مقالات

 

سیرت علوی، آج کی ضرورت

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

(بمناسبت چھاردہ صد سالہ شہادت امیر المومنین ؑ)
ذرا اپنے اطراف کا جائزہ لیجئے ، اپنے معاشرہ پر ایک نظر ڈالئے اور حالات و ماحول کا دقت نظر سے مطالعہ کیجئے –– باہمی کش مکش، تقابل ،افراتفری،لوٹ مار اور چیخ پکار کے ہمارے دور میں وقتاً فوقتاً کئی طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ، دل کو موہ لینے والی آوازیں –– جو بنی نوع انسان کے لئے امن و آشتی اور سکون و اطمینان کا مژدہ سناتی ہیں ، جنہیں سن کر انسانیت جھوم اٹھتی ہے اور اطراف و اکناف سے تحسین و آفرین کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں ۔ ایسے پیغام کو نہ صرف سراہا جاتاہے بلکہ ایسا پیغام دینے والے کو امن و سلامتی کا عظیم علمبردار کہاجاتاہے ۔لیکن کیا تصویر کے دونوں رخ یہی ہیں جسے پیش کیاجاتاہے …؟جب ایک صاحب عقل و فہم ان پیغامات کی حقیقت اور ان کے قائلین کی شخصیات پر گہری نظر ڈالتا ہے تو ان پیغامات اور قائلین کی شخصیات کے طرز عمل اور افعال و اعمال میں گہرا تضاد نظر آتاہے اور یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان نام نہاد مصلحین کا مطمع نظر کسی خاص گروہ یا مخصوص اقوام پر شفقت و رحمت ہے ۔ظاہر ہے اس جانبدارانہ بیان کی وجہ سے جہاں ایک خاص گروہ کو وقتی فائدہ حاصل ہوتاہے وہیں دوسرے بہت سے لوگ ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہوتے ہیں ، بلکہ کبھی کبھی اس ایک بیان کی وجہ سے ہزاروں جانیں خاک و خوں میں غلطاں نظر آتی ہیں اور اس طرح جنگ و خونریزی کا بازار گرم ہوجاتاہے ۔اس صورت حال سے ایک قوم نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور عالم انسانیت پریشان اور بدحال ہوجاتاہے۔ایسے میں ان کو ایک ایسی ذات کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے جس کی سیرت اور جس کے کردار و عمل کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دے کر اپنی زندگی کو حسین اور خوشگوار بناسکیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ تاریخ میں نمونے نہیں ہیں ، نہیں بلکہ تاریخ کے دامن میں بہت سے نمونے ہیں لیکن ان کے کردار کا دائرہ محدود ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبہ کے لئے نمونۂ عمل نہیں بن سکتے ؛ مثال کے طور پر نوشیروان عادل ایک انصاف پرور بادشاہ کی حیثیت سے کافی شہرت رکھتاہے مگر وہ سلاطین و حکام کے لئے نمونہ ہے رعایا کو کس طرح مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہنا چاہئے ، یہ سبق نوشیرواں کی سیرت سے حاصل نہیں ہوسکتا ، اسی طرح حاتم کا نام سخاوت و بخشش کے اعتبار سے بہت مشہور ہے لیکن وقت آنے پر قوم و ملت کے لئے لڑائی کس طرح لڑی جاسکتی ہے اور مظاہرۂ شجاعت کے ذریعہ حق کی سربلندی کے لئے اقدام کیسے کیاسکتاہے اسے حاتم کی زندگی میں تلاش کرنا قطعی بے کار ہے ––– ممکن ہے تاریخ کے اوراق سے ہر صفت کے لئے ایک موزوں انسان کا نام پیش کردیا جائےلیکن وہ جامع صفات نمونۂ عمل قرار نہیں پاسکتا، اس مضطرب اور پریشاں حال انسانیت کو ایسے راہنما اور آئیڈیل کی ضرورت ہے جو ایک اکیلا ان تمام انسانی اوصاف و صفات کامجموعہ ہو ، جس نے زندگی کی ہر منزل میں قدم رکھا ہو اور ہر راستے میں اپنے قدم کے نشان چھوڑے ہوں ––– تاریخ عالم و آدم میں ڈھونڈنے پر ایسی ہستی اگر ہمیں نظر آتی ہے تو وہ صرف اور صرف حضرت علی بن طالب ؑکی ذات ہے جسے ہر اعتبار سے ہر عصرو عہد کا انسان اپنے لئے نمونۂ عمل اور اسوہ قرار دے سکتاہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علیعلیہ السلام ایک کامل انسان تھے ، آپ تمام انسانی فضائل و خصوصیات کے حامل تھے ، علم و حکمت ، رحم و کرم ، فداکاری و انکساری ، تواضع و فروتنی ، ادب و مہربانی ، حلم و بردباری ، غرباپروری ، عدل و انصاف ،جود و سخا ، ایثار و قربانی اور شجاعت و قناعت وغیرہ جیسے تمام پسندیدہ فضائل و کمالات آپ کی ذات میں جمع تھے۔محققین نے حضرت علیعلیہ السلام کو میدان جنگ میں ایک ماہر شمشیر زن ، شہراور اس کے امور کی دیکھ بھال میں نہایت حساس ذمہ دار اور گھریلو زندگی میں انتہائی شفیق و مہربان اور منظم فرد کی حیثیت سے دیکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیعلیہ السلام زندگی کے تمام شعبوں میں ایک مکمل انسان اور اعلیٰ ترین نمونہ تھے ۔
حضرت علیؑ کی ذات جامع اضداد تھی ،بہت سی ایسی صفتیں آپ کی ذات میں جمع تھیں جو عام طور سے ایک انسان میں ایک ساتھ نظر نہیں آتیں جیسے عبادت و شجاعت ؛ لیکن آپ بہترین عابد و زاہد بھی تھے اور شجاع ترین انسان بھی۔
حضرت کی عبادت امتیازی اور انفرادی شان کی حامل تھی ، آپ نے صرف عبادت نہیں کی بلکہ رہتی دنیا تک کے بندگان خدا کو حقیقی عبادت وریاضت کا واقعی معیار عطا فرمایاہے ؛ إِلَهِي‏ مَا عَبَدْتُكَ‏ خَوْفاً مِنْ عِقَابِكَ وَ لَا طَمَعاً فِي ثَوَابِكَ وَ لَكِنْ وَجَدْتُكَ أَهْلًا لِلْعِبَادَةِ فَعَبَدْتُك‏"خدایا! میں نے تیری عبادت نہ جہنم کے خوف سے کی اور نہ ہی جنت کی لالچ میں بلکہ میں نے تجھے عبادت کے لائق پایا اسی لئے تیری عبادت کی"۔
حضرت کی زندگی صبر و شکر کا مجموعہ تھی ، شب ہجرت سے شہادت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا تک آپ کتنے مصائب میں مبتلا ہوئے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ، وفات رسولؐ کے بعداسلام کے تحفظ کے لئے آپ نے جس صبر کا مظاہرہ فرمایااس کی نظیر پوری تاریخ بشریت میں ڈھونڈھے نہیں ملتی؛ بس آپ کا یہ جملہ ہر عہد کے لئے لمحۂ فکریہ ہے : فَرَأَيْتُ‏ أَنَ‏ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى‏ فَصَبَرْتُ وَ فِي الْعَيْنِ قَذًى وَ فِي الْحَلْقِ شَجً أَرَى تُرَاثِي‏ نَهْبا " میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اور گلے میں رنج و غم کے پھندے تھے ، میں اپنی میراث کو لٹتے ہوئے دیکھ رہاتھا"۔
حضرت کا اخلاق و کردار بے نظیر تھا اس لئے کہ جس رسول گرامی کےاخلاق و کردار پر خداوندعالم نے "انک لعلی خلق عظیم" کی مہرلگائی ہے اسی رسولؐ نے امیر کائنات کے اخلاق کے متعلق فرمایا: یا علی !اشبھت خَلقی و خُلقی و انت من شجرتی التی انا منھا " اے علیؑ! تم خلقت و اخلاق میں بالکل میری شبیہ ہو ، تم اسی درخت سے ہو جس سے میں ہوں ۔
حضرت کی شجاعت و فدکاری کے ڈھیڑوں نمونے تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں ، جس کے تناظر میں یہ کہاجاسکتاہے کہ اگر علی ؑکی تلوار نہ ہوتی تو دین مبین اسلام ، دشمنوں کی دشمنی و عداوت کے تیز و تند آندھیوں میں کب کا فنا ہوجاتا ۔ لیکن شجاعت علوی کی امتیازی شان یہ ہے کہ جس طرح آپ جہاد اصغر کے ماہر تھے اسی طرح جہاد اکبر پر بھی بھرپور تسلط رکھتے تھے ؛ جی ہاں! رضائے الٰہی کے لئے دشمن کے سینے سے اتر آنا …یہ شجاعت علوی کاہی کارنامہ ہوسکتاہے ۔
حضرت علیؑ کی شخصیت اور آپ کے کردار کا ایک امتیازی پہلو آپ کی عدالت پسندی ہے ، تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ اس طرح عدالت کے نفاذ پر پابند تھے کہ آپ کی ذات عین عدالت نظر آتی ہے۔جی ہاں !جو شخص اپنے حقیقی بھائی کے لئے بھی بیت المال کے سلسلہ میں کسی نرم گوشہ کا مظاہرہ نہ کرے اس کی ذات کو عین عدالت کہنا بجا طور پر صحیح ہے بلکہ خود لفظ عدالت کو آپ پر ناز تھا۔
الغرض–– حضرت کی ذات میں تمام تر انسانی فضائل و کمالات موجود تھے ، ایک انسان کے لئے جو صفات حمیدہ ضروری ہیں وہ آپ کی ذات و شخصیت میں بدرجۂ اتم موجود تھیں ،ایسی کوئی صفت نہیں جو انسان کے لئے لازم ہواور وہ مولائے کائنات میں نہیں پائی جاتی ہو ۔ایسی ہی جامع سیرت ہر عہد کے انسانوں کے لئے اسوۂ حسنہ اور مکمل نمونۂ عمل بن سکتی ہے ۔
اس سال امیر المومنین حضرت علی ؑکی شہادت عظمیٰ کو چودہ سو سال مکمل ہورہے ہیں ، الحمد للہ!پوری دنیا میں چودہ سو سالہ شہادت علویؑ کی یاد منانے کی تیار ی ہورہی ہے ، یہ خوش آیند بھی ہے اور وقت کی اہم ترین ضرورت بھی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم عاشقان حیدر کرارؑ کے لئے ضروری ہے کہ اس موقع سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی ذات کو سیرت علویؑ کے گوناگوں پہلوؤں سے آراستہ کریں اور اس سیرت کے آئینہ میں اپنے مسائل و مشکلات کو حل کریں ۔حضرت کی سیرت آئینہ کی طرح شفاف ہے جس میں ہم اپنے اندر موجودنقائص و عیوب کو آسانی کے ساتھ تلاش کرسکتے ہیں لیکن صرف تلاش کرنا ہی کافی نہیں ہے جب تک ہم انہیں دور کرنے کی کوشش نہ کریں اس لئے کہ آئینہ صرف نقائص کی طرف متوجہ کرتاہے اب اگر ہم متوجہ ہوکر بھی کوئی اقدام نہ کریں اور اپنے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے لئے تگ و دو نہ کریں تو پھر اپنی بدبختیوں کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے ۔
آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی محبت و الفت کا حقیقی ثبوت دیتے ہوئے اپنی سیرت کو محبوب کی سیرت کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں گے کہ دیکھنے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ ہاں! یہ سیرت علویؑ کی پیروی کرنے والا ہے اور اس کی شخصیت میں سیرت علویؑ کی جھلکیاں پائی جاتی ہیں ۔

والسلام علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مقالات کی طرف جائیے