مقالات

 

روزہ کے احکام

آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی کی توضیح المسائل سے ماخوذ

روزہ کی تعریف:
• خدا کی خوشنودی اور اس کے آگے اظہارِ تذلل کے لئے انسان اذانِ صبح سے مغرب تک نو چیزوں سے جو بعد میں بیان کی جائیں گی پرہیز کرے۔

روزہ کی نیت:
• انسان کے لئے روزہ کی نیت دل سے گزارنا یا مثلاً یہ کہنا کہ "میں روزہ رکھوں گا" ضروری نہیں بلکہ اس کا اراد ہ کرنا کافی ہے کہ وہ بارگاہِ الہٰی میں اپنی ذلت کے اظہار کے لئے اذان صبح سے مغرب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے روزہ باطل ہو اور یقین حاصل کرنے کے لئے اس تمام وقت میں وہ روزے سے رہا ہے ضروری ہے کچھ دیر اذان صبح سے پہلے اور کچھ دیر مغرب کے بعد بھی ایسے کام کرنے سے پرہیز کرے جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
• انسان رمضان کی ہر رات کو اس سے اگلے دن کے روزے کی نیّت کر سکتا ہے۔
• رمضان میں روزے کی نیّت کا آخری وقت ایسے شخص کے لئے جس کی توجہ ہو، اذان صبح سے پہلے ہے یعنی احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اذانِ صبح کے وقت جب وہ پرہیز شروع کرے تو ارادے کے ساتھ ہو جائے وہ ارادہ ناخودآگاہ طور پر اس کے دل میں کہیں موجود ہو۔
• جس شخص نے ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرے تو وہ جس وقت بھی دن میں مستحب روزے کی نیّت کر لے اگرچہ مغرب ہونے میں کم وقت ہی رہ گیا ہو، اس کا روزہ صحیح ہے۔
• جو شخص رمضان کے روزوں اور اسی طرح واجب روزوں میں جن کے دن معین ہیں روزے کے نیّت کئے بغیر اذان صبح سے پہلے سو جائے اگر وہ ظہر سے پہلے بیدار ہو جائے اور روزے کی نیّت کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر وہ ظہر کے بعد بیدار ہو تو ضروری ہے کہ احتیاط کرتے ہوئے مطلقہ نیّت سے باقی دن خود کو روزہ باطل کرنے والی چیزوں سے بچائے اور اس دن کے روزے کی قضا بھی بجا لائے۔
• اگر کوئی شخص قضا یا کفارہ کا روزہ رکھنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس روزے کو معین کرے مثلاً نیّت کرے کہ میں قضا کا یا کفارے کا روزہ رکھ رہا ہوں لیکن رمضان میں یہ نیّت کرنا ضروری نہیں کہ میں رمضان کا روزہ رکھ رہا ہوں بلکہ اگر کسی کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ رمضان ہے اور کسی دوسرے روزے کی نیت کرے تب بھی وہ روزہ رمضان کا روزہ شمار ہو گا۔ نذر اور اس جیسے روزے میں نذر کی نیت کرنا ضروری نہیں۔
• اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے اور جان بوجھ کو رمضان کے روزے کے علاوہ کسی دوسرے روزے کی نیّت کرے تو وہ روزہ جس کی اس نے نیّت کی ہے وہ روزہ شمار نہیں ہو گا اور اسی طرح رمضان کا روزہ بھی شمار نہیں ہو گا اگر وہ نیّت قصد قربت کے منافی ہو بلکہ اگر منافی نہ ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر وہ روزہ رمضان کا روزہ شمار نہیں ہو گا۔
• مثال کے طور پر اگر کوء شخص رمضان کے پہلے روزے کی نیت کرے لیکن بعد میں معلوم ہو کہ یہ دوسرا روزہ تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرنے کے بعد بے ہوش ہو جائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آ جائے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اگر تمام نہ کرے تو اس کی قضا بجا لائے۔
• اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیّت کرے اور پھر مست ہو جائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آ جائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجا لائے۔
• اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیّت کرے اور سو جائے اور مغرب کے بعد بیدار ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کسی شخص کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ رمضان ہے اور ظہر سے پہلے اس امر کی جانب متوجہ ہو اور اس دوران کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہو گا لیکن ضروری ہے کہ مغرب تک کوئی ایسا کام نہ کرے جو روزے کو باطل کرتا ہواور رمضان کے بعد روزے کی قضا بھی کرے۔ اگر ظہر کے بعد متوجہ ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے تو احتیاط کی بنا پر رجاء ً روزے کی نیّت کرے اور رمضان کے بعد اس کی قضا بھی کرے اور اگر ظہر سے پہلے متوجہ ہو اور کوئی ایسا کام بھی نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ روزے کی نیّت کرے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر رمضان میں بچہ اذان صبح سے پہلے بالغ ہو جائے تو ضروری ہے کہ روزہ رکھے اور اگر اذان صبح کے بعد بالغ ہو تو اس دن کاروزہ اس پر واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر مستحب روزہ رکھنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے اس روزے کو پورا کرے۔
• جو شخص میت کے روزے رکھنے کے لئے اجیر بنا ہو یا اس کے ذمے کفارے کے روزے ہوں اگر وہ مستحب روزے رکھے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قضا روزے کسی کے ذمے ہوں تو وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا اور اگر بھول کر مستحب روزہ رکھ لے تو اس صورت میں اگر اسے ظہر سے پہلے یاد آ جائے تو اس کا مستحب روزہ کالعدم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی نیّت قضا روزے کی جانب موڑ سکتا ہے۔ اگر وہ ظہر کے بعد متوجہ ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے مغرب کے بعد یاد آئے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر رمضان کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا معین روزہ انسان پرواجب ہو، مثلاً اس نے منت مانی ہو کہ ایک مقرر دن کو روزہ رکھے گا اور جان بوجھ کر اذان صبح تک نیت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے معلوم نہ ہو کہ اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے یا بھول جائے اور ظہر سے پہلے اسے یاد آئے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور روزے کی نیت کر لے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر ظہر کے بعد اسے یاد آئے تو رمضان کے روزے میں جس احتیاط کا ذکر کیا گیا ہے اس کا خیال رکھے۔
• اگر کوئی شخص کسی غیر معین واجب روزے کے لئے مثلاً روزہ کفارہ کے لئے ظہر کے نزدیک تک عمداً نیت نہ کرے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اگر نیت سے پہلے مصمم ارادہ رکھتا ہو کہ روزہ نہیں رکھے گا یا مذمذب ہو کہ روزہ رکھے یا نہ رکھے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور ظہر سے پہلے روزے کی نیت کر لے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی کافر رمضان میں ظہر سے پہلے مسلمان ہو جائے اور اذان صبح سے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ مافی الذمہ کی نیت سے دن کے آخر تک روزہ باطل کرنے والے کاموں سے پرہیز کرے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس دن کی قضا بجا لائے۔
• اگر کوئی بیمار شخص رمضان کے کسی دن میں ظہر سے پہلے تندرست ہو جائے اور اس نے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نیّت کرے اور اس دن کا روزہ رکھے اور اگر ظہر کے بعد ٹھیک ہو تو اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں۔ البتہ ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے۔
• جس دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ، اس دن کا روزہ رکھنا اس پر واجب نہیں ہے اگر روز ہ رکھنا چاہے تو رمضان کے روزے کی نیّت کر سکتا لیکن نیت کرے کہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روزہ ہے اور اگر رمضان نہیں تو قضا روزہ یا اسی جیسا کوئی اور روزہ ہے تو بعید نہیں اس کا روزہ صحیح ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ قضا روزے وغیرہ کی نیت کرے اور اگر بعد میں پتا چلے کہ رمضان تھا تو رمضان کا روزہ شمار ہو گا لیکن اگر نیت صرف روزے کی کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ رمضان تھا تب بھی کافی ہے۔
• اگر کسی دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ اور وہ قضا یا مستحب یا ایسے ہی کسی اور روزے کی نیت کر کے روزہ رکھ لے اور دن میں کسی وقت اسے پتا چلے کہ رمضان ہے تو ضروری ہے کہ رمضان کے روزے کی نیت کر لے۔
• اگر کسی معین واجب روزے کے بارے میں انسان مذبذب ہو کہ اپنے روزے کو باطل کرے یا نہ کرے یا روزے کو باطل کرنے کا قصد کرے تو اگر دوبارہ روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ روزے کی نیت کر لے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور بعد میں اس کی قضا کرے۔
• اگر کوئی شخص جو مستحب روزہ یا ایسا واجب روزہ مثلاً کفارے کا روزہ رکھے ہوئے ہو جس کا وقت معین نہ ہو کسی ایسے کام کا قصد کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو یا مذبذب ہو کہ کوئی ایسا کام کرے یا نہ کرے تو اگر وہ کوئی ایسا کام نہ کرے اور واجب روزے میں ظہر سے پہلے اور مستحب روزے میں غروب سے پہلے دوبارہ روزے کی نیّت کر لے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

مبطلاتِ روزہ
• آٹھ چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں:
1) کھانا اور پینا۔
2) جما ع کرنا۔
3) استمناء ۔ یعنی مرد اپنے ساتھ یا کسی دوسرے سے جماع کے علاوہ کوئی ایسا فعل کرے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو۔
4) خدا وندعالم ، پیغمبر اکرمؐ اور ان کے جانشینوں سے احتیاط واجب کی بنا پر کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔
5) غبار حلق تک پہنچانا احتیاط واجب کی بنا پر۔
6) اذان صبح تک جناب، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔
7) کسی سیال چیز سے حقنہ (انیما) کرنا۔
8) قے کرنا۔
• ان مبطلات کے تفصیلی احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جا رہے ہیں۔

1۔کھانا اور پینا
• اگر روزے دار اس امر کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہ روزے سے ہے کوئی چیز جان بوجھ کر کھائے یا پئے تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ چیز ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیا جاتا ہو مثلاً روٹی اور پانی یا ایسی ہو جسے عموماً پیا نہ جاتا ہو مثلاً مٹی اور درخت کا شیرہ، اور خواہ کم ہو یا زیادہ حتیٰ کہ اگر روزے دار ٹوتھ برش منہ سے نکالے اور دوبارہ مُنہ میں لے جائے اور اس کی تری نگل لے تب بھی روزہ باطل ہو جاتا ہے سوائے اس صورت کے کہ اس کی تری لعاب دہن میں گھُل مل کر اس طرح ختم ہو جائے کہ اسے بیرونی تری نہ کہا جا سکے۔
• جب روزے دار کھانا کھا رہا ہو اگر اسے معلوم ہو کہ صبح ہو گئی ہے تو ضروری ہے کہ جو لقمہ منہ میں ہو اسے اُگل دے اور اگر جان بوجھ کو وہ لقمہ نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس حکم کے مطابق جس کا ذکر بعد میں ہو گا اس پر کفارہ بھی واجب ہے۔
• اگر روزے دار غلطی سے کوئی چیز کھا لے یا پی لے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا ۔
• انجکشن اور ڈرپ سے روزہ باطل نہیں ہوتا، چاہے انجکشن تقوت پہنچانے والا اور ڈرپ گلوکوز وغیرہ کی ہی کیوں نہ ہو۔ دمے کی بیماری میں استعمال ہونے والا اسپرے اگر دوا کو صرف پھیپھڑوں تک پہنچائے تو اس سے بھی روزہ باطل نہیں ہوتا۔ اسی طرح آنکھ اور کان میں دوا ڈالنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا چاہے اس کا ذائقہ گلے میں محسوس ہو۔ ناک میں ڈالی جانے والی دوا اگر گلے تک نہ پہنچے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
• اگر روزے دار دانتوں کی ریخوں میں پھنسی ہوئی کوئی چیز عمداً نگل لے تو اس کاروزہ باطل ہو جاتا ہے۔
• جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اس کے لئے اذان صبح سے پہلے دانتوں میں خلال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر اسے علم ہو کہ جو غذا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہے وہ دن کے وقت پیٹ میں چلی جائے گی تو خلال کرنا ضروری ہے۔
• مُنہ کا پانی نگلنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا خواہ ترشی وغیرہ کے تصور سے ہی مُنہ میں پانی بھر آیا ہو۔
• سر اور سینے کا بلغم جب تک مُنہ کے اندر والے حصے تک نہ پہنچے اسے نگلنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر وہ منہ میں آ جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے نہ نگلے۔
• اگر روزے دار کو اتنی پیاس لگے کہ اسے پیاس سے مر جانے کا خوف ہو جائے یا اسے نقصان کا اندیشہ ہو یا اتنی سختی اٹھانا پڑے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو تو اتنا پانی پی سکتا ہے کہ ان امور کا خوف ختم ہو جائے بلکہ اگر موت اور اس جیسی چیز کا خوف ہو تو پانی پینا واجب ہے لیکن اس کا روزہ باطل ہو جائے اور اگر رمضان ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس سے زیادہ پانی نہ پئے اور دن کے باقی حصے میں وہ کام کرنے سے پرہیز کرے جس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
• بچے یا پرندے کو کھلانے کے لئے غذا کا چبانا یا غذا کا چکھنا اور اسی طرح کے کام کرنا جس میں کاغذ عموماً حلق تک نہیں پہنچتی خواہ وہ اتفاقاً حلق تک پہنچ جائے تو روزے کو باطل نہیں کرتی۔ لیکن اگر انسان شروع سے جانتا ہو کہ یہ غذا حلق تک پہنچ جائے گی تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا بجا لائے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہے۔
• انسان کمزوری اور نفاہت کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا لیکن اگر کمزوری اس حد تک ہو کہ عموماً برداشت نہ ہو سکے تو پھر روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
2۔جماع
• جماع روزہ کو باطل کر دیتا ہے خواہ عضو تناسل سپاری تک ہی داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہوئی ہو۔
• اگر آلہٴ تناسل سپاری سے کم داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن جس شخص کی ختنہ گاہ نہ ہو اگر اس سے کم مقدار بھی داخل کرے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔
• اگر کوئی شخص عمداً جماع کا ارادہ کرے اور پھر شک کرے کہ سپاری کے برابر دخول ہو اتھا یا نہیں تو اس کا حکم مسئلہ نمبر۱۵۵۱ کو دیکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے۔البتہ اگر روزہ باطل کرنے والا کام انجام نہ دیا ہو تو کسی بھی صورت میں کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
• اگر کوئی شخص بھول جائے کہ روزے سے ہے اور جماع کرے یا اسے جماع پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ اس کا اختیار نہ رہے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا البتہ اگر جماع کی حالت میں اسے یاد آجائے کہ روزے سے ہے یا مجبوری ختم ہو جائے تو ضروری ہے کہ فوراً جماع ترک کردے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
3۔اِسْتِمْنَاء
• اگر روزہ دار اِسْتِمْنَاءکرےتو اس کاروزہ باطل ہوجاتا ہے۔
• اگر بے اختیاری کی حالت میں کسی کی منی خارج ہو جائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہے۔
• اگرچہ روزے دار کو علم ہوکہ اگر دن میں سو ئے گا تو اسے احتلام ہو جائے گا یعنی سوتے میں اس کی منی خارج ہوجائے گی تب بھی اس کے لئے سونا جائز ہے خواہ نہ سونے کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف نہ بھی ہو اور اگر اسے احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔
• اگر روزے دار منی خارج ہوتے وقت نیند سے بیدار ہوجائے تو اس پر واجب نہیں کہ منی کو نکلنے سے روکے۔
• جس روزے دار کو احتلام ہوگیا ہو وہ پیشاب کر سکتا ہے خواہ اسے یہ علم ہو کہ پیشاب کرنے سے باقی ماندہ منی نالی سے باہر آجائے گی۔
• جب روزے دار کو احتلام ہو جائے،اگر اسے معلوم ہوکہ منی نالی میں رہ گئی ہے اوراگر غسل سے پہلے پیشاب کرے گا تو غسل کے بعد منی اس کے جسم سے خارج ہوگی تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے پیشاب کرے۔
• جو شخص منی نکالنے کے ارادے سے چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کرے لیکن اس کی منی نہ نکلے تو اگر دوبارہ روزے کی نیت کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر دوبارہ روزے کی نیّت کر لے تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔
• اگر روزے دار منی نکالنے کے ارادے کے بغیر مثال کے طور پر اپنی بیوی سے چھڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق کرے اور اسے اطمینان ہو کہ منی خارج نہیں ہوگی تو اگر چہ اتفاقاً منی خارج ہوجائے ،اس کا روزہ صحیح ہے۔ البتہ اگر اسے اطمینان نہ ہوتو اس صورت میں جب منی خارج ہوگی تو اس کا روزہ باطل ہوجائیگا۔
4۔خدا اور رسول پر بہتان باندھنا
• اگر روزے دار زبان سے یا لکھ کر یا اشارے سے یا کسی اور طریقے سے اللہ تعالیٰ یا رسول اکرم ﷺیا آئمہ ٪میں سے کسی سے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ وہ فوراً کہہ دے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا توبہ کرے تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور احتیاط مستحب کی بنا پر حضرت فاطمہ زہرا ء =اور تمام انبیائے مرسلین اور ان کے جانشینوں سے بھی کوئی جھوٹی بات منسوب کرنے کا یہی حکم ہے۔
• اگر(روزے دار)کوئی ایسی روایت نقل کرنا چاہے جس کے قطعی ہونے کی دلیل نہ ہو اور اس کے بارے میں اسے یہ علم نہ ہو کہ سچ ہے یا جھوٹ تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اسے نقل کرتے ہوئے بیان کرے اور پیغمبر اکرم ﷺ یا آئمہ سے بلاواسطہ طور پر نسبت نہ دے۔
• اگر (روزہ دار) کسی چیز کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ واقعی قول خدا یا قول پیغمبر اکرم ﷺ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ یا پیغمبر اکرم ﷺ سے منسوب کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ جھوٹ تھا تو اس کا روزہ باطل نہیں ہو گا۔
• اگر (روزے دار )کسی چیز کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ جھوٹ ہے،اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺسے منسوب کرے اور بعد میں اسے پتا چلے کہ جو کچھ اس نے کہا تھا وہ درست تھا، اگر اسے معلوم تھاکہ یہ کام روزے کو باطل کردیتا ہے تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کو قضا بھی بجالائے۔
• اگر روزے دار کسی ایسے جھوٹ کو جوخودروزے دار نے نہیں بلکہ کسی دوسرے نے گھڑا ہو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ یا رسول اکرم ﷺیا ائمہ ٪سے منسوب کر دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کاروزہ باطل ہوجائے گا،لیکن اگر جس نے جھوٹ گھڑا ہو اس کا قول نقل کرے توکوئی حرج نہیں۔
• اگر روزے دار سے سوال کیا جائے کہ کیا رسول اکرم ﷺنے ایسا فرمایا ہے اور وہ عمداً جہاں جواب نہیں دینا چاہیے وہاں اثبات میں د ے اور جہاں اثبات میں دینا چاہیے وہاں عمداً نفی میں جواب دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہوجاتاہے۔
• اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول کریم ﷺکا قول درست نقل کرے اور بعد میں کہے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا رات کو کوئی جھوٹی بات ان سے منسوب کرے اور دوسرے دن جبکہ روزہ رکھا ہوا ہوکہے کہ جو کچھ میں نے گزشتہ رات کہا تھا وہ درست ہے تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
• سوائے اس کے کہ وہ اس بات کی اسی وقت کی کیفیت کی اطلاع دے رہا ہو۔
5۔غبار کو حلق تک پہنچانا
• احتیاط واجب کی بنا پر گاڑھے غبار کا حلق تک پہنچانا روزے کو باطل کر دیتا ہے خواہ غبار کسی ایسی چیز کا ہو جس کا کھانا حلال ہو مثلاًآٹا یا کسی ایسی چیز کا ہوجس کا کھانا حرام ہومثلاً مٹی۔
• غیر کثیف غبار(جو غبار گاڑھا نہ ہو) حلق تک پہنچانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
• اگر ہوا کی وجہ سے کثیف غبار پیدا ہو اور انسان متوجہ ہونے اور احتیاط کر سکنے کے باوجود احتیاط نہ کرے اور غبار اس کے حلق تک پہنچ جائے تواحتیاط واجب کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
• احتیاط واجب یہ ہے کہ روزے دار سگریٹ اور تمباکو وغیرہ کا دھواں بھی حلق تک نہ پہنچائے۔
• اگر انسان احتیاط نہ کرے اور غبار یا دھواں وغیرہ حلق میں چلا جائے تو اگر اسے یقین یا اطمینان تھا کہ یہ چیزیں حلق میں نہ پہنچیں گی تو اس کا روزہ صحیح ہے لیکن اسے گمان تھاکہ یہ حلق تک نہیں پہنچیں گی تو بہتر یہ ہے کہ اس روزے کی قضا بجالائے۔
• اگر کوئی شخص یہ بھول جانے پر کہ روزے سے ہے احتیاط نہ کرے یا بے اختیار غبار وغیرہ اس کے حلق میں پہنچ جائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔
• پورا سر پانی میں ڈبونے سے روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن یہ شدید مکروہ ہے۔
6۔اذان صبح تک جنابت،حیض اور نفاس کی حالت میں رہنا
• اگر جنب شخص رمضان میں جان بوجھ کر اذان صبح تک غسل نہ کرے یا جس شخص کا فریضہ تیمم ہو اور وہ جان بوجھ کر تیمم نہ کرے تو ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور پھر ایک دن اور روزہ رکھے اور چونکہ یہ طے نہیں ہے کہ یہ دوسرا روزہ قضا ہے یا سزا،لہذا رمضان کا اس دن کا روزہ بھی ما فی الذمہ کی نیت سے رکھے اور رمضان کے بعد بھی جس دن روزہ رکھے اور اس میں قضا کی نیت نہ کرے۔
• جو شخص رمضان کے روزے کی قضا کرنا چاہتا ہو،اگر جان بوجھ کر صبح کی اذان تک جنب رہے تو اس دن کا روزہ نہیں رکھ سکتا۔ہاں اگر جان بوجھ کر نہ ہو تو رکھ سکتا ہے،اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اسے ترک کردے۔
• اگر جنب شخص رمضان کے روزوں اور ان کی قضا کے علاوہ کسی بھی واجب اور مستحب روزے میں جان بوجھ کر اذان صبح تک غسل نہ کرے تو اس دن کا روزہ رکھ سکتا ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کی کسی رات میں جنب ہوجائے تو اگر وہ عمداً غسل نہ کرے حتٰی کہ وقت تنگ ہوجائے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے اور روزہ رکھے،اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر جنب شخص رمضان میں غسل کرنا بھول جائے اور ایک دن کے بعد اسے یاد آئے تو ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ قضا کرے اور اگر چند دنوں کے بعد یاد آئے تو اتنے دنوں کے روزرں کی قضا کرے جتنے دنوں کے بارے میں اسے یقین ہوکہ وہ جنب تھا مثلاً اگر اسے یہ علم نہ ہوکہ تین دن جنب رہا یا چار دن تو ضروری ہے کہ تین دنوں کے روزوں کی قضا کرے۔
• اگر ایک ایسا شخص اپنے آپ کو جنب کرلے جس کے پاس رمضان کی رات میں غسل اور تیمم میں سے کسی کے لئے بھی وقت نہ ہوتو اس کا روزہ باطل ہے اور اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔
• جو شخص جانتا ہوکہ اس کے پاس غسل کرنے کے لئے وقت نہیں ہے اور خود کو جنب کرلے اور پھر تیمم کرے یا وقت ہونے کے باوجود جان بوجھ کر غسل کرنے میں اتنی تاخیر کرے کہ وقت تنگ ہوجائے اور تیمم کرے تو اگرچہ وہ گنہگار ہے لیکن اس کا روزہ صحیح ہے۔
• جو شخص رمضان کی کسی رات میں جنب ہواور جانتا ہوکہ اگر سوئے گاتو صبح تک بیدارنہ ہوگا احتیاط واجب کی بنا پر اسے بغیرغسل کئے نہیں سونا چاہیے اور اگر وہ غسل کرنے سے پہلے اپنی مرضی سے سو جائے اور صبح تک بیدار نہ تو اس کا روزہ باطل ہے اور قضا اورکفارہ دونوں اس پر واجب ہیں۔
• جب جنب رمضان کی رات میں سو کر جاگ اٹھے اور اس بات کا احتمال ہو کہ اگر دوبارہ سو گیا تو صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے گا تو وہ دوبارہ سو سکتا ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کی کسی رات میں جنب ہو اور یقین یا اطمینان رکھتا ہو کہ اگر سو گیا تو صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے گا اور اس کا مصمم ارادہ ہوکہ بیدار ہونے کے بعد غسل کرے گا اور اس ارادے کے ساتھ سو جائے اوراذان تک سوتا رہے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کی کسی رات میں جنب ہو اور اسے اطمینان نہ ہوکہ اگر سو گیا تو صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے گا اور وہ اس بات سے غافل ہوکہ بیدار ہونے کے بعد اس پر غسل کرنا ضروری ہے تو اس صورت میں جبکہ وہ سوجائے اور صبح کی اذان تک سویارہے تو احتیاط کی بنا پر اس پر قضا واجب ہوجاتی ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کی کسی رات میں جنب ہواور اسے یقین ہویا احتمال اس بات کا ہوکہ اگر وہ سو گیا تو صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے گا اور وہ بیدار ہونے کے بعد غسل نہ کرنا چاہتا ہو تو اس صورت میں جبکہ وہ سو جائے اور بیدار نہ ہوتو ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ مکمل کرے اور قضا اور کفارہ اس کے لئے لازم ہے۔اسی طرح اگراس تردد میں ہو کہ بیدار ہونے کے بعد غسل کرے یا نہ کرے تو احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
• اگر جنب شخص رمضان کی کسی رات میں سو کر جاگ اٹھے اور اسے یقین ہویا اس بات کا احتمال ہو کہ اگر دوبارہ سو گیاتوصبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے گا اور وہ مصمم ارادہ بھی رکھتا ہوکہ بیدار ہونے کے بعد غسل کرے گا اور دوبارہ سوجائے اور اذان تک بیدار نہ ہو توضروری ہے کہ اس دن کا روزہ قضا کرے اور اگر دوسری نیند سے بیدار ہوجائے اور تیسری دفعہ سوجائے اور صبح کی اذان تک بیدار نہ ہوتو ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے اور احتیاط مستحب کی بنا پر کفارہ بھی دے۔
• جس نیند میں انسان کو احتلام ہو پہلی نیند سمجھی جائے گی لہذا اگر ایک بار بیدار ہونے کے بعد سوئے اور صبح کی اذان تک بیدار نہ ہو تو جیسا کہ پچھلے مسئلے میں بتایا گیا ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ قضا کرے۔
• اگر کسی روزے دار کو دن میں احتلام ہوجائے تو اس پر فوراً غسل کرنا واجب نہیں۔
• اگرکوئی شخص رمضان میں صبح کی اذان کے بعد جاگے اور یہ دیکھے کہ اسے احتلام ہوگیا ہے تو اگرچہ اسے معلوم ہوکہ یہ احتلام اذان سے پہلے ہوا ہے اس کا روزہ صحیح ہے۔
• جو شخص رمضان کے قضا روزے رکھنا چاہتا ہو اگر وہ صبح کی اذان کے بعد بیدار ہو اور دیکھے کہ اسے احتلام ہوگیا ہے اورجانتا ہو کہ یہ احتلام اسے صبح کی اذان سے پہلے ہوا ہے تو اس دن رمضان کے روزے کی قضا کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے۔
• اگر رمضان کے روزوں میں عورت صبح کی اذان سے پہلے حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے اور عمداً غسل نہ کرے یا اس کا فریضہ تیمم کرنا ہواور تیمم نہ کرے تو ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور اس کی قضا بھی کرے۔رمضان کی قضا میں اگر جان بوجھ کر غسل یا تیمم نہ کرے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس دن کا روزہ نہیں رکھ سکتی۔
• جو عورت رمضان کی شب میں حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے۔اگر جان بوجھ کر غسل نہ کرے یہاں تک کہ وقت تنگ ہوجائے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے اور اس کااس دن کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی عورت رمضان میں صبح کی اذان سے پہلے حیض یانفاس سے پاک ہوجائے اور غسل کے لئے وقت نہ ہوتو ضروری ہے کہ تیمم کرے اور صبح کی اذان تک بیدار رہنا ضروری نہیں ہے۔جس جنب شخص کا فریضہ تیمم ہواس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
• اگر کوئی عورت صبح کی اذان کے بعدحیض یا نفاس کے خون سے پاک ہوجائے اور اس کے غسل یا تیمم میں سے کسی کا وقت نہ ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی عورت صبح کی اذان کے بعد حیض یا نفاس کے خون سے پاک ہو جائے یا دن میں اسے حیض یا نفاس کا خون آ جائے تو اگرچہ یہ خون مغرب کے قریب ہی کیوں نہ آئے اس کا روزہ باطل ہے۔
• اگر عورت حیض یا نفاس کا غسل کرنا بھول جائے اور اسے ایک دن یا کئی دن کے بعد یاد آئے تو جو روزے اس نے رکھے ہوں وہ صحیح ہیں۔
• اگر عورت رمضان میں صبح کی اذان سے پہلے حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے اور غسل کرنے میں کوتاہی کرے اور صبح کی اذان تک غسل نہ کرے اور وقت تنگ ہونے کی صورت میں تیمم بھی نہ کرے تو جیسے کہ گزر چکا ہے ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور قضا بھی کرے لیکن اگر کوتاہی نہ کرے مثلاً منتظر ہو کہ زنانہ حمام میسر آجائے خواہ اس مدت میں وہ تین دفعہ سوئے اور صبح کی اذان تک غسل نہ کرے اور تیمم کرنے میں بھی کوتاہی نہ کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• جو عورت استحاضہ کثیرہ کی حالت میں ہو اگر وہ اپنے غسلوں کو اس تفصیل سے ساتھ نہ بجالائے جس کا ذکر مسئلہ ۳۹۴ میں کیا گیا ہے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔ایسے ہی استحاضہ متوسطہ میں اگرچہ عورت غسل نہ بھی کرے،اس کا روزہ صحیح ہے۔
• جس شخص نے میت کو مس کیا ہو یعنی اپنے بدن کاکوئی حصہ میت کے بدن سے مس کیا ہووہ غسل مس میت کے بغیر روزہ رکھ سکتاہے اور اگر روزے کی حالت میں بھی میت کو مس کرے تو اس کاروزہ باطل نہیں ہوتا۔
7۔حقنہ لینا
• سیال چیز سے حقنہ(انیما) اگرچہ بہ امر مجبوری اور علاج کی غرض سے لیا جائے روزے کو باطل کردیتا ہے۔
8۔قے کرنا
• اگر روزے دار جان بوجھ کرقے کرے تو اگرچہ وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے لیکن اگر سہواًیا بے اختیار ہوکر قے کرے توکوئی حرج نہیں۔
• اگر کوئی شخص رات کو ایسی چیز کھا لے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کے کھانے کی وجہ سے دن میں بے اختیار قے آئے گی تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر روزے دار قے روک سکتا ہو جبکہ اسے طبیعی نظام کے تحت ہی قے آ رہی ہو تو اسے روکنا ضروری نہیں۔
• اگر روزے دار کے حلق میں مکھی چلی جائے چناچہ و ہ اس حد تک اندر چلی گئی ہوکہ اس کے نگلنے کو کھانا نہ کہا جائے تو ضروری نہیں کہ اسے باہرنکالا جائے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔لیکن اگر مکھی کافی حد تک اندرنہ گئی ہو تو ضروری نہیں کہ اسے باہر نکالا جائے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔لیکن اگر مکھی کافی حد تک اندر نہ گھی ہوتو ضروری ہے کہ باہر نکالے اگر چہ اسے قے کر کے ہی نکالنا پڑے۔مگر یہ کہ قے کرنے میں روزے دار کو ضرر اور شدید تکلیف ہو اور اگر وہ قے نہ کرے اور اسے نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور اگر اسے قے کرکے باہر نکالے تو بھی اس کا روزہ باطل ہوجائے گا۔
• اگر روزے دار سہواً کوئی چیز نگل لے اور اس کے پیٹ میں پہنچنے سے پہلے اسے یاد آجائے کہ روزے سے ہے۔چنانچہ اگر وہ چیز اتنی نیچے جاچکی ہو کہ اسے معدے تک جانے دینا کھانا نہ کہا جائے تو اس چیز کا نکالنا لازم نہیں اور اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کسی روزے دار کر یقین ہوکہ ڈکار لینے کی وجہ سے کوئی چیز اس کے حلق سے باہر آجائے گی ،چنانچہ اگر اسے قے کرنا کہاجاسکے تو ضروری ہے کہ جان بوجھ کر ڈکار نہ لے۔ لیکن اگر اسے یقین نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
• اگر روزے دار ڈکار لے اور کوئی چیز اس کے حلق یامنہ میں آجائے تو ضروری ہے کہ اسے اگل دے اور اگر وہ چیز بے اختیار پیٹ میں چلی جائے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
ان چیزوں کے احکام جو روزے کو باطل کرتی ہیں
• اگر انسان جان بوجھ کر اور اختیار کے ساتھ کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے اور اگر کوئی ایسا کام جان بوجھ کر نہ کرے تو پھر اشکال نہیں لیکن اگر جنب سوجائے اور اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ۱۶۰۲ میں بیان کی گئی ہے صبح کی اذان تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔چنانچہ اگر انسان نہ جانتا ہو کہ جو باتیں بتائی گئی ان میں سے بعض روزے کو باطل کرتی ہیں جبکہ نہ وہ جاہل قاصر ہواور نہ ہو کسی قسم کے تردد میں ہو یا یہ کہ شرعی حجت پر اعتماد رکھتا ہو اور کھانا پینے اور جماع کے علاوہ ان افعال میں سے کسی فعل کو انجام دے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔
• اگر روزے دار سہواً کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کا روزہ باطل ہوگیا ہے دوبارہ عمداً کوئی اور ایسا ہی کام کرے تو پچھلے مسئلے میں بیان شدہ حکم اس پر جاری ہوگا۔
• اگر کوئی چیز زبردستی روزے دار کے حلق میں انڈیل دی جائے تو اس کاروزہ باطل نہیں ہوتا۔لیکن اگر اسے مجبور کیا جائے کہ اپنے روزے کو کھانے پینے یا جماع کے ذریعے باطل کرے،مثلاً اسے کہا جائے کہ اگر تم غذا نہیں کھاؤگے تو ہم تمہیں مالی یا جانی نقصان پہنچائیں گے اور وہ نقصان سے بچنے کے لئے اپنے آپ کچھ کھالے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور ان تین چیزوں کے علاوہ بھی احتیاط کی بنا پر روزہ باطل ہوجائے گا۔
• روزے دار کو ایسی جگہ نہیں جانا چاہیے جس کے بارے میں وہ جانتا ہوکہ لوگ کوئی چیز اس کے حلق میں ڈال دیں گے یا اسے روزہ توڑنے پر مجبور کریں گے اور اگر ایسی جگہ جائے یا بہ امر مجبوری وہ خود کوئی ایسا کا م کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو تو اس کاروزہ باطل ہوجاتا ہے۔اگر کوئی چیز اس کے حلق میں انڈیل دیں تو احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔

وہ چیزیں جو روزہ دار کے لئے مکروہ ہیں:
• روزے دار کے لئے کچھ چیزیں مکروہ ہیں اور ان میں سے بعض یہ ہیں:
1) آنکھ میں دوا ڈالنا اور سرمہ لگانا جبکہ اس کا مزہ یا بو حلق میں پہنچے۔
2) ہر ایسا کام کرنا جو کمزوری کا باعث ہو مثلاً خون دینا اور حمام جانا۔
3) ناک میں دوا ڈالنا جبکہ یہ علم نہ ہو کہ حلق تک پہنچے گی اور اگر یہ علم ہو کہ حلق تک پہنچے گی تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
4) خوشبودار پودوں کو سونگھنا۔
5) عورت کا پانی میں بیٹھنا۔
6) شیاف استعمال کرنا یعنی کسی خشک چیز سے انیما لینا۔
7) جو لباس پہن رکھا ہو اسے تر کرنا۔
8) دانت نکلوانا اور ہر وہ کام کرنا جس کی وجہ سے منہ سے خون نکلے۔
9) تر لکڑی سے مسواک کرنا۔
10) بلاوجہ پانی یا کوئی اور سیال چیز منہ میں ڈالنا۔
11) اور یہ بھی مکروہ ہے کہ منی نکالنے کے قصد کے بغیر انسان اپنی بیوی کا بوسہ لے یا کوئی شہوت انگیز کام کرے۔

ایسے مواقع جن میں روزے کی قضا اور کفارہ واجب ہوجاتے ہیں
• اگر کوئی شخص رمضان کے روزے کو کھانے ،پینے،جماع،استمناء،یا جنابت پر باقی رہنے کی وجہ سے باطل کرے جبکہ جبر اور ناچاری کی بنا پر نہیں بلکہ عمداً اور اختیار سے ایسا کیا ہو تو اس پر قضا کے علاوہ کفارہ بھی واجب ہو گا اور جو کوئی متذکرہ امور کے علاوہ کسی اور طریقے سے روزہ باطل کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ قضا کے علاوہ کفارہ بھی دے۔
• جن امور کاذکر کیا گیا ہے اگر کوئی ان میں سے کسی فعل کو انجام دے جبکہ اسے پختہ یقین ہو کہ اس عمل سے اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔یہی حکم اس شخص کا ہے جسے معلوم ہی نہ ہو کہ اس پر روزہ واجب ہے جیسے وہ بچے جو بلوغ کے بعد کے ابتدائی دنوں میں ہوں۔

روزہ کا کفارہ
• رمضان کا روزہ توڑنے کے کفارے کے طور پر ضروری ہے کہ انسان ایک غلام آزاد کرے یا اس طریقے کے مطابق جو اگلے مسئلے میں بیان کیا جائے گا دو مہینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھاناکھلائے یا ہر فقیر کو ایک مد تقریباً۴/۳ کلو طعام یعنی گندم یاجو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ افعال انجام دینا اس کے لئے ممکن نہ ہو تو بقدر امکان صدقہ دینا ضروری ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو توبہ واستغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جس وقت(کفارہ دینے کے)قابل ہوجائے کفارہ دے۔
• جو شخص رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماہ روزے رکھنا چاہیئے تو ضروری ہے کہ ایک پورا مہینہ اور اس سے اگلے مہینے کے ایک دن تک مسلسل روزے رکھے اور اگر باقی ماندہ روزے مسلسل نہ بھی رکھے تو کوئی حرج نہیں۔
• جو شخص رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماہ روزے رکھنا چاہیئے تو ضروری ہے کہ وہ روزے ایسے وقت نہ رکھے جس کے بارے میں وہ جانتاہو کہ ایک مہینے اورایک دن کے درمیان عید قربان کی طرح کوئی ایسا دن آجائے گاجس کا روزہ رکھنا حرام ہے۔
• جس شخص کو مسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں اگر وہ ان کے بیچ میں بغیر عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے تو ضروری ہے کہ دوبارہ از سر نو روزے رکھے۔
• اگر ان دنوں کے درمیان جن میں مسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں،روزے دارکو کوئی غیر اختیاری عذر پیش آجائے،مثلاًحیض یا نفاس یا ایسا سفر جسے اختیار کرنے پر وہ مجبور ہو تو عذر کے دور ہونے کے بعد روزوں کا از سر نو رکھنا اس کے لئے واجب نہیں بلکہ وہ عذر دور ہونے کے بعد باقی ماندہ روزے رکھے۔
• اگر کوئی شخص حرام چیز سے اپنا روزہ باطل کر دے خواہ وہ چیز بذات خود حرام ہو جیسے شراب اور زنا یا کسی وجہ سے حرام ہو جائے جیسے کہ حلال غذا جس کا کھانا انسان کے لئے کسی کلی ضرر کا باعث ہو یا وہ اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرے تو ایک کفارہ کافی ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ مجموعاً کفارہ دے۔یعنی ایک غلام آزاد کرے اور دو مہینے روزے رکھے اور ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یاان میں سے ہر فقیر کو ایک مد گندم یاجو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن نہ ہوں توا ن میں سے جو کفارہ ممکن ہودے۔
• اگر روزے دار جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ اس پر کفارہ واجب نہیں لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کفارہ دے۔
• اگر روزے دار رمضان کے ایک دن میں کئی دفعہ کھائے،پئے یا جماع یا استمناء کرے تو ان سب کے لئے ایک کفارہ کافی ہے۔
• اگر روزے دار جماع کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو اور پھر اپنی زوجہ سے مجامعت بھی کرے تو دونوں کے لئے ایک کفارہ کافی ہے۔
• اگر روزے دار کوئی ایسا کام کرے جو حلال ہو اور روزے کو باطل کرتاہو،مثلاً پانی پی لے اور اس کے بعد کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو حرام ہو اور روزے کو باطل کرتاہو،مثلاً حرام غذا کھالے تو ایک کفارہ کافی ہے۔
• اگر روزے دارڈکارلے اور کوئی چیز اس کے منہ آجائے تو اگروہ اسے جان بوجھ کر نگل لے تو بنا بر احتیاط واجب،اس کا روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے اور کفارہ بھی اس پرواجب ہوجاتا ہے اور اگر اس چیز کاکھانا حرام ہو، مثلاًڈکار لیتے وقت خون یا ایسی خوارک جو غذا کی تعریف میں نہ آتی ہو اس کے منہ میں آجائے اور وہ اسے جان بوجھ کر نگل لے تو بہتر ہے کہ مجموعی کفارہ دے۔
• اگر کوئی شخص منت مانے کے ایک خاص دن روزہ رکھے گا تو اگر وہ اس دن جان بوجھ کر اپنے روزے کو باطل کردے تو ضروری ہے کفارہ دے اور اس کا کفارہ اسی طرح ہے جیسے کہ منت توڑنے کا کفارہ ہے۔
• اگر روزہ دار ایک ایسے شخص کے کہنے پر جو کہے کہ مغرب کا وقت ہو گیا ہے لیکن جس کے کہنے سے اطمینان حاصل نہ ہوا ہو، روزہ افطار کر لے اور بعد میں اسے پتاچلے کہ مغرب کا وقت نہیں ہو ایا شک کرے کہ مغرب کا وقت ہو ا ہے یانہیں تو اس پر قضا اورکفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں اور اگر وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کی بات حجت ہے تو اس پر صرف قضا واجب ہے۔
• جو شخص جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کر لے اور اگر وہ ظہر کے بعد سفر کرے یا کفارے سے بچنے کے لئے ظہرسے پہلے سفر کرے تو اس پر سے کفارہ ساقط نہیں ہوتا بلکہ اگر ظہر سے پہلے اتفاقاً اسے سفر کرنا پڑے تب بھی کفارہ اس پر واجب ہے۔
• اگر کوئی شخص جان بوجھ کو اپنا روزہ توڑ دے اور اس کے بعد حیض، نفاس یا بیماری جیسا کوئی عذر پیدا ہو جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے، خصوصاً جب کسی طریقے سے مثلاً دوائیوں کے استعمال سے خود کو حیض یا بیماری میں مبتلا کیا ہو۔
• اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ آج رمضان کی پہلی تاریخ ہے اور وہ جان بوجھ کرروزہ توڑ دے لیکن بعد میں اسے پتا چلے کے شعبان کی آخری تاریخ ہے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
• اگر کسی شخص کو شک ہو کہ آج رمضان کی آخری تاریخ ہے یا شوال کی پہلی تاریخ اور وہ جان بوجھ کر روزہ توڑ دے اور بعد میں پتا چلے کہ پہلی شوال ہے تواس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
• اگر ایک روزے دار رمضان میں اپنی روزے دار بیوی سے جماع کرے تو اگر اس نے بیوی کو مجبور کیا ہو تو اپنے روزے کا کفارہ اور احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ اپنی بیوی کے روزے کا بھی کفارہ دے اور اگر بیوی جماع پر راضی ہوتو ہر ایک پر ایک ایک کفارہ واجب ہو جاتاہے۔
• اگر کوئی عورت اپنے روزے دار شوہر کو جماع کرنے پر مجبور کرے تو اس پر شوہر کے روزے کاکفارہ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔
• اگر روزے دار رمضان میں اپنی بیوی کو جماع پر مجبور کرے اور جماع کے دوران عورت بھی جماع پر راضی ہوجائے تو دونوں پر ایک ایک کفارہ واجب ہو جاتا ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مرد دو کفارے دے۔
• اگر روزے دار رمضان میں اپنی روزے دار بیوی سے جو سو رہی ہو جماع کرے تو اس پر ایک کفارہ واجب ہوجاتا ہے اور عورت کا روزہ صحیح ہے اس پر کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔
• اگر شوہر اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے شوہر کو جماع کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہو توان دونوں میں سے کسی پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے۔
• جو آدمی سفر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھے وہ اپنی روزے دار بیوی کو جماع پر مجبور کر نہیں سکتا لیکن اگر مجبور کرے تو کفارہ مرد پر بھی واجب نہیں۔
• ضروری ہے کہ انسان کفارہ دینے میں کوتاہی نہ کرے لیکن فوری طور پر دینا بھی ضروری نہیں۔
• اگر کسی شخص پر کفارہ واجب ہو اور وہ کئی سال تک نہ دے تو کفارہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
• جس شخص پر ایک دن کے کفارے کے طور ساٹھ فقیروں کوکھانا کھلانا ضروری ہو،اگر ساٹھ فقیر موجو ہوں تو وہ یہ نہیں کر سکتا کہ کفارہ تو اتنا ہی دے لیکن فقیروں کی تعداد کم کردے۔مثلاً تیس فقیروں میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے کر اسی پر اکتفا کرلے۔ ہاں یہ کر سکتا ہے کہ وہ فقیرکے گھر کے افراد میں سے ہر ایک کے لئے چاہے وہ چھوٹے ہی ہوں،ایک مد اس فقیر کو دے اور وہ فقیر اپنے گھر والوں کی وکالت میں یا ان کے چھوٹے ہونے کے صورت میں،ان کی ولایت میں اسے قبول کرلے اور اگر اسے ساٹھ فقیر نہ ملیں بلکہ مثلاً صرف تیس فقیر ملیں توپھر ہر ایک کو دو مد طعام دے سکتاہے۔البتہ اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جب بھی ممکن ہو تیس اور فقیروں کو بھی ایک مد دے۔
• جو شخص رمضان کے روزے کی قضا کرے اگر وہ ظہر کے بعدجان بوجھ کرکوئی ایساکام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو تو ضروری ہے کہ دس فقیروں کوفرداًفرداًایک مد کھانادے اور اگر نہ دے سکتا ہو تو تین روزے رکھے۔

• وہ صورتیں جن میں فقط روزے کی قضا واجب ہے
1) جو صورتیں بیان ہوچکی ہیں ان کے علاوہ ان چند صورتوں میں انسان پر صرف روزے کی قضا واجب ہے اور کفارہ واجب نہیں ہے۔
ایک شخص رمضان کی رات میں جنب ہو جائے اور جیسا کہ مسئلہ۱۶۰۲ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ صبح کی اذان تک دوسری نیند سے بیدار نہ ہو۔
2) روزے کو باطل کرنے والا کام تو نہ کیا ہولیکن روزے کی نیت نہ کرے یا ریا کرے یا روزہ نہ رکھنے کا ارادہ کرے۔اسی طرح مسئلہ نمبر۱۵۵۱ میں بتائی گئی تفصیل کے مطابق کسی ایسے کام کا ارادہ کرے جو روزے کو باطل کرتاہے۔
3) رمضان میں غسل جنابت کرنا بھول جائے اور جنابت کی حالت میں ایک یا کئی دن روزے رکھتا رہے۔
4) رمضان میں یہ تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہوئی ہے یا نہیں کوئی ایسا کام کرے جوروزے کوباطل کرتاہو اور بعد میں پتا چلے کہ صبح ہوچکی تھی۔
کوئی کہے کہ صبح ہوئی اور انسان اس کے کہنے کی بنا پر کوئی ایساکام کرے جوروزے کو باطل کرتاہو اور بعد میں پتا چلے کہ صبح ہو گئی تھی۔
5) کوئی کہے کہ صبح ہو گئی ہے اور انسان اس کے کہنے پر یقین نہ کرے یا سمجھے کہ مذاق کر رہا ہے اور خود تحقیق نہ کرے اور کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو اور بعد میں معلوم ہو کہ صبح ہو گئی تھی۔
6) کوئی شخص کسی کے کہنے پر جس کو قول اس کے لئے شرعاً حجت ہو یا وہ غلطی کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہو کہ اس کو قول حجت ہے،روزہ افطار کر لے اور بعد میں پتا چلے کہ ابھی مغرب کاوقت نہیں ہواتھا۔
7) انسان کو یقین یااطمینان ہو کہ مغرب ہو گئی ہے اور وہ روزہ افطار کر لے اور بعد میں پتا چلے کہ مغرب نہیں ہوئی تھی۔لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو یا اس جیسی کوئی کیفیت ہو اور انسان اس گمان کے تحت روزہ افطار کر لے مغرب نہیں ہوئی تھی تو احتیاط کی بنا پر ا س صورت میں قضا واجب ہے۔
8) انسان پیاس کی وجہ سے کلی کرے یعنی پانی منہ میں گھمائے اور بے اختیار پانی پیٹ میں چلا جائے۔لیکن اگر انسان بھول جائے کہ روزے سے ہے اور پانی گلے سے اتر جائے یا پیاس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں کہ جہاں کلی کرنا مستحب ہے۔جیسے وضو کرتے وقت۔کلی کرے اور پانی با اختیار پیٹ میں چلاجائے تو اس کی قضا نہیں ہے۔
9) کوئی شخص مجبوری،اضطراری یا تقیہ کی حالت میں روزہ افطار کرے جبکہ مجبوری یا تقیہ میں کھایا پیایا جماع کیاہو،احتیاط واجب کی بنا پر باقی چیزوں میں بھی یہی حکم ہے۔

• اگر روزے دار پانی کے علاوہ کوئی چیز منہ میں ڈالے اور وہ بے اختیار پیٹ میں چلی جائے یا ناک میں پانی ڈالے اور وہ بے اختیار نیچے اتر جائے تو اس پر قضا واجب نہیں ہے۔
• روزے دار کے لئے زیادہ کلیاں کرنا مکروہ ہے اور اگر کلی کے بعد لعاب دہن نگلنا چاہیے تو بہتر ہے کہ پہلے تین دفعہ لعاب کو تھوک دے۔
• اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ کلی کرنے سے بے اختیار یا بھول جانے کی وجہ سے پانی اس کے حلق میں چلا جائے گاتو ضروری ہے کہ کلی نہ کرے اور اس صورت میں اگر کلی کرے لیکن پانی حلق سے نہ اترے تو احتیاط واجب کی بنا پر قضا ضروری ہے۔
• اگر کسی شخص کو رمضان میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم نہ ہوکہ صبح ہوگئی ہے اور وہ کوئی ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتاہے اور بعد میں معلوم ہوکہ صبح ہو گئی تھی تو اس کے لئے روزے کی قضا کرنا ضروری نہیں۔
• اگر کسی شخص کو شک ہو کہ مغرب ہو گئی ہے یا نہیں تو وہ روزہ افطار نہیں کر سکتا اگر اسے شک ہو کہ صبح ہوئی ہے یا نہیں تو وہ تحقیق کرنے سے پہلے ایساکام کر سکتا ہے جو روزے کو باطل کرتاہو۔

قضا روزے کے احکام
• اگر کوئی دیوانہ اچھا ہوجائے تو اس کے لئے عالم دیوانگی کے روزوں کی قضا واجب نہیں۔
• اگر کوئی کافر مسلمان ہوجائے تو اس پر زمانہ کفر کے روزوں کی قضا واجب نہیں ہے لیکن اگر ایک مسلمان کافر ہوجائے اور پھر دوبارہ مسلمان ہو جائے تو ضروری ہے کہ ایام کفرکے روزوں کی قضا بجالائے۔
• جو روزے مست ہونے کی وجہ سے چھوٹ جائیں ضروری ہے کہ ان کی قضا بجالائے خواہ جس چیز کی وجہ سے وہ مست ہو ا ہو وہ علاج کی غرض سے ہی کھائی ہو۔
• اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے چند دن روزے نہ رکھے اور بعد میں شک کرے کہ اس کا عذر کس وقت زائل ہواتھا تواس کے لئے واجب نہیں کہ جتنی مدت روزے نہ رکھنے کا زیادہ احتمال ہو اس کے مطابق قضا بجالائے۔مثلاً اگر کوئی شخص رمضان سے پہلے سفر کرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ ماہ مبارک کی پانچویں تاریخ کو سفر سے واپس آیاتھا یا چھٹی کو یا مثلاً اس نے ماہ مبارک کے آخر میں سفر شروع کیا ہو اور ماہ مبارک ختم ہونے کے بعد واپس آیا ہو اور اسے پتانہ ہو کہ پچیسویں رمضان کو سفر کیا تھا یا چھبیسویں کو تو دونوں صورتوں میں وہ کمتر دنوں یعنی پانچ روزوں کی قضا کرسکتا ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ زیادہ دنوں یعنی چھ روزوں کی قضا کرے۔
• اگر کسی شخص پر چندسالوں کے رمضان کی قضا واجب ہو تو جس سال کے روزوں کی قضا پہلے کرنا چاہیے کرسکتا ہے لیکن اگر آخری رمضان کے روزوں کی قضا کا وقت تنگ ہو مثلاً آخری رمضان کے پانچ روزوں کی قضا اس کے ذمے ہو اور آئندہ رمضان کے شروع ہونے میں بھی پانچ ہی دن باقی ہوں تو بہتر یہ ہے کہ پہلے آخری رمضان کے روزوں کی قضا بجالائے۔
• اگر کسی شخص پر چند سالوں کے رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہو اور وہ روزہ کی نیت کرتے وقت معین نہ کرے کہ کون سے رمضان کے روزے کی قضا کررہا ہے تواس کا شمار آخری رمضان کی قضا میں نہیں ہو گا اورنیتجتاً تاخیر کا کفارہ اس پر سے ساقط ہو گا۔
• جس شخص نے رمضان کا قضا روزہ رکھا ہو وہ اس روزے کو ظہر سے پہلے توڑ سکتا ہے لیکن اگر قضا کا وقت تنگ ہو تو بہتر ہے روزہ نہ توڑے۔
• اگر کسی نے میت کا قضا روزہ رکھا ہو تو بہتر یہ ہے یہ ظہر کے بعد نہ توڑے۔
• اگر کوئی شخص کسی بیماری یا حیض یا نفاس کی وجہ سے رمضا ن کے روزے نہ رکھے اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے کہ جس میں وہ ان روزوں کی جو اس نے نہیں رکھے تھے قضا کر سکتا ہو مرجائے تو ان روزوں کی قضا نہیں ہے۔
• اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اور اس کی بیماری آئندہ رمضان تک لمبی ہوجائے تو جو روزے اس نے نہ رکھے ہوں ان کی قضا اس پر واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ ہر دن کے لئے ایک مد(ّتقریباً۷۵۰گرام) طعام یعنی گندم یا جو یا روٹی وغیرہ فقیر کو دے لیکن اگر کسی اور عذر مثلاً سفر کی وجہ سے روزے نہ رکھے اور اس کا عذر آئندہ رمضان تک باقی رہے تو ضروری ہے کہ جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا کرے اور احتیاط واجب یہ ہے ہر ایک دن کے لئے ایک مد طعام بھی فقیر کودے۔
• اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اور رمضان کے بعد اس کی بیماری دور ہوجائے لیکن کوئی دوسرا عذر لاحق ہوجائے جس کی وجہ سے وہ آئندہ رمضان تک قضا روزے نہ رکھ سکے تو ضروری ہے کہ جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا بجالائے اور احتیاط واجب کی بنا پر ہر دن کے لئے ایک مد طعام فقیر کوبھی دے۔یہی حکم اس وقت بھی ہے جب رمضان میں بیماری کے علاوہ کوئی اور عذر رکھتا ہو رمضان کے بعد وہ عذر دُور ہوجائے اور آئندہ سال کے رمضان تک بیماری کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے۔
• اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہ رکھے اور رمضان کے بعد اس کاعذر دور ہو جائے اور وہ آئندہ رمضان تک عمداً روزوں کی قضا نہ بجا لائے تو ضروری ہے کہ روزوں کی قضا کرے اور ہر دن کے لئے ایک مدطعام بھی فقیر کو دے۔
• اگرکوئی شخص قضا روزے رکھنے میں کوتاہی کرے حتیٰ کہ وقت تنگ ہو جائے اور وقت کی تنگی ہیں اسے کوئی عذر پیش آجائے تو ضروری ہے کہ قضا کرے اور احتیاط کی بنا پر ہر ایک دن کے لئے ایک مد طعام فقیر کودے۔ اگر عذر دور ہونے کے بعد مصمم ارادہ رکھتاہوکہ روزوں کی قضا بجالائے گالیکن قضا بجالانے سے پہلے تنگ وقت میں اسے کوئی عذر پیش آجائے تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے۔
• اگر انسان کا مرض چند سال لمبا ہو جائے تو ضروری ہے کہ تندرست ہونے کے بعد آخری رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا بجا لائے اور اس سے پچھلے سالوں کے ماہ ہائے مبارک کے ہر دن کے لئے ایک مدطعام فقیر کو دے۔
• جس شخص کے لئے ہر روزے کے عوض ایک مد طعام فقیر کو دینا ضروری ہو وہ چند دنوں کا کفارہ ایک ہی فقیر کو دے سکتا ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کی قضا کرنے میں کئی سال کی تاخیر کردے تو ضروری ہے کہ قضا کرے اور پہلے سال میں تاخیر کرنے کی بنا پر ہر روزے کے لئے ایک مد طعام فقیر کو دے لیکن باقی کئی سال کی تاخیر کیلئے اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔
• اگر کوئی شخص رمضان کے روزے جان بوجھ کر نہ رکھے تو ضروری ہے ان کی قضا بجالائے اور ہر دن کے لئے دو مہینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانادے یا ایک غلام آزاد کرے اور اگر آئندہ رمضان تک ان روزوں کی قضا نہ کرے تو احتیاط لازم کی بنا پر ہر دن کے لئے ایک مد طعام کفارہ بھی دے۔
• اگر کوئی شخص جان بوجھ کر رمضان کا روزہ نہ رکھے اور دن میں کئی دفعہ جماع یا استمناء کرے توکفارہ تکرار نہیں ہوگا۔ایسے ہی اگر کئی دفعہ کوئی اور ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو مثلاً کئی دفعہ کھانا کھائے تب بھی ایک کفارہ کافی ہے۔
• باپ کے مرنے کے بعد بڑے بیٹے کیلئے احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ باپ کے روزوں کی قضا اسی طرح بجالائے جیسے کہ نماز کے سلسلے میں مسئلہ ۱۳۷۱ میں تفصیل سے بتایا گیاہے۔وہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ ہر دن کے بدلے ۷۵۰ گرام کھانا کسی فقیر کودے دے۔چاہیے وارثوں کے راضی ہونے کی صورت میں میت کے مال ہی سے دے۔
• اگر کسی باپ نے رمضان کے روزوں کے علاوہ کوئی دوسرے واجب روزے مثلاً منتی روزے نہ رکھے ہوں یا اگر باپ کسی کے روزوں کے لئے اجیر بنا ہو اور اس نے وہ روزے نہ رکھے ہوں توان روزوں کی قضا بڑے بیٹے پر واجب نہیں ہے۔

مسافر کے روزں کے احکام
• جس مسافر کے لئے سفر میں چار رکعتی نمازکے بجائے رورکعت پڑھنا ضروری ہو اسے روزہ نہیں رکھناچاہیے لیکن وہ مسافر جو پوری نمازپڑھتا ہو مثلاًوہ شخص جس کاپیشہ ہی سفر ہویا جسکا سفر کسی ناجائز کام کے لئے ہو تو ضروری ہے کہ سفر میں روزہ رکھے۔
• رمضان میں سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن روزے سے بچنے کیلئے سفر کرنا مکروہ ہے۔یہی حکم ہر سفر کا ہے بجز اس سفر کے جو حج ،عمرہ یا کسی ضروری کام کے لئے ہو۔
• اگر رمضان کے روزوں کے علاوہ کسی خاص دن کاروزہ انسان پر واجب ہو تو اگر وہ روزہ اجارے یا اجارے کی مانند کسی وجہ سے واجب ہوا ہویا اعتکاف کے دنوں میں سے تیسرا دن ہو تو اس دن سفر نہیں کر سکتا اور اگر سفر میں ہو اور اس کے لئے ٹھہرنا ممکن ہو توضروری ہے کہ دس دن ایک جگہ قیام کرنے کی نیت کرے اور اس دن روزہ رکھے لیکن اگر اس کاروزہ منت کی وجہ سے واجب ہوا ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس دن سفر کرناجائز ہے اور قیام کرنے کی نیت کرے۔لیکن اگر یہ روزہ قسم یاعہد کی وجہ سے واجب ہوا ہوتو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ سفر نہ کرے اور اگر سفر میں ہو تو دس دن ٹھہرنے کا ارادہ کرلے۔
• اگر کوئی شخص مستحب روزے کی منت مانے لیکن اس کے لئے دن معین نہ کرے تو وہ شخص سفر میں ایسا منتی روزہ نہیں رکھ سکتا۔لیکن اگر منت مانے کہ سفر کے دوران ایک مخصوص دن روزہ رکھے گا تو ضروری ہے کہ وہ روزہ سفر میں رکھے نیز اگر منت مانے کہ سفر میں ہویا نہ ہو ایک مخصوص دن کا روزہ رکھے گا توضروری ہے کہ اگرچہ سفر میں ہو تب بھی اس دن کاروزہ رکھے۔
• مسافر طلب حاجت کے لئے تین دن مدینہ طیبہ میں مستحب روزہ رکھ سکتا ہے اور احوط یہ ہے وہ تین دن بدھ،جمعرات، اور جمعہ ہوں۔
• کوئی شخص جسے یہ علم نہ ہوکہ مسافر کاروزہ رکھنا باطل ہے،اگر سفر میں روزہ رکھ لے اور دن ہی دن میں اسے حکم مسئلہ معلوم ہوجائے تو اس کا روزہ باطل ہے۔لیکن اگر مغرب تک حکم معلوم نہ ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔
• اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ وہ مسافر ہے یا یہ بھول جائے کہ مسافر کا روزہ باطل ہوتا ہے اور سفر کے دوران روزہ رکھ لے تو احتیاط کی بنا پر اس کاروزہ باطل ہے۔
• اگر روزے دار ظہر کے بعد سفر کرے تو ضروری ہے کہ احتیاط کی بنا اپنے روزے کو تمام کرے اور اس صورت میں اس روزے کی قضا کرنا ضروری نہیں اور اگر ظہر سے پہلے سفر کرے تواحتیاط کی بنا پر اس دن کاروزہ نہیں رکھ سکتا خصوصاً جب رات ہی سے اس کاارادہ سفر کرنے کا ہو۔لیکن ہر صورت میں حد ترخص تک پہنچنے سے پہلے ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو روزے کو باطل کرتاہو ورنہ اس پر کفارہ واجب ہوگا۔
• اگر مسافر رمضان میں خواہ وہ فجر سے پہلے سفر میں ہویا روزے سے ہو اور سفر کرے اورظہر سے پہلے اپنے وطن پہنچ جائے یا ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وہ دس دن قیام کرنا چاہتا ہو اور اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ رکھے اور اس صورت میں اس روزے کی قضا بھی نہیں اور اگر کوئی ایسا کام کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ قضا کرے۔
• اگر مسافر ظہر کے بعد اپنے وطن پہنچے یا ایسی جگہ پہنچے جہاں دس دن قیام کرنا چاہتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس دن کا روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے۔
• مسافر اور وہ شخص جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ رکھ سکتا ہو اس کے لئے رمضان میں دن کے وقت جماع کرنااور پیٹ بھرکر کھانا اور پینا مکروہ ہے۔
وہ لوگ جن پر روزہ رکھنا واجب نہیں
• جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو یااس کے لئے شدید تکلیف کا باعث ہو اس پر روزہ واجب نہیں ہے لیکن دوسری صورت میں ضروری ہے کہ ہر روزے کے عوض ایک مد طعام یعنی گندم یا جو یاروٹی یا ان سے ملتی جلتی کوئی چیز فقیر کو دے۔
• جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے اگر وہ رمضان کے بعد روزے رکھنے کے قابل ہو جائے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا بجالائے۔
• اگرکسی شخص کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ اسے بہت زیادہ پیاس لگتی ہو اور وہ پیاس برداشت نہ کرسکتا ہو یا پیاس کی وجہ سے اسے تکلیف ہوتی ہو تو اس پر روزہ واجب نہیں۔لیکن روزہ نہ رکھنے کی صورت میں ضروری ہے کہ ہر روزے کے عوض ایک مد طعام فقیر کو دے اور اگر بعد میں روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے توضروری نہیں ہے کہ ان کی قضا بجالائے۔
• جس عورت کے وضع حمل کاوقت قریب ہو،اس کاروزہ رکھنا خود اس کے لئے یا اس کے ہونے والے بچے کے لئے مضر ہو اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ وہ ہر دن کے عوض ایک مد طعام فقیر کو دے اور ضروری ہے کہ دونوں صورتوں میں جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا بجالائے۔
• جو عورت بچے کو دودھ پلاتی ہو اور اس کا دودھ کم ہو خواہ وہ بچے کی ماں ہو یادایہ اورخواہ بچے کو مفت دودھ پلا رہی ہو اگراس کا روزہ رکھنا خود اس کے یا دودھ پینے والے بچے کے لئے مضر ہو تو اس عورت پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ ہر دن کے عوض ایک مد طعام فقیر کو دے اور دونوں صورتوں میں جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا کرنا ضروری ہے۔لیکن احتیاط واجب کی بنا پر یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ بچے کو دودھ پلانے کا انحصار اسی پر ہو۔لیکن اگر بچے کودودھ پلانے کا کوئی اورطریقہ ہو مثلاً کچھ عورتیں مل کر بچے کودودھ پلائیں یا اسے دودھ پلانے میں فیڈر کی مدد بھی لیں تو ایسی صورت میں اس حکم کے ثابت ہونے میں اشکال ہے۔

مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کا طریقہ
• مہینے کی پہلی تاریخ (مندرجہ ذیل)چار چیزوں سے ثابت ہوتی ہے:
1) انسان خود چاند دیکھے
2) ایک ایسا گروہ جس کے کہنے پر یقین یا اطمینان ہو جائے یہ کہے کہ ہم نے چاند دیکھا ہے اور اس طرح ہر وہ چیز جس کی بدولت یقین آجائے یاکسی عقلی بنیاد پر اطمینان حاصل ہوجائے۔
3) دو عادل مرد یہ کہیں کہ ہم نے رات کو چاند دیکھا ہے لیکن اگر وہ چاند کے الگ الگ اوصاف بیان کریں توپہلی تاریخ ثابت نہیں ہوگی اور یہی حکم ہے اگر انسان کو ان کی غلطی کا یقین یااطمینان ہو یا ان دو عادلوں کی گواہی سے دو اور عادلوں کی گواہی یا اس جیسی کوئی چیز ٹکرا رہی ہو مثلاً شہر کے بہت سے لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کریں لیکن دو عادل آدمیوں کے علاوہ کوئی دوسرا چاند دیکھنے کا دعویٰ نہ کرے یا کچھ لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کریں اور ان لوگوں میں سے دو عادل چاند دیکھنے کا دعویٰ کریں اور دوسروں کو چاند نظر نہ آئے حالانکہ ان لوگوں میں دو اور عادل آدمی ایسے ہوں جو چاند کی جگہ کی پہچاننے،نگاہ کی تیزی اور دیگر خصوصیات میں ان پہلے دو عادل آدمیوں کی مانند ہوں، مطلع بھی صاف ہواور کسی ایسی چیز کے ہونے کا احتمال بھی نہ ہوجو انکی دید میں رکاوٹ بن سکے تو ایسی صورت میں دو عادل آدمیوں کی گواہی سے مہینے کی پہلی تاریخ ثابت نہیں ہوگی۔
4) شعبان کی پہلی تاریخ سے تیس دن گزر جائیں جن کے گزرنے پر رمضان کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے اور رمضان کی پہلی تاریخ سے تیس دن گزر جائیں جن کے گزرنے پر شوال کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے۔

• حاکم شرع کے حکم سے مہینے کی پہلی تاریخ ثابت نہیں سوائے یہ کہ اس کے حکم سے یا اس کے نزدیک چاند ثابت ہوجانے سے چاند نظر آنے کا اطمینان حاصل ہوجائے۔
• منجموں کی پیش گوئی سے مہینے کی پہلی تاریخ ثابت نہیں ہوتی سوائے یہ کہ اس کے حکم سے یا اس کے نزدیک چاند ثابت ہو جانے سے چاند نظر آنے کا اطمینان حاصل ہو جائے۔
• چاند کا آسمان پر بلند ہونایااس کا دیر سے غروب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ سابقہ رات چاند رات تھی اور اسی طرح اگر چاند کے گرد حلقہ ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ دوسری رات کا چاندہے۔
• اگر کسی شخص پر رمضان کی پہلی تاریخ ثابت نہ ہو اور روزہ نہ رکھے لیکن بعد میں ثابت ہو جائے کہ گزشتہ رات ہی چاند رات تھی تو ضروری ہے کہ اس دن کے روزے کی قضا کرے۔
• اگر کسی شہر میں مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہوجائے تو دوسرے شہروں میں بھی کہ جن کاافق اس شہر سے متحد ہو مہینے کی پہلی تاریخ ہوتی ہے۔یہاں پر افق کے متحد ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر پہلے شہر میں چاند دکھائی دے تو دوسرے شہر میں بھی بادل کی طرح کوئی رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں چانددکھائی دیتا۔ ایسا اسی صورت میں ہوگا جب دوسرا شہر اگر پہلے کی مغربی سمت میں ہوتو خط عرض کے اعتبار سے ،پہلے شہر سے نزدیک ہو اور اگر مشرقی سمت میں ہوتو دونوں شہروں کا افق ایک ہونے کایقین حاصل ہوجائے،چاہیے یہ یقین اسی طرح حاصل ہوکہ پہلے شہر میں چاند نظر آنے کی مقدار، دونوں شہروں میں سورج غروب ہونے کے درمیانی فاصلے کی مقدار سے زیادہ ہو۔
• جس دن کے متعلق انسان کو عِلم نہ ہو کہ رمضان کا آخری دن ہے یا شوال کا پہلا دن ، اس دن ضروری ہے کہ روزہ رکھے۔ لیکن اگر دن ہی دن میں اسے پتا چل جائے کہ آج پہلی شوال ہے تو ضروری ہے کہ روزہ افطار کر لے۔
• اگر کوئی شخص قید میں ہواور رمضان کے بارے میں یقین نہ کرسکے تو ضروری ہے کہ گمان پر عمل کر لے لیکن اگر قوی گمان پر عمل کر سکتا ہوتو ضعیف گمان پر عمل نہیں کر سکتا اور ضروری ہے کہ قوی ترین احتمال حاصل کرنے کے لئے مکمل سعی و کوشش کرے اور اگر کوئی راستہ نہ ہوتو آخری چارہ کار کے طور پر قرعہ اندازی کرلے، اگر اس احتمال کی قوت میں اضافہ ہورہا ہو اگر گمان پر عمل ممکن نہ ہوتو ضروری ہے کہ جس مہینے کے بارے میں احتمال ہو کہ رمضان ہے اس مہینے میں روزے رکھے لیکن ضروری ہے کہ وہ اس مہینے کو یاد رکھے۔ چنانچہ بعد میں اسے معلوم ہو کہ رمضان یااس کے بعد کا زمانہ تھا تو اس کے ذمے کچھ نہیں ہے۔لیکن اگر معلوم ہو کہ رمضان سے پہلے کا زمانہ تھا تو ضروری ہے کہ رمضان کے روزوں کی قضا کرے۔

حرام اور مکروہ روزے
• عید الفطر اور عید قربان کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔نیز جس دن کے بارے میں انسان کو یہ علم نہ ہوکہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تو اگر وہ اس دن پہلی رمضان کی نیت سے روزہ رکھے تو حرام ہے۔
• اگر عورت کے مستحب(نفلی) روزہ رکھنے سے شوہر کے حق لذت کی حق تلفی ہوتی ہو توعورت کاروزہ رکھناحرام ہے۔یہی حکم واجب غیر معین مثلاًغیر معین نذر کے روزے کا ہے اور اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر روزہ باطل ہو گااور نذر کا روزہ رکھنے سے منع کردے،چاہے اس سے شوہر کی حق تلفی نہ بھی ہوتی ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر مستحب (نفلی) روزہ نہ رکھے۔
• اگر اولاد کا مستحب روزہ۔۔ ماں باپ کی اولاد سے شفقت کی وجہ سے۔۔ ماں باپ کے لئے اذیت کا موجب ہوتو اولاد کے لئے مستحب روزہ رکھنا حرام ہے۔
• اگر بیٹا باپ یا ماں کی اجازت کے بغیر مستحب روزی رکھ لے اور دن کے دوران باپ یا ماں اسے (روزہ رکھنے سے)منع کرے، تو اگر بیٹے کا باپ یا ماں کی بات نہ ماننا فطری شفقت کی وجہ سے اذیت کا موجب ہو تو بیٹے کو چاہیے کہ روزہ توڑدے۔
• اگر کوئی شخص جانتا ہوکہ روزہ رکھنا اس کے لئے ایسا مضر نہیں ہے کہ جس کی پروا کی جائے تو اگرچہ طبیب کہے کہ مضر ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ روزہ رکھے اور اگر کوئی شخص یقین یاگمان رکھتا ہو کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے تو اگرچہ طبیب کہے کہ مضر نہیں ہے تو ضروری ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔
• اگر کسی شخص کو یقین یا اطمینان ہو کہ روزہ رکھنا اس کے لئے قابل توجہ ضرر کا باعث ہے یا اس بات کا احتمال ہو اور اس احتمال کی بنا پر(اس کے دل میں)خوف پیدا ہوجائے تو اگر اس کا احتمال لوگوں کی نظر میں صحیح ہوتو اس کے لئے روزہ رکھنا واجب نہیں بلکہ اگر وہ نقصان انسانی جان کی ہلاکت یا کسی عضو کے ناقص ہونے کا سبب بن رہاہو تو روزہ حرام ہے۔اس کے علاوہ صورت میں اگر بقصد رجاء روزہ رکھ لے اور بعد میں معلوم ہو کہ روزہ اس کے لئے قابل توجہ نقصان کا سبب نہ تھا تو اس کاروزہ صحیح ہے۔
• جس شخص کو اعتماد ہو کہ روزہ رکھنا اس کے لئے مضر نہیں اگر وہ روزہ رکھ لے اور مغرب کے بعد اسے پتا چلے کہ روزہ رکھنا اس کے لئے ایسا مضر تھا کہ جس کی پروا کی جاتی تو احتیاط واجب کی بنا پر اس روزے کی قضا کرنا ضروری ہے۔
• مندرجہ بالا روزوں کے علاوہ اور بھی حرام روزے ہیں جو مفصل کتابوں میں مذکور ہیں۔
• عاشور کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے اور اس دن کا روزہ بھی مکروہ ہے جس کے بارے میں شک ہو کہ عرفہ کا دن ہے یا عید قربان کا دن۔

مستحب روزے
• بجز حرام اور مکروہ روزوں کے جن کاذکر کیا گیا ہے سال کے تمام دنوں کے روزے مستحب ہیں اور بعض دنوں کے روزے رکھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے جن میں چند یہ ہیں:
1) ہر مہینے کی پہلی اور آخری جمعرات اور پہلا بدھ جو مہینے کی دسویں تاریخ کے بعد آئے۔ اگر کوئی شخص یہ روزہ نہ رکھے تو مستحب ہے کہ ان کی قضا کرے اور اگر روزہ بالکل نہ رکھ سکتا ہوتو مستحب ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مد طعام۱۲ نخود سکہ دار چاندی فقیر کو دے۔
2) ہر مہینے کی تیر ہویں،چودھویں اور پندرہویں تاریخ۔
3) رجب اور شعبان کے پورے مہینے کے روزے۔یا ان دو مہینوں میں جتنے روزے رکھ سکیں خواہ وہ ایک دن ہی کیوں نہ ہو۔
4) عید نو روز کے دن
5) شوال کی چوتھی سے نویں تاریخ تک۔
6) ذی قعدہ کی پچیسویں اور انتیسویں تاریخ۔
7) ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ(یوم عرفہ)تک لیکن اگر انسان روزے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوری کی بنا پر یوم عرفہ کی دعائیں نہ پڑھ سکے تو اس دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
8) ۱۸ذی الحجہ یعنی عید غدیر کے دن۔
9) ۴۲ ذی الحجہ یعنی عید مباہلہ کے دن۔
10) محرم الحرام کی پہلی،تیسری اور ساتویں تاریخ۔
11) ۱۷ربیع الاول یعنی رسول اکرم صلی اللہ و آلہ وسلم کی ولادت کے دن ۔
12) ۱۵جمادی الاول۔
13) ۲۷ رجب یعنی عید بعثت حضرت رسول اکرم صلی اللہ و آلہ و سلم کے دن جو شخص مستحب روزہ رکھے اس کے لئے واجب نہیں ہے کہ اسے اختتام تک پہنچائے بلکہ اگراس کا کوئی مومن بھائی اسے کھانے کی دعوت دے تو مستحب ہے کہ اس کی دعوت قبول کرلے اور دن میں ہی روزہ کھول لے خواہ ظہر کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔
وہ صورتیں جن میں مبطلات روزہ سے پرہیز مستحب ہے
• مندرجہ ذیل پانچ اشخاص کے لئے مستحب ہے کہ اگر چہ روزہ سے نہ ہوں،رمضان میں ان افعال سے پرہیز کریں جو روزے کو باطل کرتے ہیں:
1) وہ مسافر جس نے سفر میں کوئی ایساکام کیا ہو جو روزے کو باطل کرتاہو اور وہ ظہر سے پہلے اپنے وطن یا ایسی جگہ پہنج جائے جہاں وہ دس دن رہنا چاہتا ہو۔
2) وہ مسافر جو ظہر کے بعد وطن یا ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وہ دس دن رہنا چاہتا ہو۔
3) وہ مریض جو ظہر کے بعد تندرست ہو جائے اور یہی حکم ہے اگر ظہر سے پہلے تندرست ہو جائے جبکہ وہ کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور اگر ایسا کام نہ کیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ روزہ رکھے۔
4) وہ عورت جو دن میں حیض یا نفاس کے خون سے پاک ہو جائے۔
5) وہ کافرجو مسلمان ہو جائے اور اس نے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو۔
• روزے دار کے لئے مستحب ہے کہ روزہ افطار کرنے سے پہلے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس کا انتظار کر رہا ہو یا اسے اتنی بھوک لگی ہو کہ حضور قلب کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکتا ہوتو بہتر ہے کہ پہلے روزہ افطار کرے لیکن جہاں تک ممکن ہو نماز فضیلت کے وقت میں ہی ادا کرے۔

نوٹ :یہ مسائل آقای سیستانی کی توضیح المسائل میں مسئلہ نمبر 1530سے 1720 تک ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔

مقالات کی طرف جائیے