مقالات

 

مترجم قرآن مولانا مقبول احمد صاحب مرحوم

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


برصغیر ہندوپاک میں قرآن کریم کے جن اردو ترجموں کو مقبولیت حاصل ہے ان میں سے ایک مولانا مقبول احمد صاحب طاب ثراہ کا ترجمہ بھی ہے ،اس ترجمۂ قرآن کی مقبولیت کے علل و اسباب تو بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں بامحاورہ ترجمہ اور ضخیم ضمیمہ کو خاص اہمیت حاصل ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس ضخیم ضمیمہ نے آپ کے ترجمہ و تفسیر قرآن کو دوسرے تراجم سے ممتاز بنا دیاہے ۔

اجمالی سوانح حیات
مولانا مقبول احمد صاحب طاب ثراہ 1870میں پیدا ہوئے ، آپ کے والد کا نام پیر جی غضنفر علی عرف مراد علی دہلوی ہے ، ایام شیرخوارگی میں ہی ماں کی آغوش سے محروم ہوگئے ، پھر سات سال کی عمر میں سایۂ پدری سے بھی محروم ہوگئے ، والد کے انتقال کے بعد آپ کے بڑے بھائی پیر جی حفیظ اللہ نے آپ کی پرورش کی ، اس وقت وہ پانی پت میں زندگی گزارتے تھے ، وہاں آپ نے ساتویں کلاس تک تعلیم حاصل کی پھر دہلی آگئے ،دہلی میں میرزا احمد بیگ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں کی سرپرستی میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ، میرزا احمد بیگ نے اپنے فرزند کی طرح ان کی تربیت کی ۔ تقربیاً 1886 عیسوی میں ذاتی تلاش و تحقیق کے بعد اپنا آبائی مسلک "اہل سنت " کو چھوڑ کرمذہب حقہ شیعہ اثنا عشری سے منسلک ہوگئے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب تبدیلی مذہب کا آس پاس علاقوں میں چرچا ہوا تو آپ نے ڈر سے تقیہ اختیار نہیں کیا بلکہ دہلی جامع مسجد میں جاکر اپنے مذہب کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو مناظرہ کی دعوت دی لیکن دو دنوں تک کوئی بھی مناظرہ کے لئے تیار نہیں ہوا ۔آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی اور عصری تعلیم میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی ۔
بی اے کے امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد قزلباش خاندان میں شادی کی ، آپ کو خدانے دو فرزند عطا کئے لیکن دونوں فرزند جواں سالی میں داغ مفارقت دے گئے ۔

مذہبی اور سماجی خدمات
مولانا مقبول احمد صاحب طاب ثراہ کی مذہبی اور سماجی دونوں خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ، آپ ایک بلند پایہ اور خوش بیان خطیب تھے ،ایک مدت تک نواب حامد علی خان کی مسجد میں خطابت کا فریضہ انجام دیا ، 21/رمضان المبارک کو فیض آباد تشریف لے گئے اور وہاں کثیر مجمع میں مجلس سے خطاب فرمایا جس کی وجہ سے آپ کی خطابت کو کافی شہرت ملی ، اس کے بعد آپ دور دراز علاقوں میں مجلس خطاب کرنے کے لئے تشریف لے جانے لگے ۔آپ کی خطابت میں موجود علمی صلاحیتوں کو نواب رامپور نے محسوس کیا جس کی وجہ سے وہ کافی متاثر ہوئے ، انہوں نے اپنی ریاست کے بعض امور کے حساب و کتاب کی ذمہ داری آپ کے حوالے کی ، لیکن اس مصروفیت کے باوجود بھی آپ نے خطابت نہیں چھوڑی اور وقفہ وقفہ سے متعدد جگہوں پر خطابت کرتے رہے ۔
اس کے علاوہ ریاست دہلی کے عہدہ آوٹ آفیسری پر مامور رہے ، ایک مدت تک مدرسہ اثنا عشریہ میں تدریس کا فریضہ انجام دیا ، چنانچہ مدرسہ کی طرف سے راجا سید باقر علی خان کی خدمت میں ایک وفد گیا تو اس میں آپ بھی شریک تھے ، آپ کی صلاحیت کو دیکھ کر راجا صاحب جب تک زندہ رہے خود سے جدا نہ کیا ۔
آپ کی بے پناہ تبلیغ کا نتیجہ تھا کہ آپ نے 1920عیسوی میں سو آغاخانی خوجوں کو شیعہ کیا ، پھر 1921 عیسوی میں دوبارہ ممبئی تشریف لے گئے تو اس سے زیادہ لوگوں کو شیعہ کیا ۔
آپ کے وعظ و نصیحت کا انداز دلکش تھا ، ایک مرتبہ سننے والا بار بار سننے کا مشتاق ہوتاتھا ، آپ اپنی گفتگو میں اکثر مناظرانہ لب و لہجہ اختیار کرتے تھے ، تشیع کی تبلیغ و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی سے بھی خوف زدہ نہیں ہوتے تھے ۔آواخر عمر میں ایک عمومی اسپتال بنوانے کا ارادہ تھا لیکن مالی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے اپنی خواہش کوعملی جامہ نہ پہناسکے ۔

قلمی جواہر پارے
ترجمہ و تفسیر قرآن کے علاوہ آپ کے بعض قلمی جواہر پارے مندرجہ ذیل ہیں:
ترجمہ اسنی المطالب فی ایمان ابی طالب ؛ دینی علوم کے متعلق درسی کتاب (پانچ حصے )؛ زائچۂ تقدیر ؛ فالنامہ دانیال ؛ تہذیب الاسلام ؛ ترجمہ حلیۃ المتقین ؛ وظائف مقبول ؛چودہ سورتوں کا مجموعہ ؛ دعاؤں کا مجموعہ؛ مفتاح القرآن …۔

ترجمه وتفسیر قرآن کا اجمالی تعارف
مولانا مقبول احمد صاحب طاب ثراہ نے اپنی تفسیر میں عام طور سے تفسیر صافی کو بنیادی حیثیت دی هے اور بعض مقامات پر دوسری معتبر تفسیروں سے بھی استفاده کیا هے۔آپ نے قرآن کا بطور کامل ترجمه کیا اور حواشی میں تفسیری نکات تحریر کئے ہیں اور اس سلسلے میں روایات سے بھرپور استفادہ کیاہے ، اپنی تفسیر میں آپ نے زیادہ تر شیعہ و سنی اختلافی مسائل کو بیان کیا اور ان مطالب کی تفصیل پر مشتمل ایک علیحده ضمیمه بھی لکھا چونکه ضمائم کا حجم زیادہ تھا اس لئے وہ ایک مستقل جلد میں طبع هوۓ ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ بعض جگہوں پر ضمائم کی اشاعت ممنوع قرار دے دی گئی ہے ۔
ترجمه قرآن کا وه نسخه جو هماری نظر سے گذارا وه مقبول پریس کی طرف سے تیسری بار چھپا هے، اس ترجمه کے ابتدائی صفحات پر چند علماء کی تقریظات مرقوم هیں جن میں مولانا سید احمد علی؛سید کلب حسین ؛سید محمد دہلوی؛سید نجم الحسن امروہوی؛سید سبط نبی نوگانوی ؛سید محمد باقر؛سید محمد هادی؛سید آقا حسین؛سید ناصر حسین ۔ یه ترجمه ۹۶۶ صفحات پر مشتمل هے ۔
آپ نے ترجمه اور تفسیر لکھنے میں جن منابع سے استفاده کیا وه اکثر روایی هیں جیسے اصول کافی ٬تفسیر قمی ٬تفسیر عیاشی ٬احتجاج طبرسی ٬تفسیر مجمع البیان اور تفسیر صافی وغیرہ۔ترجمه قرآن میں انکا اسلوب با محاوره هے، اگر چہ بعض جگہوں پر اس بات کی بھی کوشش کی ہے کہ آیات کے تحت اللفظی ترجمہ سے استفادہ کریں ۔

وفات :
مولانا مرحوم تبلیغ دین کے لئے مختلف شہروں میں سفر کرتے رہتے تھے ، چنانچہ ممبئی میں انہوں نے دو سو سے زائد لوگوں کو شیعہ کیا ، وہاں سے شملہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی دین حقہ کی تبلیغ کی ، 23دسمبر 1921عیسوی کو آپ شملہ سے دہلی واپس آئے اورایک دن بعدیعنی 24/دسمبر 1821عیسوی کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔آپ کی وفات سے پورا ہندوستان غم و اندوہ میں ڈوب گیا ، کافی دنوں تک ایصال ثواب کی مجلسیں ہوئیں۔ آپ کی وفات کے بعد دہلی میں مدرسۃ القرآن اور آگرہ میں مقبول المدارس تعمیر کیاگیا ، جو آج بھی بطور یادگار موجود ہیں ۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

مقالات کی طرف جائیے