مقالات

 

ایک مقبول نوحہ

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

نوحوں نے پیغام کربلا کی نشر و اشاعت میں بڑا وقیع اور مؤثر کردار نبھایا ہے ، اسے معاشرے کی جڑوں میں پیوست کرنے کے لئے شاعر سے کہیں زیادہ نوحہ خوان کی تزئین کاری کو تحسین سے نوازنا چاہئے ، یہ دونوں جز باہمی آمیزش اور تال میل سے دلچسپی کی فضا تیار کرتے ہیں ، اس دلچسپی میں والہانہ پن کا رنگ و روغن بھرتے ہیں اور قلب کے راستے تمام اعصاب کو شراب و طعام فراہم کرتے ہیں۔
یہ نوحہ خوانی ہی ہے جس نے شہادت حسینؑ کو آفاقیت عطا کی ، مقصد کو صحیح اور متوازن سمت میں باقی رکھا ۔ ظلم کو سب سے زیادہ وحشت اسی نوحہ خوانی ہی سے ہوتی ہے ، مقصد حسین کی ترجمانی سب سے پہلے نوحہ خوانی ہی کے ذریعہ ہوئی ہے ۔ ہنگام عصر ٹیلہ سے جناب زینب سلام اللہ علیہا کا نوحہ ہو یا راہ کوفہ میں سید سجاد کا منظوم خزینہ یا پھر زینب و ام کلثوم علیہما السلام کی سلگتی فریاد ۔ سب کا اگر تجزیہ کیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ الفاظ سے زیادہ آواز نے اثر انگیزی پیدا کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تمام مقبول شعرائے اہل بیتؑ نوحہ کہتے تھے اور اسی کے ساتھ اپنا ایک نوحہ خوان بھی رکھتے تھے اور اس کی ناز برداری کرتے تھے ۔ دعبل ، عبدی ، کشاجم ، ناشی صغیر ، صاحب ابن عباد ، جرجانی ، جوہری ، ابن حجاج بغدادی ، ابو محمد عوفی ، ا بو العباس ضبی ، شریف رضی .... تمام عندلیبان آل محمدؐنے نوحے کہے ہیں اور پھر انہیں سوز و گداز کے ساتھ پڑھا ہے یا پڑھوایاہے ۔
فقہاء ، علماء ، دانشوران شعرو ادب ، نقادان فن ، انشائیہ نگار سب نے اپنی فنی مہارت کا میدان واقعہ کربلا کو ہی قرار دیاہے ، ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان کی ہر طرح سے ہمت افزائی کی ، مادی و معنوی انعامات سے نوازا ، دنیا سے لے کر آخرت تک شاعروں اور نوحہ خوانوں پر اس قدر کرم گستری فرمائی کہ شہداء و صدقین اور صالحین کو رشک ہونے لگا۔
تذکرہ نگاروں کے بیان کے مطابق شعراء کے دو انداز نظر آتے ہیں ، بعض نے محض داخلی شدت احساس کی تسکین کے لئے مراثی اور نوحے کہے ، ان کے فن کی تڑپ فاضل طینت کے تقاضوں کو برتنے کے لئے مجبور کرتی تھی اور نتیجہ میں امنڈتے سیلاب کی طرح اشعار ڈھلنے لگتے تھے ، انہیں اپنے احساسات و خیالات کو عام کرنے کی فکر نہیں ہوئی ۔ اس کے بر خلاف بعض شعراء نے اسے میدان تبلیغ بنایا ، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے دین کی وقیع خدمت انجام دی۔ ایسے شاعروں کی تمام زندگی انقلابی نظر آتی ہے ، حکومت اور معاشرے کے منفی عناصر سے ٹکراؤ کی کہانی ہمارے لئے سراسر درس حق ہے ، بعض کوجلا وطن کیاگیا ، بعض اپنی سولی اپنے کاندھوں پر اٹھائے شہروں اور آبادیوں میں مارے مارے پھرتے رہے، بعض کی زبان گدی سے کھینچ لی گئی ، بعض کے لئے زندان قبر بن گیا ، بعض کو قبروں سے نکال کر جلایاگیا اور ان کی راکھ ہوا میں اڑا دی گئی۔
ایسے ہی بانکے جیالے شاعروں میں عظیم محدث ، فقیہ ، مناظر و متکلم ابوالحسن علی ابن عبد اللہ بن وصیف بغدادی ہیں جنہیں ان کی ادبی اور فنی پرورش و پرداخت کے پیش نظر ناشی صغیر کہاجاتاہے ۔ ناشی کا مطلب ہے ادب و فن کی نشوو نما کرنے والا ۔ مشہور تذکرہ نگار سمعانی نے ناشی کی وجہ تسمیہ یہی بیان کی ہے۔(2) انہیں علم کلام پر بڑی دسترس تھی ، حدیث و فقہ میں بھی بڑی مہارت تھی ، نتیجہ میں جب وہ شعری میدان میں اترے تو عظیم مجاہد نظر آنے لگے ۔ ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ وہ ابو سہل اسماعیل بن علی بن نوبخت جیسے بالغ نظر متکلم کے شاگرد رشید تھے۔(3) ناشی سے شیخ مفید روایت نقل کرتے ہیں اور شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی بھی اپنے استاد مفید کے واسطہ سے ان سے روایت کرتے ہیں۔(4)
ناشی صغیر نے اپنی ساری عمر مذہب اہل بیت کی تبلیغ و اشاعت میں صرف کی اور اس سلسلہ میں بڑے مصائب جھیلے ، مرنے کے بعد بھی انہیں قبر میں چین سے نہ رہنے دیاگیا اور لاش نکال کر جلاڈالی گئی ۔ (5)
ابن شہر آشوب مازندرانی نے معالم العلماء میں لکھاہے کہ ناشی مدح اہل بیت میں نڈر اور بے باک تھے ، وہ بے خوف و خطر خاندان رسول کا دفاع کرتے تھے ۔(6)
صاحب معجم الادباء(7) نے فالع کا بیان نقل کیاہے کہ و ہ معتقد امامت اہل بیت تھے ، بڑی دل آویز اور دلنشیں گفتگو کرکے اپنے حریف کو قائل کرتے تھے ، ساری عمر مدح اہل بیت میں گزاری ، ان کے مناظرے بڑے مسکت اور دندان شکن ہوتے تھے۔ ناشی نے واقعہ کربلا کو تحفظ غدیر کے تناظر میں پیش کیااور اسے معاشرے میںموثر طریقہ پر راسخ کیا ۔ اپنے ساتھ نوحہ خواں بھی رکھتے تھے جن کا نام احمد مزوق تھا ۔
حموی کے بیان کے مطابق (3)یہی تذکرہ نگار فالع اپنے بچپن کا واقعہ سناتاہے جو ٣٤٦ھ کی بات ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ دانش و ادب کی ایک بزم میں شریک ہوا ، ادیبوں اور شاعروں کا مجمع تھا ، فقہاء اور دانشوان سخن داد و تحسین کے لئے موجود تھے ، یہ علمی بزم اسی بازار کی مسجد میں منعقد ہوئی تھی جو کتاب فروشوں اور زرگروں کے درمیان ہے ، سخن فہموں اور نقادوں سے مسجد چھلک رہی تھی ۔
اچانک ایک نووارد نے بلند آواز سے سلام کر کے سارے مجمع کو اپنی طرف متوجہ کیا ، لوگوں کی نگاہیں اجنبی مسافر پر جم گئیں ، خوش پوشاک اور باوقار وجود ، چہرے پر تھکن کے ساتھ سوگواری کے آثار ، آنکھوں میں تجسس کی تڑپ ، کپڑے دھول سے اٹے ہوئے لیکن شخصیت سے رعب و دبدبے کی شعائیں پھوٹی پڑتی تھیں ، یہی وجہ تھی کہ عوام کے ساتھ خواص بھی نووارد کی طرف ہمہ تن سوال بن کر متوجہ ہوگئے ، مسافر نے مجمع سے لرزتی ہوئی آواز میں خطاب کیا : انا رسول فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا'' میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پیغامبر ہوں ''۔
لوگوں نے اجنبی کا پرتپاک خیر مقدم کیا ، مرحبا بک ، خوش آمدید ، ہم آپ کی تشریف آوری کو صمیم قلب کے ساتھ اہمیت دیتے ہیں ۔ مسافر کو نمایاں مقام پر بٹھایا گیا ، سب کی نگاہیں ابھی تک اسی پر جمی ہوئی تھیں ، جس کے ایک ہاتھ میں پانی کی چھوٹی مشک اور کھانے کا سامان اور دوسرے ہاتھ میں نوکدار چھڑی تھی ، قریب کے ایک بزرگ سے مخاطب ہوا ، کیا آپ ہمیں احمد مزوق کا پتہ بتا سکتے ہیں ، جو بڑے مقبول اور ہر دلعزیز نوحہ خواں ہیں...؟
یہ سن کر آس پاس کے سبھی مشتاقوں نے جواب دیا : یہ کیاہیں احمد مزوق ،یہاں بیٹھے ہیں۔مسافر نے احمد کی طرف التماس آمیز نظر ڈالی تو انکھیں ڈبڈباگئیں ، وہ بھر ائی آواز میں بیان کرنے لگا :میں نے خاتون جنت ، معصومۂ کونین حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہما کو خواب میں دیکھا ہے ، مجھ سے فرمایا کہ بغداد چلے جائو اور احمد کو تلاش کر کے اس سے فرمائش کرنا کہ وہ رقت انگیز نوحہ سنائے جسے ناشی صغیر نے میرے فرزند کے لئے کہاہے :
بنی احمد قلبی لکم یتقطع
بمثل مصابی فیکم لیس سمیع
اسی بزم میں ناشی صغیر بھی موجود تھے ، مقدس وجود سے معتبر بیان سن کر اپنے منھ پر طمانچہ مارنے لگے ، چیخیں مار مار کر رونے لگے ، یہ سند قبولیت بھی تھی اور عزت افزائی بھی مظلوم فرزند کے لئے اپنی ساری توانائیاں وقف کرنے والے کو دکھیاری ماں کا پیغام تشکر۔
وہ اپنے آپے میں نہیں تھا ، اپنے بال نوچنے لگا ، احمد مزوق بھی سر و سینہ پیٹنے لگے ، دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے ، مسافر کا یہ پیغام سبھی حاضرین کے لئے پیغام عز ابن گیا ، رقت انگیز مجلس سید الشہداء قائم ہوگئی ، ہر شخص سر و سینہ پیٹنے لگا ۔ ہائے حسین ہائے مظلوم کی آوازوں سے آسمان لرزنے لگا ، ساری فضا درد و غم سے معمور ہوگئی ، سب سے برتر حالت ناشی کی تھی ، جن کے نوحے کو قبولیت سے سرفراز فرمایا گیا تھا ، پھر ان کے بعد احمد مزوق نوحہ خواں کی حالت ابتر تھی ، جن کی حزینہ آواز نے الفاظ میں درد و اثر کا طوفان بھر دیا تھا ۔
فرمائش کے احترام میں سب نے ظہر تک نوحہ خوانی کی آج احمد مزوق کی آواز میں شدت احساس کی مخصوص چبھن تھی ، سلگتی آواز میں شعلہ سا لپکنے لگا تھا ، مجلس کے بعد لوگوں نے مسافر کو تحائف پیش کئے ، لیکن اس نے قبول نہ کیا ، بہت زیادہ اصرار کیاگیا تو کہنے لگا: خدا کی قسم ! اگر ساری کائنات بھی میرے حوالے کردی جائے تو نہ لوں گا کیا یہ مناسب ہوگا کہ خاتون جنت کا پیغامبر نذرانہ قبول کر ے وہ کسی کا ہدیہ قبول کئے بغیر واپس چلا گیا۔
نوحہ دس شعروں سے زیادہ پر مشتمل ہے ، یہاں صرف سات اشعار نقل کئے جارہے ہیں:
بنی احمد قلبی لکم یتقطع
بمثل مصابی فیکم لیس سمیع

فما بقعة فی الارض شرقا مغربا
ولیس لکم فیھا و مصرع

ظلمتم و قتلتم و قسم فیئکم
و ضاقت بکم ارض فلم موضع

جسوم علی البوغاء ترمی واروس
علی اروس البدن والزوابل ترفع

توارون لم تاد فراشاجنوبکم
ویسلمنی طیبا لھجوع فاھجع

عجب لکم تفنون قتلا بستکم
ویطوعلیکم من لکم کان یخضع

کان رسول اللہ اوصی بقتلکم
واجسامکم فی کل ارض تعزع
''اے فرزندان احمد مختار! تمہارے غم میں میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہے اور تمہارے ماتم و گریہ زاری میں میری حالت اس قدر دگرگوں ہوجاتی ہے کہ ایسی حالت کسی نے نہ سنی ہوگی ، تمام شرق و غرب دنیا میں کوئی بھی چپہ یادیار نہیں جہاں تمہیں شہید یا مقتول حالت میں پیوند خاک نہ کیاگیاہو۔
تم پر ظلم کیاگیا ، تمہیں قتل کیاگیا اور تمہارے حقوق غصب کر کے آپس میں بندر بانٹ کیاگیا ، یہاں تک کہ ساری دنیا تم پر تنگ ہوگئی ، تمہیں کہیں امان نہ تھی ، کیسے کیسے چہرے خاک و خون میں غلطاںکئے گئے ، کیاکیاسر تھے جنہیں نوک نیزہ پر بلند کیاگیا ، تم دیار بدیار پھرائے گئے ، کسی پہلو کو بستر پر قرار نہ ملا ، حالانکہ مجھے چین سے سونا نصیب ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ تم اپنے ہی شمشیروں سے فنا کے گھاٹ اتارے گئے اور وہ شخص تم پر مسلط ہوگیا جوذلیل تھا اور جس کی کوئی وقعت نہ تھی ۔ گویا رسول خداؐ نے سفارش کی تھی کہ تمہیں قتل کیاجائے ، اور تم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار کر تمہارے بدنوں کو تمام روئے زمین پر بکھیردیاجائے''۔
نوحہ کیاہے ، رمزیت سے بھرپور تاریخ شیعیت کا خونچکاں ورق ہے ، اس میں واقعۂ قتل امام حسین کے اسباب و علل کی طرف پچاس سال اوپر سے شاعر کے عہد تک کی مسلسل کریدکی گئی ہے ۔
مختار کا انقلابی اقدام ، زید شہید کی جدو جہد حادثہ فتح ، المیہ کرخ .... نوحہ پڑھتے جائیے اور تسلسل کے ساتھ مظلومیت کی گونجتی گرجتی ، سنساہٹ محسوس کرتے جائیے ۔
اس نوحے میں ہم شکستہ دلوں کے زخموں کا مرہم بھی ہے ، معصومۂ کونین کی قدر افزائی نے اس مرہم کو اور بھی جاں فزا بنا دیاہے ۔
واقعی ایسا لگتا ہے کہ دکھیاری ماں عزاداری حسین کے تمام مراسم عزا کی طرف نگراں ہے ، وہ زبان حال سے فرماتی رہتی ہیں :''میرے دوست دارو! خوشا حال تمہارا تم اس مظلوم پر رورہے ہو جس پر کوئی رونے والا نہ تھا ''۔

حوالہ جات:
١۔علامہ امینی نے اپنی گرانقدر کتاب '' الغدیر فی الکتاب والسنة والادب'' کی پانچویں جلد میں متذکرہ تمام شعراء کے قصائد اور اشعار کے نمونے تحریر فرمائے ہیں اور تفصیل سے ان کے حالات قلمبند کئے ہیں۔
2۔الانساب ، سمعانی ج٥ ص ٤٤٥
3۔ابن خلکان نے اپنی کتاب ''وفیات الاعیان ج٣ ص ٥٦٩پر یہ بات تحریر کی ہے ۔
4۔فہرست ابن ندیم ص ٨٩؛ الوافی بالوفیات ج٢١ ص ٢٠٣؛ لسان المیزان ج٤ ص ٢٧٤
5۔معجم الادباء ، حموی ج١٣ ص ٢٨٤ ؛ قبر سے لاش نکال کر جلانے کی بات ابن شہر آشوب نے معالم العلماء ص ١٣٦ پر تحریر کی ہے۔
6۔معالم العلماء ص ١٤٨
7۔معجم الادباء ، حموی ج١٣ ص ٢٨١
8۔حموی نے واقعہ کی تفصیل اپنی کتاب معجم الادباء ج١٣ ص ٢٩٢۔ ٢٩٣ پر تحریر کیاہے۔

مقالات کی طرف جائیے