مقالات

 

مصائب حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

حضرت علی بروز جمعہ ١٣/رجب ، بعثت کے دس سال قبل ، خانۂ خدا( کعبہ )میں پیدا ہوئے اور ١٩/رمضان المبارک ٤٠ہجری کی صبح محراب مسجد کوفہ میں عبد الرحمن بن ملجم نے تلوار کا وار کیا ، ٢١ /رمضان المبارک کی رات اسی سال ٦٣ سال کی عمر میں اپنے گھر کوفہ میں شہادت پائی ،آپ کی قبر شریف نجف اشرف میں ہے ۔

حضرت علی کی پنجسالہ حکومت
جب ٢٧ /ذی الحجہ ٣٥ہجری کو عثمان قتل کئے گئے تو مدینہ کے مسلمانوں نے متفقہ طور سے حضرت علی کی بیعت کر لی ، حضرت نے مسلمانوں کی حکومت سنبھال لی ، آپ کی خلافت و رہبری چار سال نو مہینے تک رہی ۔
آپ نے اس عرصے میں بے شمار دشمن پیدا کر لئے، ہر ایک اپنے اپنے انداز پر آپ کو خلافت سے بر طرف کرنے کی سعی کرنے لگا، یہ تین گروہ تھے:
١۔ قاسطین ... یہ معاویہ اور اس کے حمایتی تھے ۔
٢۔ناکثین ...یہ طلحہ و زبیر اور ان کے حمایتی تھے ۔
٣۔ مارقین ... تقدس کا لبادہ اوڑھے کور دل اور کج فہم( جنہیں خوارج کہتے ہیں ) ۔
پہلے گروہ سے جنگ صفین ہوئی جو حضرت کے خلاف اٹھارہ مہینے تک چلتی رہی ۔
دوسرے گروہ سے جنگ جمل بصرے میں ہوئی انہوں نے حضرت کی حکومت میں بڑی دشواریاں کھڑی کیں ۔
تیسرا گروہ وہی خوارج کا تھا جنہوں نے حضرت کے خلاف شدید داخلی جنگ چھیڑ رکھی تھی ۔ آخر کار امیر المومنین اپنے سپاہیوںکے ساتھ ان سے جنگ کے لئے نکلے ، یہ چار ہزار تھے ، یہ سبھی سر زمین نہروان پر قتل کئے گئے، صرف دس باقی بچے، حضرت علی کی فوج کے صرف ٩ افراد شہادت سے ہمکنار ہوئے ۔ خارجیوں کے وہ دس افراد جو بھاگ گئے تھے انہیں بھگوڑوں میں عبد الرحمن بن ملجم مرادی ( قاتل حضرت علی )بھی تھا ۔ ( ١)

خوارج کی تیاری
خوارج کے بچے کچے لوگوں نے مکے میں پوشیدہ طور سے بات چیت کی اور اس نتیجے پر پہونچے کہ تین افراد کو قتل کیا جانا چاہئے۔ حضرت علی کوفے میں ۔ معاویہ شام میں ۔ عمر و عاص کو مصر میں ۔
ان میں تین خارجیوں عبد الرحمن بن ملجم،ترک بن عبد اللہ ، عمر وبن بکر میں باہم قول و قرار ہوا کہ انیس رمضان المبارک ٤٠ھ ابن ملجم کوفے میں علی کو قتل کرے، ترک بن عبد اللہ شام میں معاویہ کو قتل کرے اور عمرو بن بکر مصر میں عمر و عاص کو موت کے گھاٹ اتارے ۔
ابن ملجم یمن کا باشندہ تھا ، وہ عراق آیا اور جنگ نہروان میں علی کے خلاف موجود تھا ، وہ پوشیدہ طریقے سے کوفہ آیا اور قطام سے ملاقات کی ( بعض روایات میں اس کا نام قطامہ ہے ) قطام کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں قتل ہوئے تھے اس لئے وہ عورت علی سے شدید کینہ رکھتی تھی ، ابن ملجم اس کے جمال پر فریفتہ ہو گیا ۔ اس سے نکاح کا خواستگار ہوا ۔ اس نے کہا کہ میرا مہر تین چیزیں ہیں :
١۔ تین ہزار درہم
٢۔ ایک غلام
٣۔ ایک کنیز ، علی کا قتل
ابن ملجم نے جواب دیا جو کچھ تو نے کہا مجھے منظور ہے سوائے قتل علی کے۔ کیونکہ یہ مجھ سے ممکن نہیں ۔
قطام نے کہا :'' جس وقت علی کسی کام میں مشغول ہوں تم اچانک ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دو ۔ اس طرح تم میرے کلیجے کو ٹھنڈک پہونچائو گے ، پھر تو تمہارے ساتھ زندگی خوشگوار گذرے گی اور اگر تم قتل کر دئیے گئے تو تمہارے لئے آخرت کا ثواب کہیں زیادہ ہے''۔
اس وقت ابن ملجم نے کہا کہ خدا کی قسم! میں اس شہر میں اسی لئے آیا ہوں ۔
قطام اور دوسرے دو افراد جن کے نام وردان بن مجالد اور شبیب بن بجر ہ ہیں، ابن ملجم کے ساتھ معاون ہوئے تاکہ ١٩ رمضان المبارک کو سحر کے وقت مسجد میں اپنے ارادے کو پورا پورے کریں ۔ قطام نے مسجد کے قریب خیمہ ڈال لیا تھا تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ اعتکاف و عبادت میں مشغول ہے اور یہ تینوں اس خیمے میں قطام کے ساتھ موجود تھے۔
قطام نے شمشیر زہر میں بجھائی تھی اسے حوالے کر کے کہا :اسے اپنے کپڑے میں چھپا لو ۔
ان سب نے اپنے ارادے سے اشعث بن قیس کو بھی مطلع کر دیا تھا ، اس نے رائے سے اتفاق کیا اور ان کی مدد کے لئے مسجد میں رات کو آگیا ۔
اس رات حضرت علی کے صحابی حجر بن عدی مسجد میں موجود تھے ۔ انہوں نے سنا کہ اشعث بن قیس نے ابن ملجم سے کہا :جلدی اپنا کام پورا کرو کیونکہ صبح قریب ہوتی جا رہی ہے ۔
حجر نے اشعث کا مطلب سمجھ لیا اور اس سے کہا: اے اندھے ملعون کیا تو علی کو قتل کرنا چاہتا ہے ؟
وہ جلد مسجد سے نکلے اور علی کے گھر پہونچے تاکہ حضرت کو اس واقعے سے مطلع کریں ، از قضا آپ دوسرے راستے سے مسجد تشریف لے گئے،جیسے ہی حضرت مسجد میں داخل ہوئے ۔ ابن ملجم نے آپ پر حملہ کر کے سر پر ضرب لگائی ، جس وقت حجر بن عدی مسجد واپس ہوئے آپ سمجھ گئے کہ موقع ہاتھ سے نکل گیا ہے لوگ کہہ رہے تھے:
قُتِلَ اَمِیرُ المُومِنینَ ( امیر المومنین قتل کر دئے گئے )۔(٢)

شہادت علی کی خبر
اس سے پہلے رسول خدا ۖ نے شہادت علی کی خبر دی تھی ، خود حضرت علی بھی اسے جانتے تھے، بارہا آپ نے اس کی خبر بھی دی اس سلسلے میں چار روایتیں غور طلب ہیں ۔
١۔ ایک دن رسول خدا ۖ نے علی سے فرمایا :
''یا علی اشقی الاولین عاقر الناقة و اشقی الآخرین قاتلک و فی روایة من یخضب ھٰذہ من ھٰذا ''
اے علی گذشتہ امت میں کمینہ ترین اور شقی ترین وہ شخص ہے جس نے ناقۂ صالح کو پئے کیا تھا اور آخرین امت میں کمینہ ترین اور شقی ترین وہ شخص ہے جو تمہیں قتل کرے گا ۔ (٣)
( ایک روایت ہے کہ وہ شخص جو اسے اس سے رنگین کرے گا اشارہ تھا کہ داڑھی کو سر کے خون سے رنگین کرے گا )
٢۔ جس ماہ رمضان کی انیس کوحضرت علی نے ضرب لگی، اس میں آپ ایک رات اپنے فرزند امام حسن کے پاس رہے، ایک رات اپنے فرزند حسین اور ایک رات اپنے داماد عبد اللہ بن جعفر کے ساتھ افطار کیا ، آپ نے تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرمایا۔آپ کے ایک فرزند نے پوچھا :آپ کھانا کم کیوں کھا رہے ہیں ؟
جواب دیا :'' یا بنیّ یاتی امر اللّہ و انا خمیص انّما ھی لیلة او لیلتان '' بیٹا ! امر خدا ( موت ) آنے والی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس حال میں شکم خالی رہے ،میری عمر کی ایک رات یا دو رات باقی رہ گئی ہے ۔ ( ٤)
٣۔ حضرت علی اپنی عمر کی آخری رات گھر سے مسجد کی طرف نکلے تو مرغابیوں نے آپ کو گھیر لیا اور فریاد کرنے لگیں ، لوگ انہیں ہنکاتے تھے تو آپ نے فرمایا : '' اترکواھنّ فانّھنّ نوایح'' ( انہیں چھوڑ دو یہ نوحہ کر رہی ہیں )
٤۔ کبھی آپ نے فرمایا : '' و اللّہ لتخضبنّ ھٰذہ من ھٰذہ '' خدا کی قسم! اس سے یہ خضاب آلود ہو گی ( سر اور ریش اقدس کی طرف اشارہ کیا )۔ (٥)

حضرت علی نے تلوار کھائی
٤٠ھ کی انیس رمضان سحر کا وقت تھا ، حضرت علی معمول کے مطابق مسجد کوفہ میں نماز جماعت کے لئے گھر سے مسجد کی طرف چلے ۔
مسعودی لکھتا ہے کہ اس رات گھر کا دروازہ کھولنا حضرت کے لئے مشکل ہو رہا تھا جو خرمے کی لکڑی کا تھا ، آپ نے دروازے کو اکھاڑ کر الگ رکھا اور یہ شعر پڑھا : ''اُشْدُدحیازیمک .....''
موت کے لئے کمر بستہ ہو جائو کیونکہ موت تمہارا دیدار کرنے والی ہے، اگر موت تمہارے گھر میں آجائے تو اس سے اندوہناک نہ ہو اور بے تابی کا مظاہرہ نہ کرو۔ (٦)
حضرت علی مسجد کی طرف روانہ ہوئے ، معمول کے مطابق دو رکعت نماز پڑھی پھر گلدستہ پر اذان کے لئے تشریف لے گئے ، اس قدر بلند آواز سے اذان کہی کہ تمام ساکنان کوفہ نے سنی ،پھر نیچے اتر کر محراب میں آئے اور نافلہ صبح کی نماز پڑھنے لگے،جس وقت آپ رکعت اول کے پہلے سجدے سے سر اٹھانا چاہتے تھے کہ اس اندھیرے میں ابن ملجم نے آپ کے سر پر ضرب لگائی، اس ضرب سے آپ کا سر پیشانی تک شگافتہ ہو گیا، حضرت علی نے اس وقت فرمایا :
''بسم اللّہ و باللّہ و علی ملة رسول اللّہ فزت و ربّ الکعبة ''( ٧)
پھر آپ نے محراب کی تھوڑی مٹی اٹھائی اور سر کے زخم پر چھڑکتے ہوئے یہ آیت پڑھی ۔
''منھا خلقنا کم و فیھا نعید کم و منھا نخرجکم تارةً اخریٰ '' (٨)
''اس زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پلٹا کر لے جائیںگے اور پھر دوبارہ اس سے نکالیںگے ''۔
جبرئیل نے زمین و آسمان کے درمیان صدائے فریاد بلند کی :
''تھدّمت و اللّہ ارکان الھدیٰ و انطمست اعلام التقیٰ و انفصمت العروة الوثقیٰ قتل ابن عمّ المصطفیٰ قتل علی المرتضیٰ قتلہ اشقی الاشقیاء ''
(خدا کی قسم ہدایت کے ارکان منہدم ہو گئے ، نشان تقویٰ بجھ گیا ، اعتماد بھری رسّی ٹوٹ گئی ، رسول کے چچیرے بھائی قتل کر دئے گئے،علی مرتضیٰ قتل کر دئے گئے ،آپ کو تمام کمینوں میں سب سے بدتر کمینے نے قتل کیا ) ۔(٩ )

ابن ملجم اور اس کے دو ساتھیوں کا واقعۂ فرار
دوسری روایت میں ہے کہ وہ تینوں افراد (ابن ملجم ، شبیب اور وردان ) اسی در میں گھات لگائے بیٹھے تھے جس میں حضرت علی نے نماز پڑھی ۔ حضرت علی جیسے ہی تشریف لائے ان تینوں نے ایک ساتھ آپ پر حملہ کیا ۔ شبیب کی تلوار طاق مسجد پر لگی ۔لیکن ملجم کی تلوار ٹھیک حضرت علی کے سر پر لگی ۔ یہ تینوں بھاگے ۔شبیب اپنے گھر بھاگا ۔ اس کے چچیرے بھائی نے دیکھا کہ اس کے سینے پر ریشم کا کپڑا بندھا ہے جسے قطام نے باندھا تھا ۔ اس سے پوچھا شاید تو نے حضرت علی کو قتل کیا ہے ؟
شبیب چاہتا تھا کہ نہیں کہے لیکن اس کے منھ سے جلدی میں ہاں نکل گیا ۔ اسی وقت چچیرے بھائی نے اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ۔
ابن ملجم دوسری طرف بھاگا ، قبیلہ ہمدان کے ایک شخص ابوذر نامی نے اس کا تعاقب کیا اور چادر کا پھندا ڈال کر اس کو زمین پر دے پٹکا اور اس کی تلوار چھین لی، اسے امیر المومنین کی خدمت میں لائے ، تیسرا شکار بھاگ کر اوجھل ہو گیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قتل کر دیا گیا ۔
امیر المومنین نے ابن ملجم کے بارے میں فرمایا: اگر میں اس کی ضربت سے رحلت کر جائوں تو اس سے قصاص لینا اور اگر میں زندہ بچ گیا تو میں اپنی رائے کے مطابق عمل کروں گا ۔ ایک دوسری روایت کے مطابق فرمایا :
اگر میں رحلت کر جائوں تو اس کے ساتھ قاتلانِ انبیاء جیسا برتائو کرنا (یعنی قتل کرنا اور لاش جلا دینا )
ابن ملجم نے کہا : ''واللّہ لقد ابتعتہ بالف و سمّمتہ بالف فان خاننی فابعدہ اللّہ ''
''خدا کی قسم !میں نے اس تلوار کو ہزار درہم میں خریدا ہے اور ہزار درہم کا زہر بجھایا ہے، اگر اس کے بعد بھی یہ خیانت کرے تو اس کے اوپر تف ہے''۔ (١٠)
حضرت علی کو اسی حال میں کہ آپ خون میں ڈوبے ہوئے تھے ایک گلیم (ایک قسم کا فرش کہ روی یا ریشم کے دھاگے سے بنایا جاتاہے )میں رکھ کر گھر لے آئے ۔
لوگ گروہ گروہ حضرت کے گھر پر آنے لگے اور دیواروں سے سر ٹکرا کر روتے تھے۔
آ پ کے علاج کے لئے کوفے کے اطباء کو بلایا گیا ۔ اثیر بن عمرو جو سب سے ماہر تھا امام کے سرہانے بیٹھا ۔اس نے زخم سر کو دیکھ کر کہا بکری کا پھیپھڑا لایا جائے ۔ فوراً حاضر کیا گیا ۔ اس نے پھیپھڑے سے ایک رگ نکال کر امام کے مغزِ سر میں رکھا اور پھونکا ۔تھوڑی دیر کے بعد باہر آکر اس رگ کو دیکھا تو اس میں مغزِ سر کے ذرات دکھائی دئے اس نے سمجھ لیا کہ ضربت مغزِ سر تک پہونچ گئی ہے ۔ گھر کے تمام افرادمنتظر تھے کہ طبیب کیا کہتا ہے ؟ناگاہ انہوں نے سنا کہ امام سے کہہ رہا ہے ۔ جلد وصیت کیجئے کیونکہ ضربت مغز سر تک پہونچ گئی ہے ۔ اس کا علاج ممکن نہیں ۔(١١)
امام نے جو وصیت فرمائی وہ نہج البلاغہ مکتوب ٤٧میں موجود ہے ۔

حضرت زینب کا بابا سے سوال وجواب
حضرت زینب فرماتی ہیں کہ جس وقت میرے بابا علی ضربت ابن ملجم سے صاحب فراش ہوئے ، میں نے آپ کے چہرے پر موت کی علامت دیکھی ۔ میں نے عرض کی: ام ایمن نے مجھ سے ایسی ایسی کچھ حدیث بیان کی ہے ۔ ( جن میں پنجتن جمع تھے، ناگہاں رسول خدا ۖ غمگین ہو گئے ، آپ سے غم کا سبب پوچھا گیا ، آپ نے فاطمہ ، علی اور حسن و حسین کی شہادت بیان کی ) میں آپ کی زبان سے سننا چاہتی ہوں ۔
حضرت علی نے فرمایا : بیٹی ! حدیث ام ایمن صحیح ہے، گویا میں تجھے اور دختران رسول ۖ کو دیکھ رہا ہوں کہ اسیری کی حالت میں لوگ انتہائی پریشان و حیران اس شہر ( کوفہ ) میں لارہے ہیں،اس طرح کہ تم لوگ ہراساں ہو کہ لوگ جلدی سے ہلاک نہ کر دیں ، پس تم صبر کرنا ،صبر کرنا ...۔
صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا ،اس خدا کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور انسان کی تخلیق کی، ان ایام میں تمام روئے زمین پر تمہارے سوا اور تمہارے دوستوں اور شیعوں کے سواکوئی بھی ولی خدا نہیں ہو گا ۔ رسول خدا ۖ نے مجھے ایسی ہی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ اس وقت جتنے ابلیس ہیں اپنے بچوں اور مددگاروں کے ساتھ تمام روئے زمین پر گھومتے رہیں گے اور ابلیس ان سے کہے گا ،اے شیطانوں کے گروہ ! میں نے آدم کا انتقام ان کے بیٹوں سے لے لیا ۔ ان کی ہلاکت میں بڑی کوشش کی ۔ اب محنت کر کے لوگوں کو ان کے بارے میں شک و تردید میں مبتلا کرواور لوگوں کو ان کی دشمنی پر ابھارتے رہو ۔ (١٢)

سچّا خواب
امام حسن نے انیس رمضان کی سحر کو جبکہ حضرت علی کے سر پر ضربت لگی فرماتے ہیں کہ شب گذشتہ اسی مسجد میں میرے بابا نے مجھ سے فرمایا :
بیٹا ! میں نماز شب پڑھ کے سو گیا، رسول خدا ۖ کو میں نے خواب میں دیکھا تو ان سے اپنی حالت اور جہاد سے اصحاب کی سستی کا شکوہ کیا، آنحضرت ۖ نے مجھ سے فرمایا : ''ادع اللّہ ان یریحک و منھم فدعوت؛خدا سے دعا کرو کہ تمہیں ان کے چنگل سے راحت دے ، میں نے یہی دعا کی ''۔ ( ١٣)

اصبغ بن نباتہ کی حضرت علیؑ سے ملاقات
اصبغ بن نباتہ حضرت کے مخصوص صحابی تھے ، وہ فرماتے ہیں : حضرت علی پر ضربت کے بعد لوگ ہر طرف سے آکر حضرت کے مکان کے گرد جمع ہو رہے تھے اور انہیں ابن ملجم کے قتل ہونے کا انتظار تھا ، امام حسن گھر سے بر آمد ہوئے اور فرمایا : اے لوگو! میرے بابا نے وصیت فرمائی ہے کہ ابن ملجم کے معاملے کو آپ کی وفات تک ملتوی کیا جائے اگر دنیا سے گذر گئے تو اس کا اختیار مجھے ہے و گر نہ وہ خود اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔ اپنے گھروں کو واپس جائو ، خدا تمہاری مغفرت فرمائے ۔ ( اس وقت بابا سے ملاقات ممکن نہیں، آپ کا مزاج تم لوگوں سے ملنے کا متقاضی نہیں )۔
لوگ واپس ہونے لگے لیکن میں ٹھہر گیا ،امام حسن نے فرمایا : اے اصبغ! میں نے بابا کی جو بات کہی وہ تم نے سنی نہیں ؟
میں نے عرض کی:جی ہاں! میں نے سن لی لیکن میں چاہتا ہوں کہ امام سے ملاقات کروں اور ان سے کوئی حدیث سنوں میرے لئے اجازت باریابی حاصل کیجئے ۔
امام حسن گھر میں واپس گئے ۔ تھوڑی دیر بعد باہر آکر مجھ سے فرمایا اندر آجائو ۔ میں اندر داخل ہو گیا اور امیر المومنین کے بستر کے قریب پہونچ گیا میں نے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پر زرد رنگ کا رومال بندھا ہوا ہے لیکن آپ کے چہرے کی زردی اس رومال سے کہیں زیادہ ہے اور زہر کے اثر اور شدت تکلیف سے کبھی ادھر کروٹ بدلتے ہیں اور کبھی ادھر ۔ اسی حالت میں آپ نے مجھ سے ایک حدیث بیان فرمائی ۔(١٤)
کچھ لوگ نقل کرتے ہیں کہ کہا گیا کہ حضرت علی کے لئے اس وقت دودھ بہت مناسب ہو گا ،وہ مساکین کوفہ جن پر حضرت علی بہت زیادہ لطف و کرم فرماتے تھے دودھ کے جام لئے حاضر تھے ۔
توجہ طلب یہ ہے کہ امام حسن جام شیر لئے بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے تھوڑا سا پی لیا اور فرمایا : باقی اپنے قیدی ( ابن ملجم ) کو دیدو ۔ پھر امام حسن سے فرمایا : تمہیں میرے حق کی قسم !جو لباس اور جو کھانا تم پہنتے اور کھاتے ہو وہی ابن ملجم کو بھی پہنانا اور کھلانا ۔ (١٥)
دوسرا بیان ہے کہ امام حسن نے بابا کا سر اپنی گود میں لیا اور رونے لگے ، آنسوئوں کے قطرے حضرت علی کے رخسار پر گرے تو امام نے فرزند کو تسلی دی اور صبر کی تلقین کی ۔ امام حسن نے عرض کی : بابا جان ! کس نے آپ کو ضربت لگائی ؟
آپ نے فرمایا : یہودی بچے عبد الرحمن بن ملجم نے ۔(١٦)
( ایک دوسری روایت ہے کہ آپ کی خدمت میں دو جام پیش کئے گئے ۔ حضرت نے امام حسن سے فرمایا :ایک جام اس قیدی کو دیدو ۔ امام حسن نے وہ جام ابن ملجم کو دیا جس وقت اس ملعون نے حضرت کا یہ احسان دیکھا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ (١٧)

حضرت امام حسینؑ کا گریہ
محمد حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بابا نے فرمایا : مجھے اٹھا کر میرے نماز پڑھنے کی جگہ پر لے چلو۔ آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ پر لے جایا گیا ، لوگ زار و قطار رو رہے تھے اور اس طرح دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے کہ قریب تھا سب کی روح بدن سے نکل جائے ، امام حسین نے بابا کو دیکھ کر سخت گریہ کیا ۔ اسی حالت میں بابا سے عرض کی :ہم آپ کے بعد کیا کریں ؟آپ کی رحلت رسول خدا ۖ کی رحلت کے مانند انتہائی اندوہناک ہے، خدا کی قسم! میرے لئے ناقابل برداشت ہے کہ میں آپ کو اس حال میں دیکھوں۔
حضرت علی نے آواز دی : اے حسین !ذرا میرے قریب آئو ۔ حسین کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری ہوئی تھیں ، آپ کے قریب آئے ، آپ نے حسین کے آنسو پونچھے اور سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا :
''یا بنیّ قد ربط اللہ قلبک بالصبر '' میرے لال! خدا تمہارے قلب کو صبرو استقامت عطا کرے اور تمہیں اور تمہارے بھائی کو عظیم اجر کرامت فرمائے صبر کرو ، گریہ نہ کرو ۔ خداوند عالم اس غم کے بدلے تمہیں اجر عطاکرے ۔
اس کے بعد دوسرے فرزندوں نے بھی آپ کے سرہانے حاضری دی اور روئے ،امام سب کو صبر کی تلقین کرتے رہے ،کبھی کبھی تو خود بھی بے اختیار گریہ کرنے لگتے تھے ۔ ( ١٨)

فرزندان علیؑ؛ آپ کے سرہانے
جس وقت حضرت علی صاحب فراش ہوئے آپ کے ایک ایک فرزند آتے رہے اور پیروں پر سر رکھ کر روتے رہے ، قدم مبارک کا بوسہ لیتے رہے ، وہ کہتے تھے :
بابا جان! ہم آپ کی یہ کیاحالت دیکھ رہے ہیں، کاش ہماری ماں فاطمہ زندہ ہوتیں اور ہمیں دلاسہ دیتیں، کاش ہم رسول خدا ۖ کی قبر کے پاس ہوتے اور اپنا درد دل ان سے کہتے، ہائے ہماری یتیمی اور مسافرت...۔
ان لوگوں کا نالہ و شیون اس قدر جانسوز تھا کہ جو سنتا تھا اس کا کلیجہ پھٹتا تھا ۔
امیر المومنین نے یکایک انہیں اپنی آغوش میں لیا اور چومنے لگے، آپ فرماتے جاتے تھے:صبر کرو۔ہم تمہارے نانا رسول خدا ۖ اور مادر گرامی فاطمہ زہرا کے پاس جا رہے ہیں ، میں نے ان راتوں میں خواب میں دیکھا کہ رسول خدا ۖ اپنی آستین سے میرے چہرے کا غبار صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں :
اے علی جو کچھ تم پر لازم تھا تم بجالائے ۔
اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ نقاب ِجسم سے میری روح نکلنے والی ہے ۔ (١٩)
ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت علی نے بستر سے امام حسین کی طرف دیکھا اور فرمایا :
''یا ابا عبد اللّہ انت شھید ھٰذہ الامة فعلیک بتقویٰ اللہ و الصبر علی بلایہ ''
اے حسین !تم اس امت کے شہید ہو ،تمہارے اوپر لازم ہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور بلائوں پر صبر کرو ۔ (٢٠)

واقعہ دفن جنازۂ حضرت علی
بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی نے اپنی رحلت سے کچھ ساعت قبل امام حسن و حسین سے اس طرح وصیت کی ۔
جب میں دنیا سے رخصت ہو جائوں ، مجھے ایک تابوت میں رکھنا ، پھر گھر سے باہر نکالنا، تابوت کے پائنتی سے اٹھانا سرہانے کا حصہ خود بخود اٹھ جائے گا ،مجھے سر زمین غری ( نجف ) کی طرف لے جانا وہاں سنگ سفید بہت زیادہ درخشاں دیکھو گے وہیں کھودنا ،ایک تختی دیکھو گے اسے اٹھانا اور وہیں مجھے دفن کر دینا ۔
حضرت علی نے٢١ رمضان کی پچھلی رات میں شہادت پائی آپ کے جنازے کو امام حسن نے اپنے بھائی حسین کی مدد سے غسل دیا ، حنوط اور کفن سے فراغت کر کے نماز جنازہ پڑھی ۔ پھر تابوت میں رکھ کر پائنتی اٹھایا ۔ سر ہانے کا حصہ خود بخود بلند ہو گیا اور امام حسن ،امام حسین ،عبد اللہ بن جعفر اور محمد حنفیہ بس یہی چار افراد رات کے وقت جنازے کو سر زمین نجف پر لے آئے ، وہاں انہوں نے چمکتا ہوا سنگ سفید دیکھا ، وہیں کھودا تو ایک سفید تختی نظر آئی جس پر یہ عبارت تحریر تھی :'' یہ وہ قبر مطہر ہے جسے جناب نوح نے حضرت علی کے لئے ذخیرہ کیا ہے '' چنانچہ آپ کے پیکر ملکوتی کو وہاں سپرد خاک کیا گیا اور زمین کو ہموار کر کے سب لوگ واپس کوفہ پلٹ گئے ۔(٢١)
صادق آل محمد سے روایت کی گئی ہے کہ امیر المومنین نے امام حسن سے فرمایا : میرے لئے چار مختلف مقامات پر قبریں کھودنا،١۔ مسجد کوفہ میں، ٢۔ حبہ (صحن مسجد یا میدان کوفہ )میں، ٣۔ نجف میں ،٤۔ جعدہ بنت ھبیرہ کے گھر میں ۔تاکہ میری قبر مخفی رہے اور کسی کو اطلاع نہ ہو ۔ (٢٢)
یہ وصیت اس لئے کی گئی تھی کہ آپ کی قبر اقدس دشمنان اہل بیت کی نظر وں سے پوشیدہ رہے اورکوئی دشمن آل محمد آپ کی قبر کو کھود کر توہین و اہانت نہ کرسکے ۔ بعض روایتوں کے مطابق امیر المومنین کی قبر اطہر حضرت امام صادق کے زمانۂ امامت تک اور ایک قول کے مطابق ہارون الرشید کے زمانہ تک مخفی رہی ۔

خطبۂ امام حسن
پورا شہر کوفہ سوگواری میں ڈوبا ہوا تھا ، ہر گھر ماتم کدہ بن چکا تھا ، لوگ ٹولیوں کی صورت میں تعزیت پیش کرنے کے لئے خانۂ امام کی طرف بڑھ رہے تھے اور امام حسن ،امام حسین اور خاندان علی کے دوسرے افراد کو تسلیت پیش کر رہے تھے ،۔ لوگ مسجد کوفہ میں جمع ہوئے ۔ امام حسن نے لوگوں کے سامنے تقریر کی ۔
بعد ثنائے الٰہی فرمایا : اے لوگوں اس رات ایسا شخص دنیا سے گذر گیا کہ گذرے لوگ اس پر سبقت نہ لے جا سکے نہ آئندہ لوگ اس تک پہونچ سکیں گے ۔ وہ رسول خدا ۖکا علمبردار تھا ۔جس کے دا ہنی طرف جبرئیل اور بائیںطرف میکائیل ہوتے تھے ۔ اس نے میدان سے کبھی فراراختیار نہیں کیا ۔بس خدا نے اس کے نصیب میں فتح و کامرانی لکھ دی تھی ۔ خدا کی قسم اس نے دنیا کے درہم و دینار سے صرف سات سو درہم چھوڑے ہیں ۔ وہ خود اسی کا حصہ تھا اور وہ چاہتا تھا کہ گھر والوں کے لئے ایک غلام خریدے ۔ خدا کی قسم اس نے اسی رات انتقال کیا جس رات یوشع بن نون وصی موسیٰ نے وفات پائی تھی ، اسی رات عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی شب قرآن اترا ۔(٢٣)

نابینا نے قبر علیؑ پر جان دی
روایت ہے کہ جس وقت امام حسن و حسین دفن پدر سے واپس ہو رہے تھے ، دروازۂ کوفہ کے نزدیک ویران گوشے میں ایک نابینا کو دیکھا وہ سر جھکائے نالہ و فریاد کر رہا تھا، اس سے پوچھا : تم کون ہو؟ کیوں اس طرح نالہ و فریاد کر رہے ہو؟ اس نے کہا :میں مفلس ، غریب اور نابینا ہوں، میرا نہ کوئی مونس ہے نہ غمخوار ۔ میں ایک سال سے اس شہر میں ہوں،روزانہ ایک مہربان مرد میرے پاس آتا تھا اور میرا حال پوچھتا تھا، مجھے کھانا پہونچاتا تھا ، وہ میرا بڑا مونس اور بڑا مہربان تھا لیکن آج تین روز ہوئے وہ میرے پاس نہیں آیا ہے، نہ میرا حال پوچھتا ہے ۔
پوچھا : اس کا نام جانتے ہو؟
بولا: نہیں
پوچھا:تم نے اس سے نام پوچھا تھا ؟
بولا: میں نے پوچھا تھا ، لیکن کہتا تھا تمہیں نام سے کیا کام ۔ میں تو صرف خدا کی خوشنودی کے لئے تیری سر پرستی کرتا ہوں ۔
پوچھا : اے مسکین ! اس کی شکل و صورت کیسی تھی ؟
جواب دیا: میں نابینا ہوں ، نہیں جانتا شکل و صورت کیسی تھی ۔
پوچھا :اس کے کردار و گفتار کی کچھ نشانی بتائو گے ؟
بولا : ہمیشہ اس کی زبان پر ذکر خدا رہتا تھا ، جس وقت وہ تسبیح و تہلیل کرتا تھا ، زمین و زمان ، در و دیوار اس کے ہم آواز ہو جاتے تھے ۔ جب بھی میرے پاس بیٹھتا تھا کہتا تھا:
''مسکین جالس مسکیناً غریب جالس غریباً''
مسکین ،مسکین کے پاس بیٹھا ہے ، غریب ،غریب کے پاس بیٹھا ہے ۔
حسن و حسین ، محمد حنفیہ اور عبد اللہ بن جعفر نے اس اجنبی مہربان کو پہچان لیا ، اس کی طرف دیکھ کر کہا :
تم نے جو یہ پہچان بتائی ، یہ میرے بابا علی ہیں ۔
نابینا نے کہا : تو ان کو کیا ہوا کہ وہ آج تین دن سے نہیں آئے ؟
انہوں نے کہا : اے مسافر ،اے مسکین ،ایک بد بخت نے ان کے سر پر ضربت لگائی ، اب وہ اس دنیا سے جا چکے ،ہم لوگ ابھی انہیں دفن کر کے آرہے ہیں ۔
مسکین یہ سن کر تڑپ اٹھا اور چیخ ماری ،زمین پر لوٹنے لگا ، سر پر خاک ڈال کر کہنے لگا:
ہائے میں کس قابل تھا کہ امیر المومنین میری سرپرستی فرماتے تھے، انہیں کیوں قتل کر دیا گیا ؟
حسن و حسین نے ہر چنداسے تسلی دی لیکن اسے چین نہ ملا ، اس نے حسن و حسین کا دامن تھام لیا اور کہنے لگا: تمہیں تمہارے جد کی قسم !تمہیں تمہارے بابا کی روح کی قسم !مجھے ان کی قبر پر لے چلو۔
امام حسن نے اس کا داہنا ہاتھ تھاما اور حسین نے بایاں اور اسے قبر علی پر لے آئے ۔ اس نے اپنے کو قبر علی پر گرادیا ، اور بے اختیار گریہ و زاری کرنے لگا اور کہا :'' خدایا مجھے اس پدر مہربان کے فراق کی تاب نہیں ،تجھے اس صاحب قبر کا واسطہ میری بھی جان لے لے ۔''
اس کی دعا قبول ہوئی اور سی وقت وہیں مر گیا ۔
امام حسن و حسین اس حادثے پر بہت زیادہ روئے ، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے جنازے کو غسل و کفن دے کر نماز پڑھی اور اسی روضۂ پاک کے گرد دفن کر دیا ۔ ( ٢٤)

خوارج کو دنیا میں سزا ملی
اس سے پہلے تذکرہ کیا گیا کہ جس وقت ابن ملجم حضرت علی کے قتل کے ارادے سے کوفہ آیا تو قطامہ اس کی معاون ہو گئی ، دو آدمی اور بھی اس کے ساتھ ہو گئے جن کے نام تھے شبیب اور وردان ۔
جب حضرت علی کی شہادت واقع ہو گئی اور آپ کو دفن کر دیا گیا، اسی ٢١ رمضان کو جبکہ آپ کے تمام بیٹے کوفے میں جمع تھے، ام کلثوم نے امام حسن کو قسم دی کہ بھیا ایک لمحے کے لئے بھی ابن ملجم کو مہلت نہ دی جائے ،زندہ نہ چھوڑا جائے ، خیال رہے کہ امام حسین چاہتے تھے کہ ابن ملجم کا معاملہ تین روز تک ٹالاجائے ۔
امام حسن نے ام کلثوم کو اثبات میںجواب دیا ،اسی وقت اصحاب اور انصار کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا، سب نے ایک رائے ہو کر کہا کہ ابن ملجم کو اسی جگہ جہاں مولا کو ضربت لگی تھی قتل کر دیا جائے لیکن کس طرح قتل کیا جائے ؟ اس کے بارے میں سب کی الگ الگ رائے تھی ، امام حسن نے فرمایا :
میں بابا کی وصیت پر عمل کروں گا ،جنہوں نے فرمایا تھا اسے صرف ایک صربت لگانا تاکہ مر جائے اور اس کی لاش جلا ڈالنا ۔
( واضح رہے کہ انبیاء و اوصیاء کے قاتل کو قتل کے بعد جلا ڈالنے کا حکم ہے )
پھر امام حسن نے حکم دیا کہ ابن ملجم کو وہیں لایا جائے جہاں حضرت علی کو اس نے ضربت لگائی تھی ، سارے لوگ جمع ہو گئے اور اس پر لعنت اور پھٹکار برسانے لگے ، امام حسن نے اس کے سر پر ضربت لگائی اور وہ واصل جہنم ہو گیا ، اور اس کے بعد اس کی لاش جلا ڈالی ۔
اس کے بعد لوگ قطامہ کے سراغ میں نکلے اور اسے قتل کر دیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے پھر پشت کوفہ لے جا کر اس کی لاش جلا ڈالی اور اس کا گھر ملیا میٹ کر دیا ۔
اور وہ دو افراد جو ابن ملجم کے معاون تھے ۔ ( وردان و شبیب ) وہ اسی ضربت کی صبح لوگوں کے ہاتھوں قتل کئے جا چکے تھے ۔(٢٥)

حوالجات
١۔تتمة المنتہیٰ ص٢٢،٢٣
٢۔ تتمة المنتہیٰ الآمال ،ص٢٤،اعلام الوریٰ ،ص٢٠١
٣۔ نور الثقلین ،ج٥،ص ٥٨٧
٤۔ترجمہ ارشاد شیخ مفید ،ج١،ص ٣٢١
٥۔ ترجمہ ارشاد شیخ مفید،ج١،ص٣٢١
٦۔ انوار البہیہ قمی ص ٦١
٧۔.حضرت علی نے کتنی جنگیں فتح کیں ، کیسے کیسے عظیم کارہائے نمایاں انجام دئے فزت و ربّ الکعبہ نہ کہا ۔ لیکن شہادت کے وقت ہی یہ جملہ کہا
٨۔سورۂ طٰہ ٥٥
٩۔ منتہیٰ الامال،ج١،ص١٢٦،١٢٧
١٠۔اعلام الوریٰ ص ٢٠١،٢٠٢،بحار الانوار ،ج٤٢،ص ٢٣٩
١١۔تذکرہ ابن جوزی ،ص١٠١ ،١٠٥،کامل بن اثیر۔ج٣،ص١٩٤
١٢۔ کامل الزیارات ،ص٢٥٧،٢٦٦۔بحارالانوار ،ج٤٥،ص ١٨٣
١٣۔عقد الفرید ،ج٤،ص ٣٦١
١٤۔انوار البہیہ ص٦٢،٦٣
١٥۔ بحار الانوار ،ج٤٢،ص٢٨٩
١٦۔بحار الانوار ج ٤٢ص٢٨٣،٢٨٤
١٧۔عنوان الکلام ص١١٨
١٨۔بحار الانوار ،ج٤٢،ص ٢٨٨
١٩۔ روضة الشہداء ،ص١٧٠
٢٠۔ کبریت الاحمر ص٢٧٠
٢١۔اعلام الوریٰ ،ص٢٠٢ ۔اصول کافی ،ج١،ص ٤٥٨
٢٢۔منتہیٰ الآمال ،ص١٣٢
٢٣۔ اصول کافی ،ج١،ص ٤٥٧،عقد الفرید ،ج٤،ص ٣٦١
٢٤۔روضة الشہداء ،ص١٧٢،١٧٣
٢٥۔ بحار الانوار ، ج٤٢،ص ٢٩٧،٢٩٨
نقل از : مصائب آل محمد ، تالیف : آقای محمد محمدی اشتہاردی ؛ ترجمہ: مولانا سید علی اختر رضوی گوپال پوری مرحوم

مقالات کی طرف جائیے