مقالات

 

سیرت رسول اعظمؐ کی اہمیت؛ قرآن کی روشنی میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

قرآن گذشتہ تمام آسمانی کتابوں کا عطر ہے ،جس طرح موسم بہار میں پھول کھلتے ہیں ،ہرطرف رنگ و بو کا ماحول چھا جاتاہے اور یہ وقتی رنگ و بو کا ماحول ایک مدت میں ختم ہوجاتاہے لیکن عطر ساز اس محدود رنگ و بو کو عطر بناکر ابدی شکل عطا کردیتاہے اسی طرح خداوندعالم نے گذشتہ شریعتوں اور آسمانی کتابوں کو ابدی شکل دے کر اس کا عطر سیرت محمدیؐ اور قرآن کی صورت میں نازل فرمایاہے ۔
اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مقام شناخت میں یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں جس طرح قرآن کی صحیح شناخت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور اہل بیت کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت کی شناخت قرآن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہم سیرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے قرآن کے دامن سے متمسک ہوں۔قرآن مجید نے سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے متعلق تفصیلی انداز میں گفتگو کی ہے اور تقریباً آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو مختلف پیرایہ میں بیان کیاہے ،کبھی آپ کی انفرادی زندگی کو مورد بحث قرار دیا تو کبھی اجتماعی حیات پر قدرے تفصیل سے بحث کی ہے یا پھر کبھی کلی بحث کے ذریعہ آپ کی زندگی کو مکمل طور سے اپنے لئے اسوہ اور نمونہ بنانے کی تاکید کی ہے۔
قرآن نے آپ کی زندگی کے ہر ہر قدم پر وحی کا پہرہ لگا کر آپ کی سیرت کو خطا ونسیان سے منزہ قرار دیاہے ،خدا کا ارشاد ہے : '' اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ،اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے اسے نہایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے'' ۔(١)
قرآن مجید کی یہ آیت صرف رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے زبان و بیان کے معتبر ہونے کی سند نہیں ہے بلکہ آپ کی منطق گفتار ،سنت و رفتار اور آپ کے حسن سیرت پر بھی الہی سند ہے کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ انسان کی زبان اس کے دل کی ترجمان ہوتی ہے عموماً انسان وہی بات اپنی زبان کے ذریعہ لوگوں کے سامنے بیان کرتاہے جو اس کی نگاہ میں پسندیدہ ہوتی ہیں،تاریخ عرب گواہ ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے اسلامی آئین و معارف کی نشرواشاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا اور اپنی زندگی کی سب سے قیمتی اور محبوب شیٔ ان ہی معارف و حقائق کو قرار دیا تھا انہوں نے ابتدا ئے حیات ہی سے اپنے انسانی میلانات و رجحانات کا گلاگھونٹ کر اسلامی معارف کو اہمیت دی ۔ظاہر ہے جو انسان دین و شریعت کے سلسلہ میں اتنا حساس ہو اسی کی زندگی اور زندگی کا ہر قدم ،ہر لمحہ اتباع کے قابل ہو سکتاہے ۔
اس کے علاوہ خداوندعالم نے بہت سی آیات میں اس بات پر زور دیاہے کہ سیرت و سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ ہر جہت سے مسلمانوں کے لئے حجت کی حیثیت رکھتی ہے ،یہاں اس سلسلے کی بعض آیات کو اختصار کے ساتھ ذکر کیاجارہاہے :
١۔ خدا وندعالم کا ارشاد ہے :''کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرواب اگر کوئی اس سے روگردانی کرے گا تو(سن لے) خدا کافرین کو ہرگز دوست نہیں رکھتا'' ۔(٢)
اس آیت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی اطاعت سے روگردانی کو کفر سے تعبیر کیاگیاہے یعنی اگر کوئی شخص اعتقادات کے اعتبار سے روگردانی کا مظاہرہ کررہاہے تو وہ عقیدہ میں کفر کا مرتکب ہوا ہے اور اگر کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل تمام باتوں کا اعتقاد رکھتاہے لیکن عمل میں روگردانی کا مظاہرہ کرے تووہ عملی میدان میں کفر کا مرتکب ہوا ہے ۔
٢۔خدا وندعالم ارشاد فرماتاہے : ''اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو کہ شاید رحم کے قابل ہو جاؤ''۔(٣)
رحمت خدا کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کا تعلق صرف دنیا سے نہیں ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان قدم قدم پر خداوندعالم کی وسیع رحمت کا شدید محتاج ہے لیکن خدا کی رحمت اسی وقت انسانوں کے شامل حال ہو سکتی ہے جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت کی پوری طرح پیروی کریں جن کی زندگی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے خالی ہے ان کی رحمت خدا سے امید فضول ہے ۔
٣۔خداوندعالم فرماتاہے :"اور جو اللہ و رسول کی اطاعت کرے گا خدا اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور در حقیقت یہی سب سے بڑی کامیابی ہے" ۔(٤)
٤۔خدا فرماتاہے :"اور جو خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا خدا اسے جہنم میں داخل کر دے گا اور وہ وہیں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے"۔ (٥)
٥۔خدا وندعالم کا ارشاد ہے :"ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ،رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میںسے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا و رسول کی طرف پلٹادو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے"۔ (٦)
ان آیات سے معلوم ہوتاہے کہ جس طرح خداوندعالم کے فرمان کی پیروی اور اطاعت واجب ہے اسی طرح رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی پیروی بھی لازم و واجب ہے اس لئے کہ رسول کی اطاعت در اصل خدا کی اطاعت ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے حوالے سے جو کچھ دین کی ضروریات ،اسلام کے قوانین ،اعتقادی ،تربیتی ،اقتصادی ،سیاسی یا کسی بھی دوسرے دائرے میں بیان ہوئی ہیں مسلمانوں کے لئے ان تمام چیزوں پر عمل کرنا واجب ہے کیونکہ آپ کی سیرت اسوہ اور نمونہ ہے۔
خداکا ارشاد ہے :"مسلمانو!تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونۂ عمل ہے جو اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتاہے" ۔(٧)

حوالہ جات
١۔نجم ٣۔٤
٢۔آل عمران ٣٢
٣۔آل عمران ١٣٢
٤۔نساء ١٣
٥۔نساء ١٤
٦۔نساء ٥٩
٧۔احزاب ٢١

مقالات کی طرف جائیے