مقالات

 

عالمی روز قدس کا فلسفہ اور پیغام

سید علی عباس رضوی الہٰ بادی

پہلی جنگ عظیم، اسلام کے خلاف، سامراجیت کی ایک وسیع جنگ تھی، ١٩١٣ء کی اس جنگ میں اسلامی سرزمینوں کا ایک بڑا حصہ سامراج کے قبضے میں آگیا، برطانوی سامراج نے بین النہرین(١) (عراق)، اردن، فلسطین اور نہرسوئز(٢) کی سرزمینوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور فرانس نے شامات، لبنان اور جبل عامل کے علاقوں پر حملہ کرکے انھیں اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسلامی سرزمینوں پر قبضہ پانے کے بعد سامراج نے دنیائے اسلام کے خلاف مختلف سازشیں رچیں، جن میں سے ہم بعض کو یہاں بیان کر رہے ہیں:
١۔ اسلامی سرزمینوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور انھیں وسیع اور قدرتمند اسلامی ملک بننے سے باز رکھا۔ حضرت آیة اللہ خمینی اس بارے میں فرماتے ہیں: ''باوجود اس کے کہ عثمانی حکومت کے حکمراں قطعاً حکومت کرنے کی لیاقت نہیں رکھتے تھے لیکن اسلام کے دشمنوں کو یہ خدشہ تھا کہ اگر کبھی کسی لائق شخص نے اس حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو ان کا قصہ ختم ہو جائے گا، لہٰذا انھوں نے عثمانی حکومت کی کایا پلٹ دی اور پہلی عالمی جنگ میں ان کی سرزمینوں کو ١٤۔١٥ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے اپنے کارندوں کے حوالے کردیا۔
٢۔ اسلامی و عربی ملکوں کی حکومت بدنام اور بدعنوان کٹھ پتلیوں کو سونپ دی۔ پہلی جنگ عظیم کو ختم ہوئے ابھی چند دن بھی نہیں گزرے تھے کہ استعمار نے، اسلامی ملکوں کو ایک ایک کرکے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ١٩٢٣ئ میں ترکی میں مصطفی کمال اقتدار میں آیا، ١٩٢٤ئ میں lowbrow اور جنگلی آل سعود نے سرزمین حجاز کی باگ ڈور سنبھالی اور ہاشمی خاندان عراق و اردن کے تخت سلطنت پر قابض ہوا۔ ١٩٢٥ئ میں رضا خان جیسا جاہل و فاسد شخص ایران کا حاکم بنا، اگر چہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ١٩٢٠ئ میں ہی اس کے اقتدار کا میدان فراہم ہو چکا تھا۔
٣۔ علمائے اسلام اور رہبران دین جو کہ استعمار کے راستوں کی رکاوٹ تھے، مختلف حیلوں نے انھیںراستوں سے ہٹا کر ایک گوشے میں ڈال دیا ۔ برطانیہ نے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد نجف کے تقریبا ٣٠ بڑے علماء و مراجع کو ایران اور دوسری جگہوں پر جلاوطن کیاجن میں سید ابوالحسن اصفہانی، شیخ عبدالکریم حائری یزدی (مؤسس حوزہ علمیہ قم) مرزا نائینی، الحاج آقا جواد (صاحب جواہر)، الحاج آقا حسین طباطبائی جیسی عظیم شخصیتیں بھی شامل ہیں۔
٤۔ سرزمین فلسطین، جس پر ایک مدت سے صہیونیزم و نسل پرست یہودیوں کی نظر گڑی تھی، کو مشرق وسطیٰ میں سیاسی بحران کامرکز بنایا، پہلی جنگ عظیم کے بعد، lord balfour (وزیرخارجہ وقت برطانیہ) اور صہیونی رہنماؤں کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق، سرزمین فلسطین پر یہودیوں کی آمد شروع ہو گئی، اور اسرائیل کے وجود میں آنے کا میدان ہموار ہوگیا۔ بالفور کے بیانیہ کے یہ الفاظ ہیں: ''برطانیہ کی حکومت، فلسطین کو یہودیوں کی سرزمین بننے کے لئے سازگار سمجھتی ہے اور اس کے تحقق کے لئے بھرپور کوشش کرے گی ...''۔
١٩٢٥ئ سے ١٩٤٩ئ کے درمیان صہیونی رہنماؤں نے فلسطین کو یہودیوں سے بھر دیا۔ مرغوب ترین زمینوں کو عرب کے زرپرست سرمایہ داروں سے خرید لیااور اس طرح فلسطین میں اپنے قدم جما لئے، آخرکار ١٩٤٩ئ میں برطانیہ فلسطین سے دست بردار ہوگیا اورصہیونیزم جو سالوں سال سے اس دن کی منتظر تھی میدان میں آگئی اور ایک خونی جنگ کے بعد فلسطین پر قبضہ کرکے ''اسرائیل'' کی بنیاد ڈال دی۔
صہیونیوں کی کامیابی اور اسرائیل کے وجود میں آنے کے اسباب
الف: برطانیہ کے قبضہ کے بعد سے فلسطین میں کوئی حکومت نہیں تھی، اس لئے جب غیرملکی طاقتیں فلسطینی عوام کو اپنے بے رحمانہ اور وحشیانہ حملوں کا نشانہ بناتیں تو مظلوم فلسطینی ان منظم حملوں سے نہ اپنے کو بچا پاتے اور نہ اپنی سرزمین کو، اور غیرمنظم دفاع میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ ان صہیونی منظم کا مقابلہ کرسکیں۔
ب: فلسطینیوں کے ہاتھ اسلحوں سے خالی تھے جب کہ صہیونیوں کے پاس ہرطرح کااسلحہ موجود تھا۔
ج: بعض اسلامی و عربی حکومتیں سپرپاور حکومتوں کی ایجنٹ تھیں، جن میں اپنے آقاؤں کی سیاست کے خلاف قدم اٹھانے کی جرأت نہیں تھی۔ چوں کہ فلسطین کی ہمسایہ حکومتوں کی تقدیر صہیونیوں کی تقدیر کے ساتھ وابستہ تھی لہٰذا فلسطینیوں کی کامیابی میں ہمسایہ ملکوں کا نقصان تھا۔ اگر فلسطین کی عوام کو کامیابی حاصل ہوجاتی تو دوسری عرب حکومتوں کے عوام بیدار ہوجاتے اور اسرائیل کی کٹھ پتلی حکومتوں کا تختہ بھی پلٹ دیتے۔ جیسا کہ آج بھی جارڈن، سعودی عرب اور اسرائیل سے وابستہ دوسری حکومتیںجانتی ہیں کہ اسرائیل کی سرنگونی میں ان کی سرنگونی ہے لہٰذا وہ صہیونیوں کے وجود کو بچانے میں کوشاں رہتے ہیںاور اپنے آقاؤں کی سیرت پرعمل کرتے ہوئے عوامی تحریکوں کو سر اٹھانے کا موقع ہی نہیں دیتے۔
عبدالکریم قاسم جو ١٣٢٧ کی جنگ میں عراق کی فوج کا کمانڈر تھااپنی یادداشت میں لکھتا ہے: ''... عراق کی فوج قلب فلسطین تک پہونچ چکی تھی اور ہم نے اسرائیل کے اہم ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا تھا اور فلسطین کی مکمل آزادی میں صرف چند قدم کا فاصلہ تھا کہ بغداد سے واپسی کا فرمان آپہونچااور ہمیں مجبور ہوکر واپس لوٹنا پڑا اور جن جگہوں کو بڑی جانفشانیوں سے چھینا تھا واپس کرنا پڑا..)۔
د:برطانیہ کی واپسی کی حکمت عملی نے صہیونیوں کی کامیابی میں اہم کردار نبھایا، اس لئے کہ برطانیہ نے پہلے یہودی نشین علاقوں کوپھر مسلمانوں کے علاقوں کو چھوڑا تاکہ صہیونی دہشتگردوں کو محاذآرائی کا بھرپور موقع مل سکے۔ اس سے پہلے کہ فلسطینی عوام اپنے دفاع کی تیاری کرتے صہیونیوں نے چاروں طرف سے محاصرہ کرکے حملہ شروع کردیا۔
اس طرح ١٩٤٨ئ میں قلب جہان اسلام میں منحوس اسرائیل وجود میں آیااور مشرق وسطیٰ میں جنگ وفتنہ کی آگ کو ہمیشہ شعلہ ور رکھنے اور کسی آزادی خواہ (libertarian )کو اقتدار میں نہ آنے دینے کا طویل مدتی منصوبہ تیار کیا۔
استکبار نے عربوں اور فلسطینیوں کو آزادی حاصل کرنے کی راہ میں بھی فریب دیا۔ سب سے پہلے مرحلے میں عالمی استکبار نے فلسطین کی اس عظیم مصیبت کو دنیائے اسلام سے الگ کیااور اسے عربوں کی مشکل کے عنوان سے پیش کیا۔
دنیائے اسلام کے آگاہ اور مجاہد علماء مثلا آیت اللہ سید ابو القاسم کاشانی جیسی شخصیتوں نے اسی زمانے میں مسلمانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایااور عالم اسلام کو فلسطین کی آزادی کے لئے مدعو کیا لیکن عالم استکبار کی کٹھ پتلی حکومتوں نے ان کی آوازوں کو دبا دیا۔
فلسطینیوں اور عربوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمار کی دوسری سیاسی چال یہ تھی کہ فلسطینیوں کو ایک مدت تک اس امید میں رکھا کہ بین الاقوامی تنظیمیں انھیں انصاف دلائیں گی، جب کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ یہ تنظیمیں دنیا کے سامراجوں کے ایجنٹ ہیں اور محروم و مظلوم لوگوں کو فریب دینے کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں ہے۔
پھر انھیں یہ احساس دلایا کہ عرب حکومتیں انھیں ان کی سرزمین واپس دلائیں گی جب کہ ہر ایک جانتا ہے کہ وہ خود ہی صہیونیوں کی کٹھ پتلی ہیں۔ استعمار نے فلسطینیوںکو ان جالوں میں پھنساکر رکھا اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھا کر غاصب اسرائیل نے فلسطین میں اپنا قدم اور بھی مستحکم کرلیا ۔
اس درمیان کچھ جمہوری اور استعمار مخالف حکومتیں عرب کے بعض خطوں میں وجود میں آئیں اور فلسطینیوں میں بھی آزادی حاصل کرنے کا جذبہ پید اہوالیکن چوں کہ ان حکومتوں اور تحریکوں کے نظریات انحرافی تھے لہٰذا انھیں بھی کامیابی نہیں ملی۔یہ حکومتیں اور تحریکیں اپنے مکتب فکر اور نیشنلزم Nationalism، سوشلزم Socialism، عربیسم Arabism، جیسی import شدہ اصطلاحوں کے سہارے اور سپرپاور سویت (روس) کی مدد سے فلسطین کو آزاد کرانے کی کوشش کررہے تھے جو کہ ایک محال امر تھا۔
خبیث سوویت (شوروی) نے اسرائیل کی تخلیق میں بنیادی کردار ادا کیاتھاجس نے نہ صرف یہ کہ عربوں کو فلسطین کی آزادی کے لئے سیاسی اور فوجی تیاری کا موقع نہیں دیا بلکہ اپنی چال بازی اورمکاری سے انھیں ذلیل و رسوا بھی کیا۔
فریب خوردہ حکومتیں مدتوں نیشنلزم اور سوشلزم کے بے جان نعروں اور سوویت کی سیاست کے زیر سایہ فلسطین کی آزادی کا خواب دیکھتی رہیں لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی بلکہ ١٣٤٦میں (یعنی فلسطین پر اسرائیل کے تسلط کے ٢٠سال بعد) اعراب و اسرائیل کی جنگ میں فلسطین (بیت المقدس) کی سرزمین کے دوسرے حصے مثلاً مرتفع جولان(٣) اور صحرائے سینا (٤)بھی ان کے ہاتھوں سے نکل گئے۔
عرب کی نیشنلزم حکومتوں کی شکست کے بعد فلسطینیوں کو یہ احساس ہوگیا کہ انھیں خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیئے جس کے نتیجے میں مختلف آزادی بخش تنظیمیں وجود میں آئیں لیکن ان تنظیموں نے بھی وہی راستہ اپنایا جو عرب حکومتوں نے اپنایا تھا، ایک گروہ نیشنلزم کا نعرہ لے کر آیا، دوسرا مارکسی Marxist کا نعرہ لیکر اٹھا، تیسرا سوشلزم کے نعرے کے ساتھ آگے آیااور سب نے منافق سوویت پر بھروسہ کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ گوریلا جنگ کے باوجود بھی فلسطینیوں کو خاطر خواہ کامیابی ملنا تو درکنار، کتنے بہترین جوانوں کی قربانیاں بھی رائگاں ہو گئیں۔
ان حالات میں جب ملت عرب اور ملت فلسطین ناامیدی، ناتوانی اور مایوسی کا شکار ہوچکی تھی اور اسرائیل سے سمجھوتہ اور مفاہمت کی کوشش میں مشغول تھی کہ ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیاجس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑکر رکھ دیا۔ اس انقلاب نے فلسطینی عوام کے بے جان جسم میں ایک تازہ روح پھونک دی اور انھیں بھی آسمان سیاہ و غمبار میں امید کی روشنی نظر آنے لگی۔
حضرت آیة اللہ خمینی نے عالمی یوم قدس کے اعلان کے ذریعے مسلمانوں کو فلسطین کی آزادی کا راستہ دکھانے اورناامیدی سے نجات دلانے کی کوشش کی، لہٰذا آپ نے ١٩٩٧ء میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پیغام دیا:
''... میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں رمضان المبارک کے آخری جمعہ جو ایام قدر میںسے بھی ہے اور فلسطین کے عوام کی بھی تقدیر بدل سکتا ہے، کو روز قدس کے عنوان سے مخصوص کریں اور تمام مسلمان متحد ہوکر فلسطینیوں کے قانونی حقوق کی حمایت کریں...۔
حضرت آیة اللہ خمینی کی جانب سے عالمی یوم قدس کا اعلان کیا گیااس اعلان کے ساتھ آیة اللہ خمینی نے مسلمانوں کو کچھ اہم پیغام بھی دیئے جن میں سے چند کو یہاں ذکر کر رہے ہیں:
١۔یوم قدس تمام مسلمانوں کو پیغام دیتا ہے کہ فلسطین کی تقدیر ان کی تقدیر سے جدا نہیں ہے اور شمع اسلام کے پروانے اپنے کو فلسطینی عوام کی مصیبتوں میں شریک سمجھیں اور سرزمین فلسطین کو صہیونیوں سے آزاد کرانے کی کوشش میں اپنی پوری طاقت صرف کریں۔
٢۔ یوم قدس تمام مسلمانوں بالخصوص فلسطین کی عوام کو یاد دلاتا ہے کہ کامیابی کا واحد راستہ اسلام ہے، اسلام ہی ایسی طاقت ہے جو فلسطینیوں اور دوسری سرزمینوں کو صہیونیوں اور دوسرے اسلام دشمنوں سے آزادی دلا سکتاہے، ایکسپورٹ شدہ اور اجارے کے نظریات اور قومیت گرائی کا نعرہ انھیں غلامی کی زندگی سے آزاد نہیں کراسکتا۔
فلسطین کی عوام صرف اپنی طاقت کے بلبوتہ پر ہی آزاد ہوسکتی ہے انھیں اس اصل (لاشرقیة و لا غربیة یعنی نہ شرقی اور نہ غربی) کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔(٤) فلسطین کی آزادی کا راستہ خون، ایثار اور شہادت ہے۔ فلسطین کا مسئلہ میدان جنگ میں حل ہوگا نہ گفتگو سے حل ہوگا اور نہ ہی اسلام کے قدیمی دشمنوں سے سمجھوتہ کرنے سے حل ہوگا۔
٥۔ملت اسلامیہ اس مقدس دن میں مظاہرے کرکے عالم اسلام کی سربلندی کے لئے قدم اٹھائے اور صرف صہیونی سرطانی جڑوں کو خشک کرنے کی فکر نہ کریں بلکہ سرمایہ دارانہ اور کمیونیسٹ نظام کو بھی نابود کرنے کی کوشش کریں۔
حضرت آیة اللہ خمینی نے ١٩٨٠ء کے پیغام میں اعلان کیا:
''... روز قدس صرف روز فلسطین نہیں ہے بلکہ روز اسلام ہے... میں روز قدس کو روز اسلام اور روز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھتا ہوں، روز قدس وہ دن ہے جس میں ہمیں اپنی تمام تر طاقتوں کو بروئے کار لانا چاہیئے تا کہ مسلمانوں کو ذلت کی زندگی سے باہر نکالا جا سکے اور اغیار سے مقابلہ کیا جا سکے...۔''
اور حضرت آیة اللہ خمینی نے ١٩٨٧ء کے تاریخی پیغام میںاعلان کیا :
''ہم فاسد صہیونیت اور سرمایہ داری و کمیونیسٹ کی جڑوں کو خشک کردیں گے۔ ہم خدا کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے ہر اس نظام کو نابود کردیں گے جس کی بنیاد ان تین پایوں (صہیونیزم، سرمایہ داری، کمیونیسٹ) پر قائم ہو اور دنیا میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نظام رائج کریںگے، کبھی نہ کبھی دنیا کی ستمدیدہ اور اسیر ملتیں اس دن کو دیکھیںگی... انشاء اللہ۔

حوالہ جات
١۔بین النہرین (mesopotamia) عراق میں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان واقع علاقے کو کہتے ہیں۔ یہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے جنم لیا مثلاً اکادی، اشوری اور بابل کی تہذیب، یہ چھ ہزار سال قبل مسیح سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
٢۔ نہر سوئز مصر کی ایک سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر ١٦٣ کلومیٹر (١٠١میل) طویل اور کم از کم ٣٠٠میٹر چوڑی ہے۔اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقہ کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمد و رفت کر سکتے ہیں۔ ١٨٦٩ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے سڑک کے راستے لے جایا جاتا تھا۔پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکہ اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبدالناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکہ اوراسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔
٣۔جس کو عربی میں ہضبة الجولان کہا جاتا ہے ایک سطح مرتفع (plateau ) علاقہ ہے اور ارض شام کا حصہ ہوتے ہوئے اس ملک کے مغرب میں واقع ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ہضبة الجولان کے گرد جو دیگر علاقے پائے جاتے ہیں ان میں لبنان، اردن اور اسرائیل شامل ہیں۔ اس کو اردو میں اکثر، انگریزی حساب سے سرف گولان بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اسی زبان میں اس کو (golan heights ) بھی کہا جاتا ہے۔
٤۔ صحرائے سینا مصر میں مثلث شکل کا ایک جزیرہ نما ہے جس کے شمال میں بحیرہ روم اور جنوب میں بحیرہ احمر ہے۔ یہ تقریبا ٦٠ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے۔اس کی زمینی سرحدیں مغرب میں نہر سوئز اور شمال مغرب میں اسرائیل سے ملتی ہیں۔

مقالات کی طرف جائیے