی دشمنوں نے کربلا کے میدان میں گھیر لیا۔دشمن بہت زیادہ تھے اور امام حسین ؑکے ساتھی بہت کم ۔
ایک دن دشمنوں نے خیمہ کے ذرا فاصلہ پر موجود فرات پر پہرہ لگا دیا تاکہ امام حسین ؑاور آپ کے ساتھی اس کا پانی نہ پی سکیں ۔ اہل حرم پانی نہ ہونے کی وجہ سے پیاسے تھے ، ان میں بچوں کی حالت بہت نازک تھی ، وہ جاں بلب تھے۔
لیکن بچے جانتے تھے کہ ان کے چچا عباس بہت بہادر اور دلیر ہیں ، وہ فرات کے محاصرے کو توڑ کر ان کے لئے پانی کا بندوبست کردیں گے ۔
جب پیاس کا غلبہ زیادہ ہوا تو چچا عباس اپنے مولا و آقا امام حسین ؑسے اجازت لے کر فرات کی جانب روانہ ہوئے ۔ان کے ہاتھوں میں مشک تھی ، وہ بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے اس مشک کو پانی سے بھرنا چاہتے تھے ۔
انہوں نے اکیلے پہریداروں پر حملہ کیا اور وہ سب فرات چھوڑ کر بھاگ گئے ،چچا عباس نے مشک بھری اور خیمہ کی طرف جانے لگے لیکن ۔
چچاجان خاموش ہوگئے ، انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی ۔میں ان کی طرف دیکھنے لگا ، ان کے بولنے کا انتظار کرنے لگا ۔ میں جاننا چاہتاتھا کہ آگے کیا ۔
تھوڑی دیر چچا جان نے کہنا شروع کیا:
لیکن اس دن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ، سنگ دل دشمنوں نے چھپ کے چچا عباس پر حملہ کیا اور ان کے دونوں ہاتھ کاٹ دئیے ۔
اس وقت بھی چچا عباس نے ہمت نہیں ہاری ، بلکہ مشک کو اپنے دانتوں سے دبایا اور اسے خیمے میں پہونچانے کی کوشش کرنے لگے۔
لیکن دونوں ہاتھ کٹنے کی وجہ سے دشمن ان کے قریب آچکے تھے ، انہوں نے چچا عباس کو گھیر لیاتھا اور سب مل کر ان پر حملہ کررہے تھے ۔اسی حملے میں ایک تیر مشک پر لگا اور اس کا سارا پانی بہنے لگا ۔چچا عباس کی جان اسی پانی میں لگی ہوئی تھی ، جب سارا پانی بہہ گیا تو چچا عباس کی ہمت جواب دینے لگی ۔ وہ بغیر پانی کے بچوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے ، اسی لئے دوبارہ فرات کی طرف جانے لگے ۔لیکن اسی وقت ایک سنگدل دشمن نے آپ کے سر پر وار کیا اور آپ کو شہید کردیا ۔
میں نے چچاجان کو دیکھا ، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، وہ رو رہے تھے ۔
اور میں سوچ رہاتھا کہ چچا جان نے صحیح کہاہے ، وہ دنیا کے بہترین چچا تھے جنہوں نے بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے اپنی جان قربان کردی۔
اس واقعہ کو گزرے بہت دن گزر چکے ہیں لیکن جب بھی میں اس واقعہ کو یاد کرتاہوں تو میرا دل رنجیدہ ہوجاتاہے اور دنیا کے بہترین چچا کو یاد کرکے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلنے لگتا ہے ۔

فارسی کی ایک تحریر سے اقتباس

مقالات کی طرف جائیے