مقالات

 

غلاموں کے حقوق اور کربلا

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

غلامی کا مسئلہ آج کے اہم مسائل میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے اسلام کو ہدف طعن بنایاجارہاہے ، مغرب و مغربی ذہنیتیں اس کی نوعیت اور افتاد کو سمجھے بغیر اس کی ظاہری صورت کے پیش نظر آزادی ، انسانی ہمدردی اور حقوق بشری کے اتلاف کی دہائیاں دے رہی ہیں ۔ جب نظائر کا موقع آتاہے تو عرب کے جاہلی معاشرے کے واقعات اور اموی دور کی بہیمانہ کاروائیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیاجاتاہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کے جرم میں غلاموں کو عرب معاشرے کا انسانیت سوز تشدد برداشت کرنا پڑا اور اسی کو بنیاد بناکر مغربی ذہنیت یا اسلام دشمن افراد اسلام کے خلاف عام نفرت کی فضا بناتے ہیں جب کہ اسلام نے ہر قسم کی غلامی ختم کرنے کے لئے'' لا الہ ''کا نعرہ بلند کیا۔
ارباب نظر جانتے ہیں کہ'' اِلٰہ'' اور'' اللّٰہ '' کے مفہوم میں بڑا فرق ہے ، '' اِلٰہ '' ہر قسم کے معبود کو کہاجاتاہے ، ہر اس طاقت کو کہاجاتاہے جو انسان کو غلط یا صحیح طریقے اور طاقت کے دبائو میں رکھے ، انسان کی توانائیوں کو اپنی مفادات کی جاگیر سمجھے ، اسے اپنے خیالات و نظریات کا پابند بنانے کے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرے ، وسیلہ کوئی بھی ہو ، اقتدا ، بت ، سماجی بندھن یا رسم و رواج ....۔
اور اللہ اس معبود حقیقی کو کہاجاتاہے جو تمام صفات جمال و کمال کا جامع ہے ، جو تمام دنیاؤں کا خالق و رازق ہے ، وہی کائنات کا مربی ہے ، ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں صرف وہی لائق عبادت ہے ، صرف وہی سزا وار حکمرانی ہے ۔
اسلام نے اپنے نعرے میں پورے معاشرے کو ہر قسم کی آزادی دلانے کا اعلان کیا تھا، ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے کی بات کہی تھی ، وہ دین جو پوری انسانیت کو ہر قسم کی آزادی دلانے کا اعلان کررہاہے ، بھلا عرب معاشرے کی رسم غلامی کو کیسے برداشت کرسکتاہے ، وہ کیسے روا رکھ سکتاہے کہ بزعم خود مٹھی بھر چودھری اپنے جیسے انسانوں کے جسم و جان کو اپنی ملکیت کہیں اور ان کی صلاحیتوں کو اپنے مفادات کے لئے جس طرح چاہیں استعمال کریں ، ان کی فکری آزادی کا حق سلب کر لیں ، ان کی عزت کا حق مار لیں اور سیرت و کردار کا استحصال کریں۔
قرآن میں عرب ذہنیت و اخلاق کا بڑا اچھا استعارہ پیش کیاگیاہے :
''ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جن سے وہ ٹھوریوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لئے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں''۔(١)
اس آیت میں طوق سے مراد ان کی اپنی ہٹ دھرمی ہے جو ان کے قبول حق میں مانع ہورہی تھی ، ٹھوریوں تک جکڑے جانے اور سر اٹھائے کھڑے ہونے سے مراد گردن کی اکڑ ہے جو تکبر و نخوت کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی یہ فرمارہاہے کہ ہم نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو ان کی گردن کا طوق بنادیاہے اور جس کبر و نخوت میں یہ مبتلا ہیں اس کی وجہ سے ان کی گردنیں اس طرح اکڑ گئی ہیں کہ اب خواہ کوئی روشن سے روشن حقیقت بھی ان کے سامنے آجائے یہ اس کی طرف التفات کر کے نہ دیکھیں گے ۔(2)
بات یہ ہے کہ عرب معاشرے کی رسم غلامی ان کے اخلاق و مزاج کا مکروہ نتیجہ تھی اور معاشرے کی جڑوں میں اس طرح پیوست تھی کہ اسے اچانک ختم کرنا ممکن نہیں تھا اس لئے اس بیماری کے سلسلے میں علاج بالمثل کا طریقہ اپنایاگیا، یا جس طرح ایک بھولے بھٹکے انسان کو صحیح راستے پر لگانے کے لئے کچھ دور تک اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ، اسلام نے اس قبیح رسم کو ختم کرنے کے لئے انسانی ہمدردی ، بلند اخلاقی اور شریعت پسندی کے داخلی سرچشموں کو ابھارا ۔ قرآن میں گردن چھڑانے کو ایسی جاندار نیکی کہاگیا ہے جو قیامت کی تمام ہولناک گھاٹیوں میں معین ومددگار ہوگی ۔(3) غلامی سے آزاد کرانے کی نیکی صداقت کردار کی دلیل قرار دی گئی ۔(4) مختلف گناہ کے کفاروں میں تحریر رقبہ کو بھی شامل کیاگیا۔(5)
قرآن کے ان واضح احکامات کے پس منظر میں ''راسخون فی العلم'' کی ابدآثار سیرت پر نظر کی جائے تو غلامی کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اچھی طرح سمجھاجاسکتاہے ، انہوں نے غلاموں کو بھی اچھوت نہیں سمجھا ، اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر کھانا کھلاتے تھے ، انہیں خانگی اور اجتماعی امور کی اہم ذمہ داری سونپتے تھے ، اگر ان سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوجاتی تھی تو شفقت سے نصیحت فرماتے تھے ، کام نظر انداز کر کے سوجانے پر سر اٹھا کر زانو پر رکھتے اور فرماتے تھے کہ دن کام کے لئے اور رات آرام کے لئے ۔
غلاموں کو عرب معاشرے میں انتہائی ذلت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا ، ان کا بلند اخلاق کسی پذیرائی کا مستحق نہیں تھا ، ان کا تقوی استحسان کی نظر سے نہیں دیکھاجاتاتھا ، ان کی پسندیدہ سیرت گونگے کا خواب تھی ، ان کے کارنامے آقا کے کھاتے میں لکھے جاتے تھے ۔
اسلام نے ان کے وجود کو تسلیم کیا ، ان کے کردار کوا ن کی اپنی ملکیت قرار دیا ، انسانیت کے ناطے انہیں جو عزت ملنی چاہئے اس کا اہتمام فرمایا بلکہ ان کی عزت افزائی کے خصوصی مظاہرے فرمائے ، لشکر کے سر برآوردہ افراد ناک بھوں چڑھاتے رہے لیکن لشکر کی سرداری غلام زادے ہی کو دی گئی جب کہ اس کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی ۔
رسول خدا نے معترضین کی توبیخ فرمائی :
'' اے لوگو!یہ تم لوگ آپس میں کیا چہ میگوئیاں کر رہے ہو اسامہ کے امیر لشکر ہونے کے بارے میں ، خدا کی قسم ! یہ امیر لشکر بنائے جانے کے لئے انتہائی موزوں شخص ہے ، جس طرح اس کا باپ زید لشکر کا سردار متعین کئے جانے کا مستحق تھا ''۔(6)
اس تناظر میں عرب معاشرے کو انہیں جیسے دبے کچلے اور پسماندہ انسانوں کا سماجی حق دلانا بڑا مشکل کام تھا ، کیونکہ وہ ایک وقتی حادثہ جنگ یا غارت گری کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا ہوگئے ہیں ، اسلام نے پانی کے اس بہائو کا رخ موڑنے کے لئے غلامی سے متعلق متوازن اور نجات دہندہ احکامات صادر فرمائے اور دین کے حقیقی ذمہ داروں نے اپنی مقدس سیرت پیش کر کے ان کو درخشاں بنایا۔
واقعہ کربلا کے رنگارنگ اور ہمہ جہت تنوع میں حقوق و فرائض کے تال میل اور توازن کے ابد آثار اسباق بھی نظر آتے ہیں ، کربلا میں غلاموں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی ، حضرت حارث جن کے والد نبہان جناب حمزہ کے غلام تھے ، عامر بن مسلم عبدی کے غلام سالم ، امام حسن کے وفادار غلام سلیم ، شبیب بن عبداللہ جو حارث بن سریع ہمدانی کے غلام تھے ، قارب بن عبداللہ بن اریقط کی والدہ فکیہہ جناب رباب کی کنیز تھیں ، شوذب بن عبداللہ جنہیں عابس شاکری کا غلام کہاجاتا ہے ، سعد بن حارث جو حضرت علیؑ کے غلام تھے اور امام حسین کے غلام اسلم ، مسلم بن کثیر اعرج کے غلام جن کانام رافع بن عبداللہ تھا ، امام حسین کی کنیز حسینیہ کے فرزند منجح اور واضح الترکی کے علاوہ حضرت جون بن حوی ... وغیرہ ۔(7)
انسانی حریت کے ان مایہ ناز علمبرداروں کے کارنامے آزادوں سے کسی محاذ پر کسی طرح کم نہیں ہیں، اس لئے کہ وہ معصوم قیادت میں بقائے اسلام کے لئے جنگ کررہے تھے ، وہی جوش و جذبہ ، وہی سرفروشی اور وہی خودشناسی جو معرفت کردگار کا زینہ بنتی ہے ۔
اس سلسلے میں حضرت ابوذر کے غلام جون بن حوی بن قتادہ بن اعور بن ساعدہ بن عوف بن کعب بن حوی کا نام پیش کیاجاسکتاہے ۔ (8)آپ کے نام کے متعلق سیرت و مقاتل کی کتابوں میں بڑا اختلاف ہے ، کسی نے عون لکھاہے ، کسی نے والد کے نام حوی کو خود ان کا نام سمجھ لیاہے، کسی نے جوین بن ابی مالک لکھ دیاہے لیکن حضرت ابوذر کے غلام ہونے کی نشاندہی سب نے کی ہے ۔(9)
آپ فضل بن عباس کی ملکیت میں تھے ، حضرت امیر المومنین نے ڈیڑھ اشرفی میں خرید کر رسول کے صادق اللہجہ صحابی حضرت ابوذر جندب بن جنادہ کو آپ کی خدمت کے لئے ہبہ فرمادیا تھا ، تمام نرم و گرم حالات میں جون آپ کے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ ربذہ کی جلا وطنی میں بھی حق رفاقت نبھایا ۔ ٣٢ھ میں جب حضرت ابوذر کا انتقال ہوگیا(10) تو جون کے لئے اپنی آزادی کا بڑا اچھا موقع تھا لیکن ان کی سوجھ بوجھ نے غلامی کی زندگی کو ترجیح دی کیونکہ جس غلامی کا فیصلہ کیاتھا اس پر شاہی قربان تھی ، آزادی نثار تھی۔ آپ مدینہ آکر امیر المومنین کی خدمت اقدس میں زندگی گزارنے لگے ، آپ کے بعد امام حسن اور امام حسینؑ کی خدمت گزاری سے سرفراز رہے۔(11)
کربلا سے پہلے تک آپ کے حالات پردہ ٔ خفا میں ہیں لیکن نویں محرم کے واقعہ سے پتہ چلتاہے کہ آپ پر اہل بیت کو بڑا وثوق تھا ، آپ ہی جنگی ہتھیاروں کے محافظ بنائے گئے تھے چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام کا بیان ہے کہ میں اپنے خیمے میں بیٹھا تھا اور پھوپھی زینب میری تیمارداری فرمارہی تھیں ، حضرت امام حسینؑ اس وقت اصحاب سے علیحدہ ایک خیمے میں تھے اور آپ کے پاس جون غلام ابوذر آپ کی تلوار پر صیقل کررہے تھے ۔(12)
حضرت جونؑ کے اذن جہاد طلب کرنے کا انداز ، جنگ اور بعد شہادت کے حالات سے غلاموں کے بارے میں صحیح اسلامی نقطہ نظر معلوم ہوتاہے ، چونکہ اس شہید نے اپنا فرض شاندار انداز میں انجام دیا اس لئے اس کے حقوق کی مراعات کا امام وقت نے خصوصی اہتمام فرمایا۔
جب حضرت جونؑ نے امام سے جنگ کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا:تمہیں اجازت دیتاہوں کہ میرا ساتھ چھوڑ کر چلے جائو اس لئے کہ تم ہمارے ساتھ آسائش کے لئے تھے اب ہماری وجہ سے پریشانی اور مصائب میں کیوں مبتلا ہوتے ہو...؟(13)
امام اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کا جواب کیاہوگا لیکن چونکہ اسلام میں ہر عمل اس کے عامل کی ملکیت ہوتاہے ، وہی اس کی مدح کا مستحق ہوتاہے ، اس میں آزاد و غلام کی کوئی تفریق نہیں اس لئے امام نے یہ فرماکر اسے اپنے عمل کا پورا پورا اختیار دے دیا۔ اگر امام یہ نہ فرماتے تو عام سماجی معیار کے مطابق جون کے عمل کی خود کوئی اپنی قدر و قیمت نہ رہ جاتی ۔
حضرت جون امام کے قدموں پر گرے اور والہانہ بوسے دینے لگے ، عرض کی : فرزند رسول ! میں نے راحت و آسائش کے زمانے میں آپ کے خوان نعمت سے بھرپور استفادہ کیا ، کیا اب مصائب میں آپ کا ساتھ چھوڑدوں ، یہ کیسے ہوسکتاہے ...؟(14)
اب اس کے بعد تحفظ حقوق کے سلسلے میں غلام و آقا کا باہمی تعاون بڑے حساس موڑپر پہونچ گیا ۔
جون کہنے لگے : فرزند رسول! خدا کی قسم ! میرے جسم سے بدبو آتی ہے ، میرا حسب و نسب پست ہے ، میرا رنگ سیاہ ہے ...میرے آقا! مجھے جنگ کا مستحق بنادیجئے ، میں آپ
سے اس وقت تک جدا نہ ہوںگا جب تک میرا یہ سیاہ خون آپ کے خون میں شامل نہ ہوجائے۔(15)
امام نے انہیں اجازت دے دی۔
حضرت جون نے پچیس سے زیادہ شامیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ۔(16) بعض روایات میں ہے کہ سترسے زیادہ اشقیاء کو فی النار کیا۔(17)
رخصت کے وقت جون نے جس دردناک انداز میں اپنا جوش و جذبہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے دل کا کرب ظاہر کیا تھا وہ امام کے دل میں چبھ گیاتھا ۔
جون نے کچھ کہاتھا ، وہ عام سماجی حالت کا بیان تھا ، وہ اس حالت میں اپنے کردار کی مستقل حیثیت منوانے کی جد و جہد کررہے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ امام نے آکر ان کے گلے میں بانہیں حمائل کردیں ، پھر سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھا اس حالت میں جون کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔ آپ نے دعا کی : خدایا! ان کے چہرے کو سفید اور نورانی کردے ، انہیں خوشبو سے نہال کردے اور انہیں اہل بیت کے زمرے میں شامل فرما۔(18)
اور اس دعا نے اپنا اثر بھی دکھایا، آپ کے بدن سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں اور جسم سے مشک کی خوشبو پھبک رہی تھی ۔ (19)
یہی عزت افزائی غلام ترکی اور اسلم کے ساتھ بھی نظر آئی ۔ مقتل مقرم میں ہے کہ جب واضح الترکی زخمی ہوکر گرے تو امام کی بارگاہ میں آواز استغاثہ بلند کی ، امام حسین تشریف لائے اور گلے میں بانہیں حمائل کردیں ۔ واضح نے یہ دیکھ کر آواز دی :
من مثلی وابن رسول اللہ واضع خدہ علی خدی '' میرا مثل کون ہوسکتاہے ، فرزند رسول نے میری یہ عزت افزائی کی کہ اپنے رخسار میرے رخسار پر رکھ دے ''۔(20)
یہ کہا اور روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔
امام نے اپنے غلام اسلم کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کیا کہ لاش سے لپٹ گئے اور گلے میں بانہیں حمائل کردیں ۔ یہ عزت افزائی دیکھ کر وہ تبسم صبح بہار بن گیا اور فخر و ناز کرتے ہوئے قضائے الہی کو لبیک کہا....۔(21)

حوالہ جات :
١۔یٰس/8
2۔تفہیم القرآن ج٤ ص ٢٤٧
3۔البلد ١١۔١٣؛ آیت اور ترجمہ :(فَلاَاقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ٭ وَمَا َدْرَاکَ مَا الْعَقَبَةُ٭ فَکُّ رَقَبَة )'' پھر وہ گھاٹی پر سے کیوں نہیں گزرا، اور تم کیا جانو یہ گھاٹی کیاہے ،کسی گردن کا آزاد کرانا''۔
4۔بقرہ ١٧٧؛مکمل آیت اور اس کا ترجمہ :(لَیْسَ الْبِرَّ َنْ تُوَلُّوا وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وََقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ ِذَا عَاہَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَْسَائِ وَالضَّرَّائِ وَحِینَ الْبَْسِ ُوْلَئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُتَّقُون)'' نیکی یہ نہیں ہے کہ اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی اس شخص کا حصہ ہے جو اللہ اور آخرت ، ملائکہ اور کتاب پر ایمان لے آئے اور محبت خدا میں قرابتداروں ، یتیموں ، مسکینوں ، غربت زدہ مسافروں ، سوال کرنے والوں اور غلاموں کی آزادی کے لئے مال دے اور نماز قائم کرے اور زکوة اداکرے اور جو بھی عہد کرے اسے پورا کرے اور ففقر و فاقہ میں اور پریشانیوں اور بیماریوں میں اور میدان جنگ کے حالات میں صبر کرنے والے ہوں تو یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان و احسان میں سچے ہیں اور یہی صاحبان تقوی اور پرہیزگار ہیں''۔
5۔مائدہ ٨٩؛ مجادلہ ٣؛ مائدہ کی آیت اور ترجمہ :(لاَیُؤَاخِذُکُمْ اﷲُ بِاللَّغْوِ فِی َیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الَْیْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ ِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاکِینَ مِنْ َوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ َہْلِیکُمْ َوْ کِسْوَتُہُمْ َوْ تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ)''خدا تم سے بے مقصد قسمیں کھانے پر مواخذہ نہیں کرتا ہے لیکن جن قسموں کی گرہ دل نے باندھ لی ہے ان کی مخالفت کا کفارہ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجہ کا کھانا ہے جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کی آزادی ہے''۔
6۔بحار الانوار ج٣٠ ص ٤٢٧کے بعد تفصیل سے اس موضوع پر متعلق بحث کی گئی ہے ؛ حتی جن لوگوں نے جیش اسامة کی مخالفت کی تھی ان پر رسول خداۖ نے لعنت بھی فرمائی ہے۔
7۔ان میں سے بعض مایہ ناز غلاموں کے حالات و کارنامے اسی کتاب کے صفحہ٢٣٥۔٢٥٠پر ملاحظہ کریں۔
8۔اعیان الشیعہ ج٤ ص٢٩٧
9۔جناب جون کا صحیح نام ''جون بن حوی '' ہے ، بہت سے علمائے رجال اور تذکرہ نگاروں نے اس کی تصریح کی ہے ؛ ملاحظہ ہو: رجال طوسی ص ٩٩ ؛ اعیان الشیعہ ج٤ ص ٢٩٧
10۔بعض مورخین نے جناب ابوذر غفاری کی تاریخ وفات ٣١ھ تحریر کی ہے ۔ ( ملاحظہ ہو: عنصر شجاعت ١ص٢٩٨)
11۔ابصار العین فی انصار الحسین ص ١٧٦ ؛ اعیان الشیعہ ج٤ ص ٢٩٧
12۔تاریخ طبری ج٤ ص ٣١٨؛ کامل ابن اثیر ج٤ ص ٥٨؛ اعیان الشیعہ ج١ ص ٦٠١؛ مقتل ابو مخنف ص ١١١
13۔فقال لہ الحسین :یا جون انت فی اذن منی فانما تبعتنا طلبا للعافیة فلا تبتل بطریقتنا ۔( مثیر الاحزان ص ٤٧؛ اعیان الشیعہ ج١ ص ٦٠٥؛ اللہوف ص ٦٤)
14۔عربی متن :یابن رسول اللہ !انا فی الرخاء الحس قصاعکم و فی الشدة اخذلکم ؟۔
15۔عربی متن : واللہ ان ریحی لنتن وان حسبی للئیم و لونی لاسود فتنفس علی بالجنة فیطب ریحی و یشرف حسبی و یبیض وجھی لا واللہ لاافارقکم حتی یختلط ھذ الدم الاسود مع دمائکم۔( ملاحظہ ہو: ابصار العین فی انصار الحسین ص ١٧٦؛ مثیر الاحزان ص ٤٧؛ اعیان الشیعہ ج٤ ص ٢٩٧؛ اللہوف ص ٦٥؛ ترجمہ لہوف ص ١٤٩۔١٥٠)
16۔مقتل العوالم ص ٨٨؛ نفس المہموم ص ١٥٠
17۔بحار الانوار ج٤٥ ص٢٣
18۔اعیان الشیعہ ج٤ ص ٢٩٧ ؛ ابصار العین فی انصار الحسین ص١٧٧
19۔ابصا ر العین ص ١٧٧؛ نفس المہموم ص ٢٦٤؛ بحار الانوار ج٤٥ص ٢٣؛ آخر الذکر کتاب میں امام باقر علیہ السلام کی روایت منقول ہے کہ میرے بابا سید سجاد نے فرمایا : ان الناس کانوا یحضرون المعرکة و یدفنون القتلی فوجدوا جونا بعد عشرة ایام یفوح منہ رائحة المسک رضوان اللہ علیہ ''بنی اسد کے لوگ قتلگاہ میں آئے تاکہ شہیدوں کی لاشیں دفن کریں ، انہوںنے دس روز کے بعد بھی جون کی لاش سے خوشبو بھبکتی ہوئی دیکھی ، خدا ان سے راضی ہوا''۔
20۔اعیان الشیعہ ج٣ ص ٣٠٣؛ انصار العین فی انصار الحسین ص ١٤٥
21۔ابصار العین فی انصار الحسین ص٩٦؛اعیان الشیعہ ج٣ ص ٣٠٤

ماخوذ از : شعور شہادت (غیر مطبوعہ)؛ تصنیف : مولانا سید علی اختر رضوی مرحوم

مقالات کی طرف جائیے