مقالات

 

تیسرے امام کی شہادت

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


پیارے بچو! سلام علیکم

آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے تیسرے امام ،حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں ، وہ مدینہ میں زندگی بسر کرتے تھے اور مسلمانوں کی ہدایت کرتے تھے ۔ وہ لوگوں کو اچھے کام کرنے کی دعوت دیتے تھے ، وہ لوگوں سے کہتے تھے : جو لوگ برے کام کرتے ہیں اور لوگوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں ، ان سے دور رہو اور ان سے رابطہ برقرار نہ رکھو۔
اسی لئے یزید بن معاویہ جو لوگوں کا خلیفہ بنا ہواتھا ، لوگوں پر ظلم و ستم کرتاتھا اور برے کام انجام دیتاتھا ، وہ امام حسین ؑسے دشمنی کرتاتھا ۔وہ چاہتا تھا کہ دوسرے لوگوں کی طرح امام حسین ؑ بھی اس کی بیعت کریں لیکن آپ نے بیعت کرنے سے انکار کردیا ۔اس نے اپنے نمائندے سے کہلوایا کہ اگر بیعت نہیں کریں گے تو قتل کردئیے جائیں گے۔
امام نے قتل ہونا گوارا کرلیا لیکن اس برے شخص کی بیعت کرنا گوارا نہیں کیا اور مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوگئے۔
ایک دن سر زمین کوفہ سے امام حسین علیہ السلام کے لئے بہت سے خطوط آئے ؛ ان خطوط میں کوفہ والوں نے امام حسین ؑکو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی تاکہ امام ان کی ہدایت کریں اور وہ امام کی نصرت کریں ۔اسی لئے امام حسینؑ مدینہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے ۔ جب وہ کوفہ سے نزدیک کربلا نامی جگہ پر پہونچے تو وہاں دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا اور جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
امام حسین ؑاور آپ کے باوفا ساتھیوں نے وہیں پر خیمہ لگالیا اور رہنے لگے ۔ لیکن کچھ دنوں بعد دشمنوں نے امام پر پانی بند کردیا ، امام کے ساتھ ساتھ سبھی بچے پیاسے تھے ۔
ایک رات امام نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کرکے کہا کہ دشمن کو صرف مجھ سے سروکار ہے ، وہ صرف مجھے قتل کرنا چاہتا ہے ، تم لوگ اپنے اپنے گھروں کو جاسکتے ہو ۔ لیکن آپ کے ساتھی باوفا تھے ، انہوں نے آپ کو تنہا چھوڑنا گوارا نہیں کیا ۔
بچو! اس کے بعد عاشور کا سوراج نمودار ہوا ، یہ دن قیامت کا دن ہے ، دشمنوں نے صرف پانی بند کرنے پر اکتفا نہیں کی بلکہ امام پر حملہ کردیا ۔ امام اور آپ کے باوفا ساتھیوں نے بھی اپنی حفاظت کے لئے دشمنوں سے جنگ کی ۔
لیکن بچوں آپ تو جانتے ہیں کہ امام اور آپ کے ساتھی بہت کم تھے اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ؛ اسی لئے وہ زیادہ دیر تک جنگ نہیں کرسکتے تھے، ایک ایک کر کے امام کے ساتھی شہید ہوتے رہے ۔ ایک وقت وہ آیا کہ امام اکیلے رہ گئے۔
امام علیہ السلام اہل حرم سے رخصت ہوکر میدان کی طرف گئے ، انہوں نےدشمنوں سے جنگ کی ، امام بھوکے پیاسے تھے، تین دن کے بھوکے پیاسے ، دوسری طرف دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ، ان کے پاس اسلحے بھی زیادہ تھے ، امام کم تک جنگ کرتے ، ایک وقت وہ آیا جب ہزاروں دشمنوں نے ایک ساتھ مل کر امام پر حملہ کردیا ۔
کوئی امام مظلوم پر تیر و تلوار سے وار کرتاتھا ، کوئی نیزوں سے امام کو اذیت پہونچاتا تھا ، افسوس یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ زمین کے پتھروں سے امام عالی مقام پر حملہ کرتاتھا ۔
ایک وقت وہ آیا جب امام اپنے گھوڑے ذوالجناح پر سنبھل نہ سکے اور جلتی ہوئی زمین پر گر پڑے ۔چاروں طرف دشمن موجود تھے لیکن کوئی مدد کرنے والا نہیں تھا ۔افسوس! دشمنوں نے بے رحمی کے ساتھ امام کے سر و تن میں جدائی کردی ۔

پیارے بچو!
اسی شہادت کی یاد میں ہم ہر سال محرم کے دس دنوں میں عزاداری کرتے ہیں اور امام حسین ؑکی شہادت کو یاد کرتے ہیں۔ گریہ و زاری کرتے ہیں ، نوحہ پڑھتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں ۔
دس محرم چونکہ عاشور کا دن ہے اور اسی دن ہمارے تیسرے امام شہید ہوئے ہیں اس لئے اس دن ہم زیادہ عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں ۔ننگے پیر گھر سے باہر نکلتے ہیں ، کالے کپڑے پہنتے ہیں اور دن بھر جگہ جگہ جلوسوں میں شرکت کرکے امام کی شہادت کو یاد کرتے ہیں اور روتے ہیں ۔
بچو!
امام علیہ السلام نے اپنی شہادت کے ذریعہ ہمیں اچھی زندگی گزارنے کا درس دیاہے ، آپ نے بتایا کہ برے انسان کا ساتھ نہیں دینا چاہئے اور برے کاموں سے دور رہنا چاہئے ۔

مقالات کی طرف جائیے